ایک شبے کاازالہ:

  ظاہراً یہ قول حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی طرف منسوب ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں اور اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تب بھی اس میں تاویل کرنا واجب ہے کیونکہ صحیح اورمختار عقیدے کے مطابق انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام (اظہارِ)نبوت سے پہلے اور بعد چھوٹے ،بڑے ،دانستہ اور نادانستہ ہر گناہ سے معصوم ہیں اور شاید آپ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے اس مسکین کی مدد پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے سکوت فرمایاتھا، اس کے باوجود اللہ عزوجل کا ان پر عتاب فرمانا ممکن ہے کیونکہ آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام نے اس مسکین کی مدد کرنے کا کامل ترین عمل چھوڑدیا،اگرچہ آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کو اس کی مدد پر قدرت نہ پانے کا یقین تھا۔ 
Advertisement
    حضرت سیدنا بلال بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:” گناہ کے چھوٹا ہو نے کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ تم کس کی نافرمانی کررہے ہو۔” اورحضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”اے انسان ! گناہ کو چھوڑدینا توبہ یعنی معافی چا ہنے سے بہت آسان ہے۔”
    حضرت سیدنا محمد بن کعب قرظی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”اللہ عزوجل کو اپنی عبادت سے بڑھ کر یہ چیز زیادہ پسند ہے کہ اس کی نافرمانیاں چھوڑ دی جائیں۔” ان کے اس قول کی تائید یہ حدیث مبارکہ بھی کرتی ہے۔ چنانچہ،
(54)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو بقدر طاقت اس پر عمل کرو اور جب تمہیں کسی کام سے منع کروں تو اس سے رُک جاؤ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح مسلم،کتاب الحج،باب فرض الحج مرۃً فی العمر،الحدیث:۳۲۵۷،ص۹۰۱،”فاجتنبوہ” بدلہ” فدعوہ”)
    مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا مامورات ( یعنی جن کے کرنے کا حکم ہے) میں اِستطاعت یعنی بقدرِ طاقت کی قید لگانا اور منہیات(یعنی جن سے رکنے کا حکم ہے) میں اسے ذکر نہ کرنا اس کے نقصان کے بڑے ہونے اور اس میں پڑنے کی برائی کی طرف اشارہ ہے اور مسلمان پر اس سے دوری اختیار کرنے میں کوشش سے کام لینا واجب ہے، خواہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہو یا نہیں، جبکہ مامورات پرقدرت نہ ہو نے کے سبب(ان پر قدرت پانے تک) ان کوچھوڑا جا سکتاہے یہ نکتہ قابلِ غور ہے۔ 
    حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”تیرے نزدیک گناہ جتنا چھوٹا ہوگا اتنا ہی اللہ عزوجل کے نزدیک بڑا ہوگا اور تیرے نزدیک گناہ جتنا بڑا ہوگا اتنا ہی اللہ عزوجل کے نزدیک چھوٹا ہوگا۔”
    منقول ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کی طرف وحی فرمائی: ”اے موسیٰ(علیہ الصلوٰۃو السلام) !میری مخلوق میں جو شخص سب سے پہلے مرا یعنی تباہ وبرباد ہوا وہ ابلیس تھا،کیونکہ اس نے سب سے پہلے میری نافرمانی کی تھی اور میں اپنے نافرمانوں کو مُردوں میں شمار کرتاہوں۔” 
    حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پرایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتاہے اور پھر جب دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پرایک اورسیاہ نکتہ لگا دیا جاتاہے یہاں تک کہ اس کا سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔” 
    سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی اس کی تائید کرتاہے کہ” گناہ کفر کے قاصد ہیں یعنی اس اعتبار سے کہ یہ دل میں سیاہی پیدا کرکے اسے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ پھر وہ کبھی کسی بھلائی کو قبول نہیں کرتا، اس وقت وہ سخت ہوجاتا ہے اور اس سے ہر رحمت ومہربانی اور خوف نکل جاتا ہے، پھروہ شخص جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور جسے پسند کرتا ہے اس پر عمل کرتا ہے، نیز اللہ عزوجل کے مقابلہ میں شیطان کو اپناولی بنا لیتا ہے تو وہ شیطان اسے گمراہ کرتا، ورغلاتا، جھوٹی اُمیدیں دلاتا اور جس قدر ممکن ہو کفر سے کم کسی بات پر اس سے راضی نہیں ہوتا۔”اللہ عزوجل فرماتاہے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اِنۡ یَّدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا ۚ وَ اِنۡ یَّدْعُوۡنَ اِلَّا شَیۡطٰنًا مَّرِیۡدًا ﴿117﴾ۙلَّعَنَہُ اللہُ ۘ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیۡبًا مَّفْرُوۡضًا ﴿118﴾ۙوَّلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ ؕ وَمَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیۡنًا ﴿119﴾ؕیَعِدُہُمْ وَیُمَنِّیۡہِمْ ؕ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿120﴾اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُ ۫ وَلَا یَجِدُوۡنَ عَنْہَا مَحِیۡصًا ﴿121﴾
ترجمۂ کنزالایمان :یہ شرک والے اللہ کے سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو اور نہیں پوجتے مگر سر کش شیطان کو جس پر اللہ نے لعنت کی اور بولا قسم ہے میں ضرور تیرے بندوں میں سے کچھ ٹھہرا یا ہواحصہ لوں گاقسم ہے میں ضرور بہکادوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا اور ضرور انہیں کہوں گاکہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز یں بدل دیں گياور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطا ن کو دوست بنائے وہ صریح ٹوٹے (خسارے) میں پڑا شیطا ن انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطا ن انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب کے ان کا ٹھکانا دو زخ ہے اس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے(پ 5،النسآء:117تا121)
    ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿5﴾اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ اِنَّمَا یَدْعُوۡا حِزْبَہٗ لِیَکُوۡنُوۡا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیۡرِ ؕ﴿6﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اے لوگو ! بے شک اللہ کا وعدہ سچ ہے تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو وہ تو اپنے گروہ کو اسی لئے بلاتا ہے کہ دو زخیوں میں ہوں۔(پ 22، فاطر :5،6)
(55)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:”اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل کی طرف وحی فرمائی :”جب بندہ میری اطاعت کرتا ہے تو میں اس سے راضی ہوجاتا ہوں اور جب میں اس سے راضی ہوجاتا ہوں تو اسے برکتیں عطا فرماتا ہوں۔ (بعض روایتوں میں ہے :”اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں۔”) اور جب بندہ میری نافرمانی کرتا ہے تو میں اس سے ناراض ہوجاتا ہوں اور جب میں اس سے ناراض ہوتا ہوں تو اس پر لعنت فرماتا ہوں اور میری لعنت اس کی سات پشتوں تک پہنچتی ہے۔”
    اللہ عزوجل کا یہ فرمان ان آثار کی تائید کرتا ہے:
وَلْیَخْشَ الَّذِیۡنَ لَوْ تَرَکُوۡا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَیۡہِمْ ۪ فَلْیَتَّقُوا اللہَ وَلْیَقُوۡلُوۡا قَوْلًا سَدِیۡدًا ﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں۔(پ 4،النسآء :9)
    مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ، اللہ عزوجل کے فرمانِ عالیشان:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿3﴾
ترجمۂ کنزالایمان:روزِجزا کامالک۔ـ(پ 1، الفاتحۃ: 3)
کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں دین سے مراد” جزاء ”ہے۔ 
(56)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔”
(مصنَّف عبدُ الرزّاق،باب الاغتياب والشتم،الحدیث:۲۰۴۳۰،ج۱۰،ص۱۸۹)
    یعنی تم جیسا سلوک کسی سے کرو گے ویساہی سلوک تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔ لہٰذا اگر تم سے قصا ص نہ لیا گیا تو تمہاری اولاد سے لیا جائے گا۔ اسی لئے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
خَافُوۡا عَلَیۡہِمْ ۪ فَلْیَتَّقُوا اللہَ
ترجمۂ کنزالایمان:تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں۔(پ4، النسآء : 9)
    پس اگرتمہیں اپنے چھوٹوں اور محتاج ومسکین اولاد کے بارے میں کوئی ڈر ہو تو اپنے تمام اعمال خصوصا ًدوسروں کی اولاد کے بارے میں اللہ عزوجل سے ڈرو تاکہ اللہ عزوجل تمہاری اولاد کے معاملہ میں تمہاری حفاظت فرمائے اور تمہارے تقویٰ کی برکت سے انہیں حفاظت وخیر اور توفیق میں آسانیاں فراہم کرے جس سے تمہاری موت کے بعد تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور زندگی میں شرحِ صدر حاصل ہو اور اگر تم دوسرے لوگوں کی اولاد اور ان کے حرم کے معاملہ میں اللہ عزوجل سے نہیں ڈرو گے تو جان لو کہ تم سے اور تمہاری اولاد سے اس معاملہ میں مؤاخذہ ہو گا اور جو کچھ تم دوسروں کے ساتھ کرو گے وہی کچھ تمہاری اولاد کے ساتھ کیا جائے گا۔
