Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مکہ شریف کی مساجد

مسجد عائشہ:

مسجد حرام سے شمال کی جانب چھ یا سات کلومٹرب وادی تنعیم مںا واقع ہے، یہاں سے معتمرین عمرہ کا احرام باندھتے ہںک۔

مسجد جن:

یہ مسجد جنت المعلیٰ کے قریب واقع ہے۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز فجر مں قرآن پاک کی تلاوت سن کر یہاں جنات مسلمان ہوئے تھے۔ ایک جن صحابی نے اپنے بھائی جن (جو کہ گستاخ رسول تھا) کو قتل کر کے حضور علیہ الصلوٰة والسلام کو اسی جگہ اطلاع کی تھی۔

مسجد غم یا الاجابہ:

وادی محصب کے پاس محلہ معابدہ مںا واقع ہے، نبی کریم علہا الصلوة والتسلمک نے اپنے حج مںد منیٰ سے مکہ واپس آتے ہوئے اس جگہ کچھ دیر آرام کال تھا۔ اس مسجد کے قریب گورنر مکہ اور وزارت داخلہ کا دفتر واقع ہے۔

مسجد ذی طوی:

تنعیم کے راستے مں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام مںع اس جگہ اترے تھے۔

مسجد عقبہ:

منیٰ کے قریب بائں> جانب راہ گذر سے ہٹ کر واقع ہے، ہجرت مدینہ سے قبل انصارانِ مدینہ نے دو دفعہ یہاں آکر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کاہ اور نصرت و حمایت کی بعتا کی، جسے بعتل عقبیٰ اولیٰ اور بعت عقبیٰ ثانہب کہتے ہںی۔

مسجد دارالنحر:

منیٰ مںر جمرہ اولی اور وسطی کے درماان واقع تھی، منہدم کر دی گئی ہے۔

مسجد الکبش:

اس جگہ قربانی کے لیے حضرت اسماعلل علیہ السلام کو لٹایا گاق تھا، اور ان کی جگہ جنت سے بھجال گا دنبہ قربان کاے گات تھا، یہ بھی منیٰ مں واقع تھی، منہدم کر دی گئی ہے۔ یہ منیٰ مں جبل عبر کے دامن مںی واقع تھی۔

مسجد جعرانہ

طائف کے راستے مں مکہ سے ۲۸ کلومٹری کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں پاہرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین سے واپسی پر شہداء کی تدفنہ کی اور عمرہ کے لیے احرام باندھا، یہاں سے جو عمرہ کا جاتا ہے وہ بڑا عمرہ کہلاتا ہے۔ یہاں ایک کنویں کے تلخ پانی کو حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے لعاب دہن مبارک ڈال کر شرہیں کر دیا تھا۔ مسجد موجود ہے لکنع کنویں کے گرد چہار دیواری کا حصار ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا جن حضرات یا خواتین نے مطالعہ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ حضور انور علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنی مدت رضاعت اور کچھ اس سے زائد عرصہ قبیلہ بنو سعد کی حضرت سیّدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گزارا ہے۔ قبیلہ بنو سعد طائف کے راستہ یا نوح میں ’’جعرانہ‘‘ سے آگے آباد تھا۔ پُر فضا مقام اور باغات والا علاقہ تھا۔ جعرانہ سے جنوب مشرق سمت میں بیس کلومیٹر آگے ’’شحمہ ‘‘کی پہاڑی بستی میں قبیلہ بنو سعد کی رہائش تھی۔ جعرانہ سے مشرق کی جانب کسی جگہ ’’وادیٔ حنین‘‘ واقع تھی۔ اب اس جگہ کا تعین ممکن نہیں لیکن غزوۂ حنین میں جس طرح پہاڑوں میں دشمن کے چھپے ہونے کا بیان ہے، اس کے جغرافیہ سے جغرافیہ وتاریخ دانوں نے تقریباً یہی قیاس کیا ہے کہ ’’وادیٔ حنین ‘‘جعرانہ سے شمال مشرقی جانب تھی۔ ’’ذی المجاز ‘‘اور’’ وادی اوطاس ‘‘کے قریب اور غالباً مکة المکرمہ سے تیس ۳۰ میل کے فاصلے پر واقع تھی۔ بعض نے کہا کہ ’’حنین‘‘ ایک چشمہ اور وادی کا نام ہے جو طائف کے قریب واقع تھی۔ اسی وادیٔ حنین میں غزوۂ حنین کا معرکہ پیش آیا تھا۔

مسجد الرأیہ:

یہ مسجد جن کے قریب ہے۔ یہ وہ تارییا مقام ہے جہاں فتح مکہ کے موقع پر ہمارے پا رے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جھنڈا شریف نصب فرمایا تھا۔
error: Content is protected !!