Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نئے فیشن کی خرابیاں

قرآن کریم فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوۡا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً  (پ2،البقرہ:208)
اے ایمان والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔
انسان کو قدرت نے دوقسم کے اعضاء دیئے ہیں ایک ظاہری دوسرے چھپے ہوئے ظاہری عُضو تو صورت چہرا آنکھ، ناک، کان وغیرہ ہیں اور چھپے ہوئے عضو دل، دماغ، جگروغیرہ .مسلمان کا مل ایمان والا جب ہوسکتا ہے کہ صورت میں بھی مسلمان ہوا اور دل سے بھی یعنی اسلام کا اس پر ایسا رنگ چڑھے کہ صورت اور سیرت دونوں کو رنگ دے دل میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ موجیں ماررہا ہو اس میں ایمان کی شمع جل رہی ہو اور صورت ایسی ہو جو اللہ عزوجل! کے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو پسند تھی یعنی مسلمان کی سی اگر دل میں ایمان ہے مگر صورت بھگوان داس کی سی تو سمجھ لو کہ اسلام میں پورے داخل نہ ہوئے سیرت بھی اچھی بناؤ اور صورت بھی۔ غور سے سنو!حضرت مغیرہ ابنِ شیبہ جو کہ اصحابی رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ہیں،ایک باران کی مونچھيں کچھ بڑھ گئی تھیں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اے مغیرہ !تمہاری مونچھیں بڑھ گئیں۔ کاٹ لو انہوں نے خيال کیا کہ گھر جاکر قینچی سے کاٹ دوں گا۔مگر سرکا ری فرمان ہوا کہ ہماری مسواک لو۔اس پر بڑھے ہوئے بال رکھ کر چھری سے کاٹ دو۔ یعنی اتنی بھی مہلت نہ دی کہ گھر جاکر قینچی سے کاٹیں، نہیں یہاں ہی کاٹ دو جس سے معلوم ہوا کہ بڑی مونچھیں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو ناپسند تھیں دنیا میں ہزاروں پیغمبر تشریف لائے مگر کسی نبی نے نہ داڑھی منڈائی اور نہ مونچھیں رکھائیں،لہٰذا داڑھی فطرت یعنی سنتِ انبیاء علیہم السلام ہے حدیث پاک میں ہے داڑھیاں بڑھاؤاور مونچھیں پست کرو اور مشرکین کی مخالفت کرو۔
(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث ۲۵۹، ص ۱۵۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس کے علاوہ بہت سے نقلی دلیلیں دی جاسکتی ہیں۔مگر ہمارے نئے تعلیم یافتہ لوگ نقلی دلائل کے مقابلے عقلی باتوں کو زیادہ مانتے ہیں گویا گلاب کے پھول کے مقابلے میں گینڈے کے پھول ان کو زيادہ پیارے ہیں اس لئے عقلی باتیں بھی عرض کرتا ہوں سنو!اسلامی شکل اور اسلامی لباس میں اتنے فائدے ہیں (۱)گورنمنٹ نے ہزاروں محکمے بنادیئے ہیں، ریلوے،ڈاکخانہ،پولیس،فوج اور کچہری وغيرہ اور ہر محکمے کیلئے وردی علیٰحدہ علیٰحدہ مقرر کردی کہ اگر لاکھوں آدمیوں میں کسی محکمہ کا آدمی کھڑا ہو تو صاف پہچان میں آجاتا ہے، اگر کوئی سرکاری نوکر اپنی ڈیوٹی کے وقت اپنی وردی میں نہ ہو تو اس پر جرمانہ ہوتا ہے اگر بار بار کہنے پر نہ مانے تو برخاست کردیا جاتا ہے اسی طرح ہم بھی محکمہ اسلام اور سلطنت مصطفوی اور حکومت الٰہیہ کے نوکر ہیں ہمارے لئے علیٰحدہ شکل مقرر کردی کہ اگر لاکھوں کافروں کے بیچ میں کھڑے ہوں تو پہچان لئے جائیں کہ مصطفےٰ علیہ السلام کا غلام وہ کھڑا ہے اگر ہم نے اپنی وردی چھوڑ دی تو ہم بھی سزا کے مستحق ہوں گے۔ (۲)قدرت نے انسان کی ظاہری صورت اور دل میں ایسا رشتہ رکھا ہے کہ ہر ایک کا دوسرے پر اثر پڑتا ہے اگر آپ کا دل غمگین ہے تو چہرہ پر اداسی چھا جاتی ہے اور دیکھنے والا کہہ دیتا ہے کہ خیر تو ہے چہرہ کیوں اداس ہے دل میں خوشی ہے تو چہرہ بھی سرخ و سپید ہوجاتا ہے معلوم ہوا کہ دل کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے اسی طرح اگر کسی کو دق(یعنی ٹی.بی) کی بیماری ہے تو حکیم کہتے ہیں کہ اس کو اچھی ہوا میں رکھو اچھے اور صاف کپڑے پہناؤ اس کو فلاں دوا کے پانی سے غسل دو کہے بیماری تو دل میں ہے یہ ظاہری جسم کا علاج کیوں ہورہا ہے اسی لئے کہ اگر ظاہر اچھا ہوگا تو اندر بھی اچھا ہوجائے گا۔
    تندرست آدمی کو چاہے کہ روزانہ غسل کرے صاف کپڑے پہنے صاف گھر میں رہے تو تندرست رہے گا۔اسی طرح غذا کا اثر بھی دل پر پڑتا ہے۔ سؤر کھانا شریعت نے اسی لے حرام فرمادیا کہ اس سے بے غیرتی پیدا ہوتی ہے کیونکہ سؤر بے غیرت جانور ہے اور سؤر کھانے والی قومیں بھی بے غیرت ہوتی ہیں جس کا تجربہ ہورہا ہے اگر چیتے یا شیر کی چربی کھائی جائے تو دل میں سختی اور بربریت پیدا ہوتی ہے چیتے اور شیر کی کھال پر بیٹھنا اسی لئے منع ہے کہ اس سے غرورپیدا ہوتا ہے، غرضیکہ ماننا پڑے گا کہ غذا اور لباس کا اثر دل پر ہوتا ہے تو اگر کافروں کی طرح لباس پہناگیا یا کفار کی سی صورت بنائی گئی تو یقینا دل میں کافروں سے محبت اور مسلمانوں سے نفرت پیدا ہوجاوے گی غرضیکہ یہ بیماری آخر میں مہلک ثابت ہوگی اس لئے حدیث پاک میں آیا ہے ”مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ”  جو کسی دوسری قول سے مشابہت پیدا کرے وہ ان میں سے ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المعجم الاوسط، الحدیث ۸۳۲۷، ج ۲، ص ۱۵۱)
   خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کی سی صورت بناؤ تاکہ مسلمانوں ہی کی طرح سیرت پیدا ہو۔(۳)ہندوستان میں اکثر ہندو مسلم فساد ہوتا رہتا ہے اور بہت جگہ سننے میں آیا کہ فساد کی حالت میں بعض مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے کیونکہ پہچانے نہ گئے کہ یہ مسلمان ہیں یا ہندو چنانچہ تیسرے سال جو بریلی اورپیلی بھیت میں ہندو مسلم فساد ہوا اس جگہ سے خبریں کہ بہت سے مسلمانوں کو خود مسلمانوں نے ہندو سمجھ کر فنا کردیا۔یہ اس نئے فیشن کی برکتیں ہیں میرے ولی نعمت مرشد برحق حضرت صدر الافاضل مولانا محمد نعیم الدین صاحب قبلہ دام ظلہم نے فرمایا کہ ایک دفعہ ہم ریل میں سفر کررہے تھے کہ ایک اسٹیشن سے ایک صاحب سوار ہوئے جو بظاہر ہندو معلوم ہوتے تھے گاڑی میں جگہ تنگ تھی ایک لالہ جی سے ان کا جگہ لینے کا جھگڑا ہوگیا۔ لالہ جی کے ساتھی زيادہ تھے اس لئے لالہ جی نے ان حضرت کو خوب پیٹا مسلمان مسافر بیچ بچاؤ میں زیادہ نہ پڑے کیونکہ سمجھتے تھے کہ ہندو آپس میں لڑرہے ہیں ہمارا زیادہ زور دینا خلافِ مصلحت ہے۔ بے چارے شامت کے مارے پٹ کٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے جب اگلے اسٹیشن پر اترے تو انہوں نے کہا السلام علیکم تب معلوم ہوا کہ یہ حضرت مسلمان ہیں تب ہم نے افسو س کیا اور ان سے عرض کیا کہ حضرت آپ کے فیشن نے آپ کو اس وقت پٹوایا۔”