وسوسہ:جب اولاد نے کچھ نہیں کیا تو ان کے آباؤاجداد کی لغزشوں اور گناہوں کی وجہ سے انہیں کیونکر عذاب ہو گا؟ یا پھران سے انتقام کیسے لیا جائے گا؟
جواب:اس لئے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے پیروکار اور ان کی اولاد ہیں۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذْنِ رَبِّہٖ ۚ وَالَّذِیۡ خَبُثَ لَایَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل۔(پ8، الاعراف :58)
    اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الْمَدِیۡنَۃِ وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحْمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِیۡ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان : رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا۔
    کہتے ہیں کہ ان کاوہ نیک باپ ان کی ماں کاساتواں دادا تھا۔
سوال:ہم،  گناہگاروں کی اولاد میں نیکوکار اورنیکوں کی اولاد میں گناہگار پاتے ہیں۔
کیا آپ حضرت سیدنا نوح علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کے بیٹے اور حضرت سیدنا آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کے قاتل بیٹے کے بارے میں نہیں جانتے اس پرآپ کیا کہیں گے ؟
جواب: ایک تو یہ کہ ایسا بہت کم ہوتاہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسی خفیہ تدبير کی وجہ سے ہے جسے اللہ عزوجل ہی جانتا(پ16، الکھف:82)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ہے اگر اس سے فقط یہ خبر دینا مراد ہے کہ مخلوق اگر چہ وہ کتنی ہی کامل کیوں نہ ہو اپنے اَقرباء کو ہدایت دینے سے عاجزہے۔ ”اِنَّکَ لَاتَھْدِیْ”یعنی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم جسے چاہیں اسے اپنی مرضی سے ہدایت نہیں دے سکتے۔ جیسا کہ یہ آیت مبارکہ (وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ) اس بات کافائدہ دیتی ہے کہ بعض اوقات آباؤ اجداد کی وجہ سے اولاد پر عقاب ہوتا ہے اور اس سے دونوں صورتوں کا مساوی ہونا لازم نہیں آتا، ہاں! یہ ضرور ہے کہ بعض اوقات آباء کی نیکی سے اولاد کو نفع حاصل ہوتا ہے اور یہ ان دونوں معاملوں میں کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ۔ بعض اوقات کوئی فاسق ظاہری طور پرنیک اعمال کرتا ہے تو اللہ عزوجل ان اعمال کے سبب اس کی اولاد کو نفع پہنچاتا ہے لہٰذا اللہ عزوجل کے اس فرمان سے استدلال کرنامتعین ہوگیا کہ:

وَلْیَخْشَ الَّذِیۡنَ لَوْ تَرَکُوۡا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَیۡہِمْ ۪ فَلْیَتَّقُوا اللہَ وَلْیَقُوۡلُوۡا قَوْلًا سَدِیۡدًا ﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتاتو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں ۔
(57)۔۔۔۔۔۔ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکتوب لکھا : ”امابعد!جب بندہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کا کوئی عمل کرتا ہے تو اس کی تعریف کرنے والے لوگ اس کی مذمت کرنے لگتے ہیں۔”(پ 4،النسآء: 9)
            (کتابُ الزھد لامام احمد بن حنبل،زھد عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا،الحدیث:۹۱۷،ص۱۸۶)
    حضرت سیدناابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”اس بات سے ڈرو کہ مؤمنین کے دل تم سے نفرت کرنے لگیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو۔” 
    حضرت سیدنا فضیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”جو بندہ تنہائی میں اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتاہے اللہ عزوجل مؤمنین کے دلوں میں اس کے لئے اپنی ناراضگی اس طرح ڈال دیتا ہے کہ اسے اس کا شعور بھی نہیں ہوتا۔” 
    امام محمد بن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مقروض ہوئے اور انہیں قرض کے سبب شدید غم لاحق ہوا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”میں اس غم کا سبب چالیس سال پہلے سر زد ہونے والے ایک گناہ کو سمجھتا ہوں۔” 
    حضرت سیدنا سلیمان تیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”آدمی پوشیدہ طور پر ایک گناہ کرتا ہے تو ا س کی وجہ سے اس پر ذلت طاری ہوجاتی ہے۔” 
    حضرت سیدنا یحیٰ بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”مجھے اس عاقل پرتعجب ہے جو اپنی دعا میں تویہ کہتا ہے کہ یا اللہ عزوجل! مجھے مصیبت میں مبتلا کر کے میرے دشمنوں کو خوش نہ کرنا۔ حالانکہ وہ خود دشمن کواپنی مصیبت پر خوش کرنے کے اسباب پیدا کرتا ہے۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا :”وہ کیسے؟” تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”وہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتا ہے اوراس طرح قیامت کے دن اپنے دشمنوں کوخوش کریگا۔” 
    حضرت سیدنا مالک بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”اللہ عزوجل نے اپنے ایک نبی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کی طرف وحی فرمائی :”اپنی قوم سے کہو کہ وہ نہ تو میرے دشمنوں کے ٹھکانوں میں داخل ہوا کرے، نہ ہی میرے دشمنوں کا لباس پہنا کرے، نہ ہی میرے دشمنوں کی سواریوں پر سوار ہوا کرے اورنہ ہی میرے دشمنوں کے کھانے کھایا کرے کہ کہیں وہ لوگ ان کی طرح میرے دشمن نہ ہو جائیں۔” 
    حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”لوگو ں نے اللہ عزوجل کے حقوق کو ہلکا جانا تو اس کی نافرمانی کرنے لگے اگر وہ اسے معزز جانتے تو اللہ عزوجل انہیں گناہوں سے محفوظ فرما لیتا۔” مزید فرماتے ہیں:”جب کامل آدمی کوئی گناہ کربیٹھتا ہے تو اسے بھلاتا نہیں اور مسلسل اس گناہ پر ڈرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔” 
(58)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”مؤمن اپنے  گناہوں کو پہاڑ کی چوٹی پر دیکھتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس پر گر نہ پڑیں اور فاجر  گناہوں کوناک پر بیٹھنے والی مکھی کی طرح سمجھتا ہے جب وہ اسے اُڑاتا ہے تو وہ اُڑجاتی ہے۔”
(صحیح البخاری ، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، الحدیث:۶۳۰۸،ص۵۳۱،بدون”فطار”وقع بدلہ ”مرّ”)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”بنی اسرائیل کے ایک شخص سے  گناہ سر زد ہوا تو وہ غمزدہ ہوگیا اوراِدھر اُدھر چکر لگانے لگا کبھی آتا کبھی جاتا اور کہتا:”میں اپنے رب عزوجل کوکس طرح راضی کروں۔” تو اسے صدیقین میں لکھ دیا گیا۔” 
    حضرت سیدنا عمار بن دادا رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا کھمس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ”اے ابو سلمہ! میں نے ایک گناہ کیا تھااور اس پر چالیس سال سے رور رہا ہوں۔” میں نے پوچھا: ”وہ گناہ کیاتھا ؟” تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”میرا ایک بھائی مجھ سے ملنے کے لئے آیا تو میں نے اس کے لئے ایک دانق (يعنی درہم کے چھٹے حصے ) کی مچھلی خریدی جب اس نے کھانا کھا لیا تو میں اپنے پڑوسی کی دیوار کی طرف گیا اور اس میں سے مٹی کا ایک ڈھیلا لیا اوراس مٹی سے (بطورِ صابن)اس مہمان کے ہاتھ دھلائے میں اپنی اس خطا (یعنی پڑوسی کی دیوار سے اس کی اجازت کے بغیر مٹی لینے) پر چا لیس سال سے رورہاہوں۔”
    حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کسی عامل ( یعنی صدقات جمع کرنے والے) کی طرف مکتوب بھیجا(جس میں لکھا تھا) :”اما بعد! جب اللہ عزوجل تمہیں بندوں پر ظلم کرنے کی قدرت دے تو اس بات کو یاد رکھناکہ اللہ عزوجل کو تم پر کتنی قدرت ہے اور جان لو کہ تم ان پر جو بھی ظلم کروگے وہ ظلم ان کی موت کے بعد ان سے دور ہوجائے گا جب کہ اس کی شرمندگی اور آخرت میں جہنم کی آگ تمہارے لئے ہمیشہ باقی رہے گی اور یہ بھی جان لو کہ اللہ عزوجل ظالم سے مظلوم کا حق ضرور دلائے گا اورباز آجاؤ اور ایسے لوگوں پر ظلم کرنے سے بچتے رہو جن کا تمہارے مقابلہ میں اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی مددگارنہیں کیونکہ اللہ عزوجل جب اپنی جانب بندے کی سچی التجاء اور اضطرار دیکھتا ہے تو فوراً اس کی مدد فرماتا ہے۔”
چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوۡٓءَ
ترجمۂ کنزالایمان:یاوہ جو لاچار کی سنتاہے جب اسے پکارے اور دور کردیتاہے برائی۔ (پ 20، النمل : 62)
    حضرت سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”اللہ عزوجل نے جب ملائکہ کو پیدا فرمایا تو انہوں نے آسمان کی طر ف سراٹھا کر عرض کی:”یارب عزوجل! تُو کس کے ساتھ ہے ؟”تو اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:”جب تک مظلوم کا حق نہ دِلادوں اس کے ساتھ ہوں۔” 
    اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے کسی بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے :”اے گنہگارو! اپنے اُوپر اللہ عزوجل کی طویل بردباری( یعنی لمبی ڈھیل) سے دھوکہ نہ کھاؤ بلکہ گناہوں کے سبب اس کی ناراضگی سے ڈرو کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمْنَا مِنْہُمْ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنزالایمان:پھر جب انہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا۔(پ 25،الزخرف :55)
