خواتین کے لیے ہدایت

خواتین کا احرام یہ ہے کہ وہ ایک پاک صاف کپڑے سے اپنے سر کو چھپائیں، چاہیں تو باندھ لیں۔ جیسی سہولت ہو وہ لباس پہن لیں بہتر یہ ہے کہ اپنے لباس پر ایک ایسا موٹا د بیزگاؤن (گردن تا پیر) جسے عبایا بھی کہتے ہیں زیب تن کریں پھر سر سے ایک چادر (اوڑھنی کے طور پر) نصف دھڑ تک ڈال لیں تاکہ اعضاء کہیں سے ظاہر یا نمایاں نہ ہوں۔ چہرہ کھلا رکھیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چہرہ کو بے پردہ کریں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ چہرہ پر کپڑا نہ لگے یعنی مس نہ ہو سر پر اگر فلیٹ نما پی کیپ لگا کر اوپر سے نقاب ڈالا جائے تو پردہ بھی ہو جاتا ہے اور چہرہ سے کپڑا مس نہیں ہوتا۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ہینڈ بیگ جو کندھے پر ہوں اسے ہاتھ میں لے کر نامحرموں سے پردہ کیا جاسکتا ہے۔ کتاب اور دستی پنکھے کی مدد سے بھی پردہ کیا جاسکتا ہے۔ خواتین دستانے، موزے پہن سکتی ہیں اور ایسا جوتا یا چپل بھی پہن سکتی ہیں کہ جس سے پیر کی ابھری ہوئی ہڈی (یعنی تسمہ کی جگہ) چھپ جائے اس میں کوئی حرج نہیں۔ زیور بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ مگر دوران طواف اور سعی اور ایام حج میں کانچ کی چوڑیاں پہننے سے گریز کریں۔ رنگین لباس زیب تن کرسکتی ہیں۔ تلبیہ آہستہ آواز میں کہیں۔ طواف میں رمل، دوران سعی میلین اخضرین میں دوڑنے سے مستثنیٰ ہیں۔ سفر حج پر روانگی کے وقت اگر ناپاکی کی حالت ہے تو محض وضو کر کے احرام باندھیں نماز احرام ادا نہ کریں قبلہ رخ بیٹھ کر نیت پھر تلبیہ پڑھیں تو حالت احرام میں داخل ہوگئیں۔ شکوک و شبہات میں نہ رہیں کہ حالت حیض میں احرام باندھا معلوم نہیں ٹھیک ہے یا نہیں؟ شکوک سے ذہن صاف رکھیں اگر مکہ پہنچ کر بھی ناپاکی کی حالت ہو تو عمرہ نہ کریں پاک ہونے کا انتظار کریں مگر احرام کی پابندیوں کو ملحوظ رکھیں۔ غسل کر کے عمرہ ادا کریں۔ روانگی کے وقت تو طہارت تھی لیکن ایئر پورٹ یا جہاز کے ٹیک آف یا لینڈنگ یا مکہ پہنچ کر حاجیوں کے رش کو دیکھ کر گھبراہٹ کے باعث حیض آجائے تو بھی پریشان نہ ہوں جب پاک ہوں غسل کر کے عمرہ ادا کریں حالت ناپاکی میں خانہ کعبہ میں نہ جائیں دوران طواف حیض آجائے تو طواف روک کر مسجد الحرام سے باہر آجائیں پاک ہو کر مکمل کریں۔ دوران سعی حیض آجائے تو کچھ حرج نہیں سعی کرتی رہیں۔ ہاں البتہ اگر ہاتھ میں دعاؤں کی کتاب یا قرآن مجید ہے تو اسے فورا جسم سے الگ کر دیں۔ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے ارکان کی ادائیگی سے قبل یا ادائیگی کے دوران حیض آئے تو اسی حالت میں بدستور تدریجاً تمام مناسک ادا ہوں گے۔ سوائے طواف زیارت کے۔
اس کے لیے حائضہ خواتین کو یہ رعایت حاصل ہے کہ وہ ۱۲ ذی الحجہ کے بعد جب تک پاک نہ ہوں طواف زیارت نہ کریں۔ اگر اس دوران وطن واپس آنے کی تاریخ آجائے تو معلم کو مطلع کر کے روانگی کی تاریخ بڑھوائی جائے تاکہ طواف زیارت کر کے حج کو مکمل کیا جاسکے۔ حائضہ خواتین طواف وداع سے مستثنیٰ ہیں۔ خواتین دوران طواف مردوں کے ہجوم سے دور رہیں۔ حجر اسود کے بوسے کے لیے جائز نہیں کہ ہجوم میں جاکر شرم و حیا کو بالائے طاق رکھیں۔ نماز واجب الطواف بہتر تو یہی ہے کہ مقام ابراہیم پر ادا ہو مگر مردوں کے ہجوم کے باعث مسجد الحرام کے کسی بھی حصہ میں ادا ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ مرد یا عورت ایک دوسرے کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہو کر بغیر شرعی فاصلہ کے نماز پڑھیں تو دونوں کی نماز نہیں ہوگی۔ حج و عمرہ سے فارغ ہو کر سر کے بالوں کے چوتھائی کے برابر کی لٹ کے آخری سرے کو انگلی کے اوپر لپیٹ کر ایک پور سے زائد کاٹیں گی۔ منیٰ میں جب قربانی ہو جائے گی تو پھر خواتین بالوں کی تقصیر کریں گی۔ قربانی سے پہلے جائز نہیں۔ ہجوم کے باعث رمی کے لیے خواتین کو تاخیر تو جائز ہے مگر بغیر شرعی عذر مردوں کو نمائندہ بنانا جائز نہیں۔اگر چلنا ممکن نہ ہو تو مردوں کو چاہئے کہ اپنی خواتین کو لے جا کر رمی کروائیں۔ خواتین اپنے نسوانی عوارضات کو روکنے کے لیے دوائیں استعمال کرسکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!