    میں جب کبھی بازار وغيرہ جاتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ سلام کسے کروں معلوم نہیں کہ ہندوکون ہے اور مسلمان کون؟ بہت دفعہ کسی کو کہا اسلام علیکم انہوں نے فرمایا بندگی صاحب ہم شرمندہ ہوگئے۔ میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے مسلمان کی دکان سے چیز خریدوں مگر دوکاندار کی شکل ایسی ہوتی ہے کہ پہچان نہیں ہوتی کہ یہ کون ہیں اگر دوکان پر کوئی بورڈ لگا ہے جس کے نام سے معلوم ہوگیا کہ یہ مسلمان کی دوکان ہے تو خیر ورنہ بہت دشواری ہوتی ہے غرضیکہ مسلمانوں کو چاہے کہ شکل اور لباس میں کفار سے علیٰحدہ رہیں (۴)کسی کو نہیں معلوم کہ اس کی موت کہاں ہوگی۔اگر ہم پردیس میں مرگئے جہاں ہمارا جان پہچان والا کوئی نہ ہو تو سخت مشکل درپیش ہوگی۔لوگ پریشان ہوں گے کہ ان کو دفن کريں یا آگ میں جلادیں کیونکہ صورت سے پہچان نہ پڑے گی چنانچہ چند سال پیشتر علی گڑھ کے ایک صاحب کا ریل میں انتقال ہوگیاخبر ہونے پر رات میں میں نعش اتارلی گئی مگر اب یہ فکر ہوئی کہ یہ ہے کون ؟ہندو یا مسلمان اس کو سپردِ خا ک کریں یاآگ میں ڈالیں آخر ان کا ختنہ دیکھا گیا تب پتہ لگا کہ یہ مسلمان ہیں خلاصہ یہ ہے کہ کفار کی سی شکل اور ان کا سا لباس زندگی میں بھی خطرناک ہے اور مرنے کے بعد بھی۔ (۵)زمین میں جب بیج بویا جاتا ہے تو اولاً ایک سیدھی سی شاخ ہی نکلتی ہے پھر آکر ہر طرف پھیلتی ہے پھر اس میں پھل نکلتے ہیں اگر کوئی شخص اس کی چوطرف کی شاخوں اور پتوں کو کاٹ ڈالے تو پھل نہیں کھاسکتا۔اسی طرح کلمہ طیبہ ایک بیج ہے جو مسلمان کے دل میں بویا گیا،پھر صورت اور ہاتھ پاؤں، آنکھ،ناک کی طرف اس درخت کی شاخيں چلیں کہ اس کلمہ نے مسلمان کی آنکھ کو غیر صورتوں سے علیٰحدہ کردیا۔ہاتھ کو حرام چیز کے چھونے سے روک دیا۔صورت پر ایمانی آثار پیدا کردیئے کان کو غیبت سننے اور زبان کو جھوٹ بولنے غیبت کرنے سے روکا جو شخص دل سے مسلمان تو ہو مگرکافروں کی سی صورت بنائے اپنے ہاتھ،پاؤں، زبان، آنکھ، ناک، کان کو حرام کاموں سے نہ روکے وہ اسی شخص کی طرح ہوگا جو آم کابیج بودے اور اس کی تمام شاخيں وغيرہ کاٹ ڈالے جس طرح وہ بیوقوف پھل سے محروم رہے گا اسی طرح یہ مسلمان اسلا م کے پھلوں سے محروم رہے گا (۶)پکا رنگ وہ ہوتا ہے جو کسی پانی یا دھوبی سے نہ چھوٹے اور کچا رنگ وہ جو چھوٹ جائے۔تو اے مسلمانو!تم اللہ عزوجل! کے رنگ میں رنگ ہوئے ہو۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

صِبْغَۃَ اللہِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبْغَۃً ۫
ترجمہ کنزالایمان:ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی)لی اوراللہ سے بہترکس کی رینی(رنگائی)؟(پ1،البقرہ138)
گر تم کفار کو دیکھ کر اپنے رنگ کو کھو بیٹھے تو جان لو کہ تمہارا رنگ کچّا تھا۔اگر پکا رنگ ہوتا تو اوروں کو رنگ آتے۔
error: Content is protected !!