    حضرت سیدنا یعقوب القاری عليہ رحمۃاللہ الباری فرماتے ہیں:”میں نے خواب میں ایک طویل القامت شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کے پیچھے چل رہے تھے، میں نے پوچھا: ”یہ بزرگ کون ہیں؟”تو لوگوں نے بتایا:”یہ حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔” تو میں بھی ان کے پیچھے چل دیا اور عرض کی :”اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے مجھے کوئی وصیت فرمائیے؟” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری طرف تیوری چڑھائی تومیں نے عرض کی :”میں ہدایت کا طلب گا ر ہوں، مجھے ہدایت دیجئے اللہ عزوجل آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:”اللہ عزوجل کی اطاعت کرتے وقت اس کی رحمت طلب کرو اور اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتے وقت اس کی ناراضگی سے ڈرو اور ان دونوں حالتوں کے درمیان اس سے اپنی امید نہ توڑو۔” پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔” 
    تورات شریف میں اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :”اے بنی اسرائیل! میں تم سے محبت کرتاتھا، پھر جب تم نے میری نافرمانی کی تو میں تم سے نفرت کرنے لگا۔”
    حضرت سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”میں چاند کی ابتدائی راتوں میں قبرستان کے پاس سے گزرا تو میں نے ایک شخص کو قبر سے نکلتے ہوئے دیکھا وہ زنجیر کھینچ رہا تھا پھر میں نے دیکھا کہ ایک اور شخص اس زنجیر کو پکڑے ہوئے ہے اس دوسرے نے باہر نکلنے والے شخص کو اپنی طرف کھینچا اور اسے قبر میں لوٹا دیا، پھر میں نے اسے اس مردے کو مارتے ہوئے دیکھا او ر مردہ کہہ رہا تھا :”کیا میں نماز نہیں پڑھتا تھا؟ کیامیں جنابت سے غسل نہیں کرتا تھا؟ کیا میں روزے نہیں رکھتا تھا؟” تو اس مارنے والے نے جواب دیا: ”ہاں،کیوں نہیں،(تُو واقعی یہ کام تو کرتا تھا) مگر جب تُو تنہائی میں گناہ کیا کرتا تھا تو اس وقت اللہ عزوجل سے نہیں ڈرتا تھا۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا ابراہیم تیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”میں موت اور( مرنے کے بعد ہڈیوں کی ) بوسیدگی کو یاد کرنے کے لئے کثرت سے قبرستان میں آتا جاتاتھا، ایک رات میں قبرستان میں تھا کہ مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سو گیا تو میں نے خواب میں ایک کھلی ہوئی قبر دیکھی اور ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا :”یہ زنجیر پکڑو اور اس کے منہ میں داخل کر کے اس کی شرمگاہ سے نکالو۔” تو وہ مردہ کہنے لگا: ”یا رب عزوجل! کیا میں قرآن نہیں پڑھا کرتا تھا؟ کیا میں تیرے حرمت والے گھر کاحج نہیں کرتا تھا؟” پھر وہ اسی طرح ایک کے بعد دوسری نیکی گنوانے لگا تو میں نے ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا:”تو لوگوں کے سامنے یہ اعمال کیاکرتا تھا لیکن جب تُوتنہائی میں ہوتا تو نافرمانیوں کے ذریعے مجھ سے اعلانِ جنگ کرتا اور مجھ سے نہیں ڈرتا تھا۔” 

    حضرت سیدنا عبداللہ بن مَدِینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”ہمارا ایک دوست تھا اس نے ہمیں بتایا کہ میں اپنی زمین کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں نماز مغرب کا وقت ہوگیا تو میں قریب کے ایک قبرستان کے پاس آیا اور نماز مغرب ادا کر کے ابھی وہیں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے قبرستان کی طرف سے رونے کی ایک آواز سنی جس قبر سے رونے کی آواز آرہی تھی میں اس کے قریب آیاتو سنا کہ وہ مردہ کہہ رہا تھا :”آہ! بے شک میں روزے رکھا کرتا اور نماز پڑھا کرتا تھا۔” یہ سن کرمجھ پر کپکپی طاری ہوگئی تو میں نے قریب کے لوگوں کو بلایا تو انہوں نے بھی وہ باتیں سنیں، اس کے بعد میں اپنی زمین کی طرف چلا گیا اور جب دوسرے دن واپس آکر اسی جگہ نماز پڑھی اور غروب آفتا ب کے انتظار میں وہیں ٹھہرا رہا، پھر نماز مغرب ادا کرکے قبرکی جانب کان لگا کر سنا کہ وہ مردہ روتے ہوئے کہہ رہا ہے: ” آہ!میں نماز پڑھا کرتا تھا، میں روزے رکھا کرتا تھا۔” اس کے بعدمیں اپنے گھر لوٹ آیا اور دو مہینے مسلسل بخار میں تپتارہا۔” 
    مَیں ( مصنف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) کہتا ہوں کہ اسی طرح کاایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا تھا، ہوایوں کہ جب میں چھوٹا تھا تو پابندی سے اپنے والد صاحب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی قبر پر حاضری دیا کرتا اور قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتا تھا ایک مرتبہ رمضان المبارک میں نماز فجر کے فوراًبعد قبرستا ن گیا غالباً وہ رمضان کا آخری عشرہ بلکہ شب قدر تھی، اس وقت قبرستان میں میرے علاوہ کوئی نہ تھا بہرحال ابھی میں نے اپنے والد صاحب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی قبر کے قریب بیٹھ کر قرآن پاک کا کچھ حصہ ہی پڑھا تھا کہ اچانک شدید آہ وبُکا اور رونے دھونے کی آواز سنی، رونے والا بار بار ”آہ !آہ! آہ!” کہہ رہا تھا، چونے سے تیار شدہ چمکدار سفید قبر سے نکلنے والی اس آواز نے مجھے گھبراہٹ میں مبتلا کردیا تو میں قراء َت چھوڑ کر وہ آواز سننے لگا، میں نے قبر کے اندر سے عذاب کی آواز سنی، عذاب میں مبتلا شخص اس طرح آہ وزاری کررہاتھا جسے سننے سے دل میں قلق اور گھبراہٹ پیدا ہورہی تھی، میں کچھ دیر تک وہ آواز سنتا رہا پھر جب دن خوب روشن ہوگیا تووہ آوازسنائی دینا بند ہو گئی ،پھر جب ایک شخص میرے قریب سے گزرا تو میں نے اس سے پوچھا :”یہ کس کی قبر ہے ؟” تو اس نے بتا یا :”یہ فلاں کی قبر ہے۔” میں نے اس شخص کو بچپن میں دیکھا تھا، یہ کثرت سے مسجد آتا جاتا، نمازوں کو اپنے اوقات میں ادا کرتا اور بے جا گفتگو سے پرہیز کیا کرتا تھا، میں نے چونکہ اسے دیکھا ہوا تھا لہٰذا اس کو پہچان گیا، لیکن اس شخص کی اس موجودہ حالت نے مجھ پر بہت گہرا اثر ڈالا اور مجھے معلوم ہوگیاکہ اس نے زندگی میں اعمالِ صالحہ کو محض اپنا ظاہری لبادہ بنا رکھا تھا، اس کے بعد میں نے اس کے احوال کی حقیقت جاننے والوں سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ کی تو لوگوں نے مجھے بتایا :”وہ سود کھایا کرتا تھااور ایک تاجر تھا، جب بوڑھا ہوا اور اس کے پاس مال کم رہ گیا تو اس کا ظالم اور خبیث نفس اپنی باقی زندگی میں اس جمع شدہ پونچی سے گزارا کرنے پر راضی نہ ہوا اور شیطان نے اس کے دل میں سود کی محبت کو آراستہ کیا تا کہ اس کے مال میں کمی نہ ہو اوریہی وجہ ہے کہ وہ رمضان بلکہ شب قدر میں بھی اس دردناک عذاب سے دوچارہے ۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

پھرجب میں نے اس کے علاقے کے ایک شخص کے سامنے اپنا پیش آمدہ واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا :”اس سے زیادہ تعجب خیز واقعہ تو فلاں قاضی کے قاصد (یعنی پيغام رساں ) عبدالباسط کا ہے۔” میں اس شخص کو بھی جانتا تھا، یہ ابتداء میں قاضیوں کا قاصدتھا پھر مالدار ہوگیا، میں نے پوچھا:”اس کا واقعہ کیا ہے؟” تو اس نے بتایا :”جب ہم نے ایک مردہ کو دفنانے کے لئے اس کے قریب قبر کھودی تو اتفاق سے اس کی قبر کھل گئی ہم نے اس کی قبر میں ایک بہت بڑی زنجیردیکھی، ایک بہت بڑاسیاہ کتا اس زنجیر میں اس کے ساتھ بندھا ہوا ا س کے سر پر کھڑا تھا اور اسے اپنے پنجوں اور ناخنوں سے چیرنا پھاڑنا چاہتا تھا، ہم یہ خطرناک منظر دیکھ کر بہت زیادہ خوفزدہ ہوئے اور جلدی جلدی اس کی قبر کو مٹی سے ڈھانپ دیا۔ 

    انہی لوگوں نے مجھے بتایا :”ایسا ہی ایک منظر ہم نے فلاں شخص کی قبر میں بھی دیکھا تھا جب ہم نے اس کی قبر کھودی تو دیکھا کہ اس کے جسم میں سے صرف کھوپڑی باقی بچی ہے اور اس میں چوڑے منہ والی بڑی میخیں ٹھکی ہوئی ہیں گویا کہ وہ ایک بڑا دروازہ ہے ہمیں اس پر بڑا تعجب ہوا اور ہم نے اسے مٹی سے ڈھانپ دیا۔” 
    ایک اور واقعہ بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا:”ہم نے فلا ں کی قبر کھودی تو اس سے بہت بڑا اژدھا نکلا، وہ اس کے جسم سے لپٹا ہواتھا ہم نے اسے میت سے دور کرنے کی کوشش کی تو اس نے ہم پر پھنکارا جس سے ہم ایک دوسرے پر گر پڑے۔”
     ہم غضب اور معصیت کے سبب ہونے والے قبر کے عذاب سے اللہ عزوجل کی پناہ چاہتے ہیں۔ 
    حضرت سیدنا سلیمان بن عبدالجباررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”مجھ سے ایک گناہ سر زد ہوا تو میں نے اسے حقیر جانا پھر جب میں سویا تو خواب میں مجھ سے کہا گیا: ”کسی گناہ کو حقیر نہ جانو اگرچہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو کیوں کہ آج جو گناہ تمہارے نزدیک چھوٹا ہے کل وہی گناہ اللہ عزوجل کے نزدیک بہت بڑا ہوگا۔” 
    حضرت سیدنا علی بن سلیمان اَنماطی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”میں نے خواب میں حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بارے میں بیان شدہ اوصاف کی ہیئت وصورت میں ان کی زیارت کی، وہ فرما رہے تھے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

لَوْلَاالَّذِیْنَ لَھُمْ وِرْدٌ یَّقُوْمُوْنَا
وَآخَرُوْنَ لَھُمْ سِرْدٌیَّصُوْمُوْنَا
لَدَکْدَکَتْ اَرضُکُمْ مِنْ تَحْتِکُمْ سِحْرًا
لِاَنَّکُمْ قَوْمٌ سُوْءٌ لَا تُطِیْعُوْنَا
    ترجمہ: اگر وہ لوگ نہ ہوتے جن کا وظیفہ ہماری بارگاہ میں قیام کرنا ہے اور وہ لوگ بھی نہ ہوتے جن کا وطیرہ ہمارے لئے روزے رکھنا ہے تو تمہارے نیچے کی زمین خودبخود پھٹ جاتی کیونکہ تم ایک ایسی بری قوم ہو جو ہماری اطاعت نہیں کرتی۔” 
    یاد رکھئے! گناہوں سے روکنے کاسب سے بڑا ذریعہ اللہ عزوجل کا خوف ، اس کے انتقام کاڈر،اس کے عقاب ، غضب اور پکڑ کااندیشہ ہے: چنانچہ، اللہ عزوجل کافرمانِ عالیشان ہے:
 فَلْیَحْذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنْ اَمْرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیۡبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿63﴾
ترجمۂ کنزالایمان: توڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر درد ناک عذاب پڑے۔(پ 18،النور: 63)
(59)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک جوان کے نزع کے عالم میں اس کے پاس تشریف لائے اور پوچھا :”کیسا محسوس کررہے ہو؟”اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عزوجل سے اُمید رکھتا ہوں اور اپنے  گناہوں پر خوف زدہ ہوں تو سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ،باعث نزول سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرما يا کہ ”ایسے وقت میں بندے کے دل میں جب یہ دوچیزیں جمع ہوتی ہیں تو اللہ عزوجل اس کی اُمید اسے عطا فرمادیتا ہے اور جس چیز سے بندہ خوف زدہ ہوتا ہے اسے اس سے امن عطا فرما دیتا ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(جامع الترمذی ابواب الجنائز، باب الرجاء باللہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۹۸۳،ص۱۷۴۵)
    حضرت سیدنا وہب بن ورد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے: ”جنت کی محبت اورجہنم کا خوف مصیبت پر صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے اور بندے کو دنیوی لذات، نفسانی خواہشات اورگناہوں سے دور کرتا ہے۔” 
    حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل کی قسم! تمہارے سامنے کئی ایسی قومیں گزر گئیں جن میں سے اگر کوئی دنیا بھر کی کنکریوں کے برابر سونا خرچ کرتا تب بھی اپنے دل میں گناہ کو بڑا جاننے کی وجہ سے نجات حاصل نہ ہونے سے ڈرتا۔” 
(60)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”کیا جو کچھ میں سن رہا ہوں، تم بھی سن رہے ہو؟ آسمان چِرچِرااُٹھا ہے اوروہ اس کا حق بھی ہے کیونکہ اس پر ہر چار انگلیوں کی جگہ پر ایک فرشتہ اللہ عزوجل کے لئے سجدہ میں یاقیام یا رکوع میں ہے، جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم بھی جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور اللہ عزوجل کے خوف سے پہاڑوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے اوراس کی عظیم پکڑ اور سخت انتقام سے ڈرتے ہوئے اس کی پناہ مانگتے۔” ایک روایت میں ہے :”اور تم اس بات سے بے خبر ہوتے کہ تمہیں نجات ملے گی یانہیں۔”
(کنز العمال ،کتاب العظمۃ ، من قسم الاقوال ، رقم ۲۹۸۲۴ ، ۲۹۸۲۸ ، ج ۱۰ ، ص ۱۶۶،ملخصاً)
    حضرت سیدنا بکر بن عبداللہ مزنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”جو ہنستے ہوئے  گناہ کرتاہے وہ روتا ہوا جہنم میں داخل ہوگا۔” 
(61)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اگر مؤمن اللہ عزوجل کے پاس والے عذاب کو جان لیتا تو جہنم سے بے خوف نہ رہتا۔”
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق، باب الرجاء مع الخوف،الحدیث:۶۴۶۹،ص۵۴۳)
(62)۔۔۔۔۔۔بخاری ومسلم شریف میں ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
وَ اَنۡذِرْ عَشِیۡرَتَکَ الْاَقْرَبِیۡنَ ﴿214﴾
ترجمۂ کنزالایمان : اور اے محبو ب اپنے قریب تر رشتہ دار وں کوڈراؤ۔(پ19،الشعرآء:214)
تو دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: ”اے گروہِ قریش! اللہ عزوجل سے اپنی جانوں کو خرید لو کیونکہ میں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا ،اے بنی عبد مناف! میں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اللہ کے رسول عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چچا! میں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے اللہ عزوجل کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! میں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے فاطمہ بنت محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہاو صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میرے مال میں سے جوچاہو مجھ سے مانگو مگرمیں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب ھل یدخل النساء۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۷۵۳،ص۲۲۱،بدون”بعض الالفاظ”)
(63)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:”میں نے عرض کی:”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! (اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے)
وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَ جِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوۡنَ ﴿ۙ60﴾
ترجمۂ کنزالا یمان :اوروہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اوران کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے۔(پ 18،المؤ منون : 60)
تواے اللہ کے رسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! جو شخص زنا کرتا، چوری کرتا اور شراب پیتا ہے کیا وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا بھی ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”نہیں! اے بنت ابوبکر! اے بنت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما!اس سے مراد وہ شخص ہے جونماز پڑھتا، روزے رکھتااور صدقہ کرتا ہے اور اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کے اعمال قبول ہونے سے نہ رہ جائيں
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند السیدۃ عائشۃرضی اللہ تعالیٰ عنہا،الحدیث:۲۵۳۱۸،ج۹،ص۵۰۵،بدون ”الرجل”)
    حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا :”اے ابو سعید! ہم ایسی قوم کی مجلس کے بارے میں کیا کریں جو ہمیں اتنی اُمید دلاتی ہے کہ ہمارے دل اُڑنے لگ جاتے ہیں یعنی ہم خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل کی قسم! تمہارا ایسی قوم کی صحبت اختیار کرنا جوتمہیں خوف دلائے یہاں تک کہ تمہیں اخرت میں امن حاصل ہوجائے تمہارے لئے اس قوم کی صحبت اختیارکرنے سے بہترہے جو تمہیں اتنا امن دلائے کہ آخرت میں تمہیں خوف زدہ کرنے والے امور لاحق ہو جائیں۔” 
    جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رخمی کیا گیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کا وقت آگیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا:”میرے رخسار کو زمین سے ملا دو، اگر اللہ عزوجل نے مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میری حسرت کا عالم کیا ہوگا؟” حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کی: اے امیر المومنین! یہ خوف کیسا؟” حالانکہ اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں فتوحات کے در کھول دیئے اور بہت سے شہر آباد کئے، کیاوہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایسا معاملہ فرمائے گا؟” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”میں اس بات کو پسند کرتاہوں کہ میری اس طرح نجات ہوجائے کہ نہ وہ مجھ سے مؤاخذہ فرمائے اور نہ مجھ پر انعام فرمائے۔” ایک اور روایت میں ہے :”نہ مجھے اجر ملے اور نہ ہی میرے ذمہ کوئی  گناہ ہو۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب وضو کرکے فارغ ہوتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر لرزہ طاری ہوجاتا۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”تم پر افسوس ہے! کیا تم نہیں جانتے کہ میں کس کی بارگاہ میں کھڑا ہو رہا ہوں او رکس سے مناجا ت کرنا چاہتا ہوں؟”

     امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”خوفِ خدا عزوجل مجھے کھانے ، پینے اور خواہشات کی تکمیل سے روک دیتا ہے۔” 
(64)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان سات افرادکا تذکرہ فرمایا جنہیں اللہ عزوجل اس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا اور ان خوش نصیبوں میں اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے تنہائی میں اللہ عزوجل کی وعیدوں اور اس کے عقاب کو یاد کیا تو اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کو یاد کر کے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔”
(صحیح البخاری، کتاب الاذان،باب من جلس فی المسجد۔۔۔۔۔۔ الخ،الحدیث:۶۶۰،ص۵۳،”تحت ظل عرشہ” بدلہ” فی ظلہ”)
(65)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ،باعث نزول سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”دوآنکھوں کو جہنم کی آگ نہ چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو رات کے کسی حصے میں اللہ عزوجل کے خوف سے روئے اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ عزوجل کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزارے۔”
(جامع الترمذی،کتاب الجھاد،باب ماجاء فی فضل الحرس۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۶۳۹،ص۱۸۲۰، بدون” فی جوف اللیل ”)
(66)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے دو جہاں،مکینِ لامکاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”قیامت کے دن ان تین آنکھوں کے علاوہ ہر آنکھ روئے گی: (۱) وہ آنکھ جو اللہ عزوجل کی حرام کردہ اشیاء سے رک جائے، (۲) وہ آنکھ جو راہ خدا عزوجل میں پہرہ دے اور (۳) وہ آنکھ جس سے خوفِ خدا عزوجل میں مکھی کے پر کے برابر آنسو نکلے۔”
 (الترغیب والترہیب، کتاب التوبۃ والزہد ، باب الترغیب فی بکاء من خشیۃ اللہ ،الحدیث:۵۰۹۶ ،ج۴ ، ص ۹۹)
(67)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کائنات،فخرِ موجودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو شخص خوفِ خدا عزوجل میں روئے گا وہ جہنم میں اس وقت تک داخل نہ ہوگا جب تک دو دھ تھنوں میں واپس نہ چلا جائے۔ اور راہِ خدا عزوجل کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔”
(جامع الترمذی، کتاب فضائل الجھاد،باب ماجاء فی فضل غبار،الحدیث:۱۶۳۳،ص۱۸۱۹)
    حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العا ص رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ”خوفِ خدا عزوجل میں ایک آنسو بہانا مجھے ہزار دینار صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔” 
(68)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عون بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”مجھے خبردی گئی ہے کہ خوفِ خدا عزوجل میں نکلنے والے انسان کے آنسو اس کے جسم کے جس حصہ پر پہنچیں گے اللہ عزوجل اس حصے کو جہنم پر حرام فرمادے گا اورنور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سینہ مبارک سے رونے کی آواز اس طرح نکلتی تھی جیسے کھولتی ہوئی ہنڈیا کے جوش مارنے سے نکلتی ہے۔”        حضرت سیدنا کِندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”خوفِ خدا عزوجل میں روتے ہوئے بہنے والے آنسوؤں کا ایک قطرہ آگ کے کئی سمندر بجھادیتا ہے۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا ابن سماک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے فرماتے:”تیری باتیں توزاہدوں جیسی ہيں لیکن عمل منافقوں جیسا ہے اور اس کے باوجود جنت میں داخلہ چاہتا ہے،دور ہوجا! دور ہوجا! جنت کے لئے تودوسرے لوگ ہیں جن کے اعمال ہمارے عملوں جیسے نہیں۔”

    حضرت سیدنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”میں نے حضرت سیدنا جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوکر عرض کی :”اے اللہ کے رسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے شہزادے رضی اللہ تعالیٰ عنہ! مجھے وصیت فرمائیے؟” تو انہوں نے دو باتیں ارشاد فرمائیں : ”اے سفیان! (۱)مروّت جھوٹے کے لئے اور راحت حاسد کے لئے نہیں ہوتی اور(۲)اخوت تنگ دل لوگوں کے لئے اور سرداری بداخلاق لوگوں کے لئے نہیں ہوتی۔” میں نے عرض کی: ”اے شہزادۂ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ!مزید ارشاد فرمائیے؟” توانہوں نے مزیدارشاد فرمایا:”اے سفیان! (۱)اللہ عزوجل کے حرام کردہ کاموں سے رکے رہو، تدبر والے بن جاؤ گے(۲)اللہ عزوجل نے تمہارے لئے جو تقسیم مقرر کی ہے اس پر راضی رہو،سرِتسلیم خم کرنے والے بن جاؤ گے (۳)لوگوں سے اسی طرح ملو جس طرح تم چاہتے ہوکہ وہ تم سے ملیں، ایمان والے بن جاؤ گے اور (۴)فاجر کی صحبت میں نہ بیٹھو کہیں وہ تمہیں اپنی بدکاریاں نہ سکھادے، جیسا کہ مروی ہے کہ،
     سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہے کہ وہ دیکھے کس سے دوستی کررہا ہے۔”
(جامع الترمذی، کتاب الزھد، باب الرجل علی دین خلیلہ، الحدیث:۲۳۷۸،ص۱۸۹۰)
    (۵)اور اپنے معاملات میں اللہ عزوجل کا خوف رکھنے والوں سے مشورہ کرلیا کرو۔” میں نے عرض کی: ”اے شہزادۂ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ! مزید ارشاد فرمائیے؟”تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”اے
سفیان! جو خاندان کے بغیر عزت اور حکمرانی کے بغیر ہیبت اور رعب ودبدبہ حاصل کرنا چاہتا ہو اسے چاہے کہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کی ذلت سے نکل کراس کی فرمانبرداری میں آجائے۔” میں نے عرض کی: ”اے شہزادۂ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ! مزید نصیحت فرمائیے؟”تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”مجھے میرے والد گرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین باتیں سکھاتے ہوئے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”اے میرے بیٹے! (۱)جو برے آدمی کی صحبت اختیار کرتا ہے، وہ سلامت نہیں رہتا (۲) جو برائی کی جگہ جاتاہے، اس پر تہمت لگتی ہے اور (۳)جو اپنی زبان قابو میں نہیں رکھتا، وہ نادم ہوتا ہے۔”
    حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”میں نے حضرت سیدنا وھیب بن ورد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا: ”کیا اللہ عزوجل کا نافرمان بھی عبادت کی لذت پاتا ہے؟” تو انہوں نے ارشاد فرمایا:”نہیں، بلکہ جو اللہ عزوجل کی نافرمانی کے بارے میں سوچتا ہے وہ بھی عبادت کی لذت نہیں پاتا۔” 
    حضرت سیدناامام ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”خوف خواہشات کو جلادینے والی آگ کانام ہے اس لئے اس کی اتنی ہی فضیلت ہے جتنا یہ خواہشات کو جلاتا، معصیت سے روکتا اور اطاعت پر اُبھارتا ہے، نیز خوف فضیلت والا کیونکر نہ ہو کہ اسی سے پاکدامنی، تقوی، پرہیزگاری، مجاہدات اور دیگر وہ اعمال حاصل ہوتے ہیں جن کے ذریعے بندہ اللہ عزوجل کا قرب حاصل کرتا ہے جیسا کہ اس کی فضیلت قرآنی آیات واحادیث سے بھی ظاہر ہے، مثلا اللہ عزوجل کے یہ فرامین مبارکہ:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(1) ہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ یَرْہَبُوۡنَ ﴿154﴾
ترجمۂ کنزالایمان:ہدایت اور رحمت ہے ان کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔(پ9، الاعراف: 154)
(2) رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿8﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے ۔(پ 30، البينۃ:8)
(3)  وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿175﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ 4، اٰل عمران : 175)
(4) وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ46﴾
ترجمۂ کنزا لایمان :اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، الرحمن : 46)
(5) سَیَذَّکَّرُ مَنۡ یَّخْشٰی ﴿ۙ10﴾
ترجمۂ کنزالایمان:عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتاہے۔(پ 30 ،الاعلیٰ : 10)
(6) اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ (پ 22 ،فاطر : 28 )
    اور علم کی فضیلت پر دلالت کرنے والی ہر آیت کریمہ یاحدیث مبارکہ خوفِ خدا عزوجل کی فضیلت کی بھی دلیل ہے کیونکہ خوف علم ہی کانتیجہ ہے۔ 
(69)۔۔۔۔۔۔ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے :”جب بندے کے جسم پر خوفِ خدا عزوجل سے لرزہ طاری ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح درخت سے خشک پتے جھڑتے ہیں۔”
(مسندبزّار،ج۴،الحدیث:۱۳۲۲،ص۱۴۸”باختلاف الالفاظ”)
(70)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے :”اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :”مجھے اپنی عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر نہ تو دو خوف جمع کروں گا ، نہ ہی دو امن ، اگر میرا بندہ دنیا میں مجھ سے بے خوف ہو گا تو میں اسے قیامت کے دن خوف میں مبتلا کروں گا اوراگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے گا تو میں قیامت کے دن اسے امن عطا فرماؤں گا ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(کنز العمال،کتاب الاخلاق من قسم الاقوال، باب حر ف الخاء الخوف والرجاء ،الحدیث:۵۸۷۵،ج۳، ص۶۰،بتغیرٍ قلیلٍ)
    حضرت سیدنا ابوسلیمان دارانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”جس دل میں خوفِ خدا عزوجل نہیں وہ دل ویرا ن ہے، کیونکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
فَلَا یَاۡمَنُ مَکْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿٪99﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تو اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔( پ 9، الاعراف : 99)
    حضرت سیدنا مالک بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”خطا پر رو لینا  گناہوں کواس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح ہوا خشک پتوں کو جھاڑ دیتی ہے۔” 
    ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاقول ہے :”اگر یہ اعلان ہوکہ ایک شخص کے علاوہ تمام لوگ جنت میں جائیں گے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں ہی وہ شخص نہ ہوں۔” یہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد افضل انسان حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں جنت کی بشارت عطا فرمائی مگر اس کے باوجود آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فتنوں اورمنافقین سے متعلق احوال میں حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے راز دار صحابی حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے استفسارفرمایا:”اے حذیفہ! کیامنافقین میں میرا نام بھی ہے؟” تو حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! اللہ عزوجل کی قسم! آپ ان میں سے نہیں ۔” حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے نفس نے میرے احوال کومشتبہ تو نہیں کر دیا اور میرے عیوب کو مجھ سے چھپا تو نہیں لیا اوریہ خوف اتنا زیادہ ہوا کہ انہوں نے رسولِ کائنات ،فخرِ موجودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف سے ملنے والی جنت کی بشارت کو چند ایسی شرائط سے مشروط جانا جوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نہ پائی جاتی تھیں، لہٰذا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بشارت سے اپنے آپ کو مطمئن نہ کيا ۔ 
    حضرت سیدناحسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”جب ہم سب کے باپ حضرت سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام جنت سے زمین پر اترے تو تین سوسال تک خوفِ خداعزوجل سے گریہ وزاری کرتے رہے یہاں تک کہ آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنسوؤں سے سراندیپ کی وادیاں جاری ہو گئیں۔ سراندیپ برصغیر کا ایک خوبصورت ترین ملک ہے (اس کا موجودہ نام سری لنکا (سيلون )ہے )، اس کی فضاباقی تمام شہروں سے زیادہ معتدل ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت سیدنا آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام اس شہر میں اترے تا کہ انہیں جنت سے جدائی کی وجہ سے کوئی زیادہ نقصان نہ پہنچے، اگر حضرت سیدنا آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی دوسرے شہر میں اترتے جہاں کے موسم میں سردی اور گرمی معتدل نہ ہوتی تو آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس کازیادہ نقصان پہنچتا۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا وہیب بن ورد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”اللہ عزوجل نے جب حضرت سیدنا نوح علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ان کے بیٹے کے معاملے میں عتاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الْجٰہِلِیۡنَ ﴿46﴾
ترجمۂ کنزالایمان:میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن۔ (پ 12، ھود: 46)
تو حضرت سیدنا نوح علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام تین سو سال تک روتے رہے یہاں تک کہ آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک رخساروں پر کثرتِ گریہ سے لکیریں بن گئیں۔ 
    حضرت سیدنا وہب بن مُنَبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”حضرت سیدنا داؤد علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام اتنا روتے کہ آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے کی زمین تر ہو جاتی اور اتنا روتے کہ آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنسوؤں سے گھاس اُ گ جاتی پھر اتنا روتے کہ آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آواز بند ہو جاتی ۔ 
    حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:”حضرت سیدنا یحیی بن زکریا علی نبینا و علیہما الصلوٰۃ والسلام اتنا روتے کہ آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رخسار پھٹ گئے اور داڑھیں ظاہر ہو گئیں تو آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ نے آپ سے فرمایا: ”بیٹا! تم مجھے اجازت دو کہ میں اون کے دو ٹکڑے تمہارے گالوں پر رکھ دوں تا کہ تمہاری داڑھیں چھپ جائیں۔” آپ نے اجازت دے دی تو انہوں نے آپ کے رخساروں پر انہیں چسپاں کردیا پھر جب آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام روتے تو وہ آنسوؤں سے بھرجاتے اور آپ کی والدہ انہیں نچوڑ دیتیں اور آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنسو اپنے بازو پر بہا دیتیں۔” 
(71)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:”حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ رونے والے شخص تھے، جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہتا۔”
      (صحیح البخاری،کتاب الصلاۃ ،باب المسجد یکون فی الطریق۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۴۷۶،ص۴۰)
(72)۔۔۔۔۔۔جب نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مرض میں مبتلا ہوئے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تو اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت نرم دل ہیں جب وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو( ان پر غم کا غلبہ ہوجائے گا اور) گریہ وزاری کے سبب لوگ تلاوت نہ سن سکیں گے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (سنن ابن ماجۃ ،کتاب اقامۃ الصلاۃ ، باب ماجاء فی صلاۃ رسول اللہ  فی مرضہ ، الحدیث:۱۲۳۲،۱۲۳۴، ص۲۵۴۹، بتغیرٍ قلیلٍ)
    حضرت سیدنا عبداللہ بن عیسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رخساروں پر رونے کی وجہ سے دوسیاہ لکیریں بن گئی تھیں۔” 
    حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اللہ عزوجل کے اس فرمان:
اَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَ یَرْجُوۡا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:کیاوہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں آخرت سے ڈرتا اوراپنے رب کی رحمت کی آس لگائے۔( پ 23،الزمر:9)
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:”اس سے مراد حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔” 
    حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا:”میرے سامنے حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اوصاف بیان کریں۔” حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”کیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اس سے معاف نہ رکھیں گے؟” تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، ان کے اوصاف بیان کریں۔” حضرت سیدناضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر عرض کی: ”کیا مجھے اس سے عافیت نہ دیں گے؟” تو حضرت سیدناامیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”نہیں، میں آپ کو ان کے اوصاف بیان کئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔” تو حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :”جب ان کے اوصاف بیان کئے بغیر کوئی چارہ نہیں تو سنئے : حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس قدر علوم ومعارف کے حامل تھے کہ اس ميں ان کی انتہا کا اندازہ نہیں لگایاجا سکتا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے معاملہ اور اس کے دین کی حمایت میں مضبو ط ارادے رکھتے تھے، فیصلہ کُن بات کرتے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے تھے، ان کے پہلوؤں سے علم کے سوتے پھوٹتے تھے اور دہن مبارک سے حکمت کے پھول جھڑتے تھے، دنیا اور اس کی رنگینیوں سے وحشت کھاتے اور رات اور اس کے اندھیروں سے اُنْس حاصل کرتے تھے، اللہ عزوجل کی قسم! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ آنسو بہانے والے ،دور اندیش اور افسوس سے ہاتھ ملنے والے تھے، کیونکہ افسردہ اور غمگین شخص ایسا ہی کرتا ہے، اپنے نفس کو بے چینی واضطراب سے مخاطب فرماتے، لباس کھردرا پسند کرتے، جو سامنے آ جاتا وہی کھا لیتے ،اللہ عزوجل کی قسم! جب ہم ان سے کچھ پوچھتے تو وہ اس کا جواب دیتے اور جب انہیں دعوت دیتے تو ہماری دعوت قبول فرماتے اور اللہ عزوجل کی قسم! ہم ان کے قریب رہنے اور ان سے تعلق رکھنے کے باوجود ہیبت کی وجہ سے ان کے سامنے کلام نہ کر سکتے تھے، اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسکراتے تو لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح (دندان مبارک چمکتے)، دینداروں کی تعظیم کرتے اور مسکینوں سے محبت کرتے، طاقتورکو ظلم میں اُمید نہ دلاتے اور کمزور کو انصاف میں مایوس نہ کرتے، اللہ عزوجل کی قسم کھا کر میں گواہی دیتا ہوں کہ آج بھی انہیں اس حال میں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ جب رات اپنے پردے ڈال دیتی اور ستارے ظاہر ہو جاتے تو آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم جائے نماز پر آ کر اپنی ریش مبارک پکڑ لیتے اور اس شخص کی طرح تڑپتے جسے سانپ نے کاٹ لیا ہو اور غمزدہ شخص کی طرح روتے گویا میں انہیں گریہ وزاری کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں: ”یَا رَبَّنَا! یَارَبَّنَا!”یعنی اے ہمارے رب عزوجل! اے ہمارے رب عزوجل! پھر فرماتے :” اے دنیا! تو نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے یا ابھی کچھ شوق باقی ہے؟ ہائے افسوس! ہائے افسوس! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکے میں ڈال، میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اب میرا تجھ سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تیری عمر کم ہے جب کہ تیری آسائشیں حقیر اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ آہ! زادِ راہ قلیل ہے اور سفر بہت دور کا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔” اتنا سننے کے بعد حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں بھر گئیں اور ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی آستین سے اپنے آنسو پونچھنے لگے اور لوگوں کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں، پھر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”اللہ عزوجل ابو الحسن یعنی حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر رحم فرمائے ،اللہ عزوجل کی قسم! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے ہی تھے، اے ضرار! ان پر تمہارا غم کیسا ہے ؟” تو انہوں نے عرض کی: ”اس عورت جیساجس کے پہلو میں اس کے بیٹے کو ذبح کردیا گیا ہوتو نہ اس کے آنسو خشک ہوتے ہیں، نہ غم میں کمی آتی ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

   (حلیۃ الاولیاء ،ذکر علی بن ابی طالب،رقم:۲۶۱،ج۱،ص۱۲۶)
    حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس قدر روئے کہ ٹپکنے والے مشکیزے کی طرح ہوگئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنی کثرت سے روئے کہ آنکھیں کمزور ہوگئیں۔
    حضرت سیدنا عبدالرحمن بن یزید بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یزید بن مرثدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: ”کیا بات ہے کہ میں نے آپ کی آنکھ کو کبھی خشک نہیں پایا؟” تو انہوں نے جواب دیا:”تم یہ سوال کیوں کررہے ہو؟” میں نے عرض کی: ”اِس لئے کہ شاید اللہ عزوجل اس کے ذریعے مجھے نفع بخشے۔” تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”اے میرے بھائی! اللہ عزوجل نے مجھے خبردار کیا ہے کہ اگر میں نے اس کی نافرمانی کی تو وہ مجھے جہنم میں قید کر دے گا۔اللہ عزوجل کی قسم! اگر وہ مجھے حمام میں قید کرنے کی بھی وعید سناتا تب بھی میں اس بات کاحق دار تھا کہ میری کوئی آنکھ خشک نہ ہوتی۔” میں نے پوچھا: ”کیا تنہائی میں بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہی حال ہوتا ہے؟” تو انہوں نے ارشاد فرمایا:”تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟” میں نے عرض کیا”شاید اللہ عزوجل مجھے اس سے نفع پہنچائے، تو انہوں نے جواب میں فرمایا: ”اللہ عزوجل کی قسم! جب میں اپنی زوجہ کے پاس ہم بستری کے ارادے سے جاتا ہوں تو یہی خیال میرے ارادے کے درمیان حائل ہو جاتاہے اور جب میرے سامنے کھانا رکھا جاتا ہے تب بھی یہی خیال میرے اور کھانے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے یہا ں تک کہ میری زوجہ اور بچے بھی رو پڑتے ہیں حالانکہ وہ یہ بھی نہیں جان سکتے کہ کیوں رو رہے ہیں؟ بسااوقات میری زوجہ بے قرار ہو کر کہتی ہے ہائے افسوس! میں نے آپ کے ساتھ اس دنیوی زندگی میں اتنے غم پائے ہیں کہ میری آنکھوں نے کبھی ٹھنڈک اور قرار پایا ہی نہیں۔” 
    حضرت سیدنا جعفر بن سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”حضرت سیدنا ثابت بنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی تو طبیب نے عرض کی: ”آپ مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دیں تو آپ کی آنکھیں ٹھیک ہو جائیں گی۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا: ”وہ کیا ہے؟” تو طبیب نے عرض کی: ”رویا نہ کریں۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”جو آنکھ نہ روئے ایسی آنکھ میں بھلاکون سی بھلائی رہ جاتی ہے۔”
    حضرت سیدنا حسن بن عرفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ”واسط” میں حضرت سیدنا یزید بن ہارون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا، آپ کی آنکھیں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں پھر کچھ عرصہ بعد میں نے انہیں دیکھا تو وہ نابینا ہوچکے تھے، میں نے پوچھا:”اے ابو خالد! آپ کی خوبصورت آنکھوں کوکیا ہوا؟” تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”انہیں سحر کا رونا لے گیا۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا فتح موصلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک عقیدت مند آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ کو روتے ہوئے اس حال میں پایا کہ آپ کے آنسوؤں میں پیلاپن واضح تھا۔ تو اس نے دریافت کیا: ”کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خون کے آنسو رو رہے ہیں؟” تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں!” اس نے دوبارہ عرض کی: ”کس بات پر رو رہے ہیں؟” آپ نے جواب دیا: ”اللہ عزوجل کے واجب کردہ حق سے کوتاہی برتنے پر۔” پھر آپ کے انتقال کے بعد اسی شخص نے آپ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا : ”مَافَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟” آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس نے مجھے بخش دیا۔” اس شخص نے پوچھا : ”آپ کے آنسوؤں کا کیا ہوا؟” تو آپ نے جواب دیا: ”اللہ عزوجل نے ان کے سبب مجھے اپنے قرب سے مشرف فرمایا اور مجھ سے پوچھا :”اے فتح! تُو کس بات پر رویا کرتا تھا؟” میں نے عرض کی :”میں تیرے واجب کردہ حق کی ادائیگی میں کوتاہی پر روتا تھا۔” پھر پوچھا :”خون کے آنسو کیوں روتا تھا؟” تو میں نے عرض کی: ”اس خوف سے کہ کہیں تو میرے لئے توبہ کا دروازہ نہ بند کر دے۔” تواللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:”اے فتح! اس( رونے) سے تیرا ارادہ کیا تھا؟ مجھے اپنی عزت کی قسم! چالیس سال تک تیرے محافظ فرشتے آسمانوں پر اس طرح آئے کہ تیرے اعمال نامے میں ایک بھی گناہ نہیں تھا۔”

(73)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناعطا ء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت سیدناعبید بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ، اُم المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت سیدناعبید بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”تمہیں ہماری ملاقات کا خیال کب آگیا؟”تو انہوں نے عرض کی: ”اے مادرِمحترم رضی اللہ تعالیٰ عنہا! میں آپ کو وہی جواب دوں گاجو اگلوں نے اس موقع پر دیا :”ملاقات میں دیر کیا کرو محبت میں اضافہ ہو گا۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا: ”ہمیں فضول گفتگو سے معاف ہی رکھو۔” حضرت سیدنا عبید بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں جو سب سے انوکھی چیز دیکھی وہ ہمیں بیان فرمائیں۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کچھ دیر سکوت فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا: ”ایک رات شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)! آج رات مجھے اپنے رب عزوجل کی عبادت کرنے دو۔” میں نے عرض کی: ”مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قربت محبوب ہے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خوشی بھی عزیز ہے۔” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی گود مبارک تر ہو گئی، پھر اتنا روئے کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی، جب حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز کا وقت ہوجانے کی خبر دینے حاضر ہوئے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوروتے ہوئے پایا تو عرض کی: ”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سبب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں اللہ عزوجل کاشکر گزار بندہ نہ بنوں؟ بے شک آج رات مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے کہ جو اسے پڑھ کر اس میں غور نہ کرے اس کے لئے ہلاکت ہے، وہ آیت مبارکہ یہ ہے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیۡ تَجْرِیۡ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الۡاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّتَصْرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوۡنَ ﴿164﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدا ئش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان وزمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں۔(پ 2، البقرۃ :164)
(صحیح ابن حبان،باب ذکر البیان،بان المرء علیہ اذا خلا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۱۹،ج۲،ص۸)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے! رونا یا تو غم کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر درد کی وجہ سے، کبھی گھبراہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے تو کبھی خوشی کی وجہ سے ، کبھی شکر گزاری کے لئے رونا آتاہے تو کبھی خوفِ خدا عزوجل کی وجہ سے۔ اور یہی رونا سب سے افضل اورآخرت میں گراں قدر ہو گا جبکہ دکھاوے اور جھوٹ سے رونا، رونے والے کی سرکشی، برائی اور رحمتِ الٰہی عزوجل سے دوری میں اضافہ کرتا ہے، 
    لہٰذا جو شخص یہ نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل نے اپنے علمِ ازلی میں اس کے بارے میں اَبدی سعادت لکھی ہے یا دائمی شقاوت، بہرحال وہ ان دو حالتوں میں سے کسی میں بھی ہو وہ حرام ٹھہرائے گئے کاموں کی کشتی میں سوار ہے اوراس کے ساتھ ساتھ مخالفتِ الٰہیہ عزوجل کی ہوا بھی چل رہی ہے،اب اس پرلازم ہے کہ وہ اپنے رونے ، افسوس اور غم واندوہ میں کثرت کرے اور ظاہری و باطنی گناہوں سے دوری اختیار کرے نیز اپنے سابقہ گناہوں اور خطاؤں سے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں نجات طلب کرے، شاید اللہ عزوجل اسے سچی توبہ کی توفیق مرحمت فرمائے اور اسے جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں سے نکال کر علم اور اطاعت کی دولت سے نواز دے اور ان دونوں کے ثمرات اس پر کھول دے۔ 
    کسی بزرگ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے :”سب سے نرم دل آدمی وہی ہوتا ہے جس کے گناہ کم ہوتے ہیں۔” 
(74)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں عرض کی: ”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نجات کیا ہے؟” توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”نجات يہ ہے کہ تم اپنی زبان پرقابو پا لو، اپنے گھر کو وسیع کرلواور اپنے  گناہوں پر آنسو بہایا کرو۔”
(جامع الترمذی،ابواب الزھد ، باب ماجاء فی حفظ اللسان، الحدیث:۲۴۰۶،ص۱۸۹۳”امسک ”بدلہ ”املک”)
(75)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”میں تم سب سے زیادہ اللہ عزوجل کی معرفت رکھتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں۔”
(صحیح البخاری ،کتاب الایمان،باب قول النبی اناا علمکم باللہ،الحدیث:۲۰،ص۳ ،بدون”اشدکم لہ خشیۃ”)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اسی وجہ سے انبیاء ورسل علیہہم الصلاۃوالسلام اور علماء واولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ پر خوفِ خدا عزوجل کا غلبہ رہتا ہے جبکہ ظالم و سرکش، فرعون خصلت، بیوقوف، جاہل، عام اور کمینے و رذیل لوگوں پراللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر سے بے خوفی غالب رہتی ہے حتی کہ وہ سخت عتاب، جہنم کے عذاب اور حجاب کی دوری سے اس طرح بے خوف رہتے ہیں جیسے حساب و کتا ب سے فارغ ہو چکے ہوں۔ اللہ عزوجل ان کی حالت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
نَسُوا اللہَ فَاَنۡسٰىہُمْ اَنۡفُسَہُمْ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ ﴿19﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے انہیں بَلامیں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں ۔(پ 28، الحشر :19)
(76)۔۔۔۔۔۔ایک انصاری خاتون حضرت سیدتنا اُم علاء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے :”جب پہلے پہل مہاجر صحابہ کرام علیہم الرضوان، انصار کے پاس تشریف لائے تو انصار نے(ان کی معاشی پریشانیوں کا بوجھ بانٹنے کے لئے) ان سب مہاجرین کوآپس میں قرعہ کے ذریعے تقسیم کر لیا تو جلیل القدر، عبادت گزار صحابی حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے حصہ میں آئے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہلِ بدر میں سے ہیں،
     جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کی تیمارداری کی یہاں تک کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصال فرمایا اور ہم نے انہیں کفن پہنا دیاتو رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہمارے پاس تشریف لائے تومیں نے کہا: ”اے ابو سائب! اللہ عزوجل تم پر رحم فرمائے، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ عزوجل نے تمہیں عزت عطا فرما دی ہے۔” توخاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ عزوجل نے انہیں عزت عطا فرمادی ہے؟” میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پرقربان،یہ تو میں نہیں جانتی۔” تو سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو انتقال کر گئے، اللہ عزوجل کی قسم! میں ان کے لئے خیر کی امید رکھتا ہوں۔” (نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ان کی گواہی پر انکار اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے کسی قابل اعتماد وقطعی دلیل کے بغیر یقینی گواہی دی تھی حالانکہ انہیں چاہے تھا کہ گواہی یقین کے انداز میں نہیں بلکہ اُمید کے انداز میں دیتیں جیسا کہ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے طرزِعمل سے دکھایا)
     اس کے بعد مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”میں اللہ عزوجل کا رسول ہونے کے باوجود اپنے (ذاتی )علم سے نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ۔”تو حضرت سیدتنا ام علاء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی:”اللہ عزوجل کی قسم! میں اس کے بعد کبھی کسی کی تعریف( جزم ویقین کے ساتھ) نہیں کروں گی(بلکہ امید اور اللہ عزوجل سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے ہی اس کی تعریف کروں گی)۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مزید فرمایا: ”اس واقعہ نے مجھے غمزدہ کردیا پھرجب میں سوئی تو میں نے خواب میں حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ایک جاری چشمہ دیکھا تو آقائے دو جہاں، مکینِ لامکاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس حاضر ہو کر اس خواب کا تذکرہ کیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”وہ اُن کا عمل ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (صحیح البخاری ، کتاب الشھادت، باب القر عۃ فی المشکلات ، الحدیث: ۲۶۸۷ ، ص ۲۱۳،مختصراً)
(77)۔۔۔۔۔۔جب حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا تو نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان کے گال کا بوسہ لیااور رونے لگے یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک آنسو حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گال پر بہنے لگے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی رو دئيے، پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اے ابو سائب! تم اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا۔” تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں ”اَلسَّلَفُ الصَّالِح” کے نام سے پکارا، نیز یہ وہ پہلے صحابی تھے جنہیں بقیعِ غرقد میں دفن کیا گیا۔”
(کنزالعمال، کتاب الفضائل، الحدیث:۳۳۶۰۷،ج۱۱،ص۳۳۷)
    غور کیجئے کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدری صحابی ہونے کے باوجود ان کے بارے میں یقین کے ساتھ گواہی دینے پر مَخزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کس طرح ممانعت فرمائی حالانکہ، 
(78)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے:اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ عزوجل نے اہل بدر کی شان میں یہ فرمایا ہے: ”تم جوچاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیاہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(کنز العمال،کتاب الفضائل،فضائل الامۃ ، اھل بد ر، الحدیث:۳۷۹۵۶،ج ۱۴،ص۳۱)
     مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ان کا بوسہ لینا، ان کے لئے آنسو بہانا، انہیں افضل واعظم اوصاف سے متصف کرنا، یہ فرمانا کہ”انہوں نے دنیا کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا۔” اور یہ کہ ”يہ السلف الصالح ہیں۔” یہ تمام معلومات اس بات کی خبر دیتی ہیں کہ تم اگرچہ کتنی ہی نیکیاں کیوں نہ کرلو تمہیں چاہے کہ تم اللہ عزوجل سے ڈرتے رہو اور اس کے عذاب اور دردناک عقاب سے خوفزدہ رہو، کیونکہ اللہ عزوجل پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں۔
قُلْ فَمَنۡ یَّمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْـًٔا اِنْ اَرَادَ اَنۡ یُّہۡلِکَ الْمَسِیۡحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ وَمَنۡ فِی الْاَرْضِ جَمِیۡعًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :تم فرمادو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتاہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اوراس کی ماں اورتمام زمین والوں کو۔(پ 6 ،المآئدہ : 17)
(79)۔۔۔۔۔۔شہنشاہ ِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس صحابیہ پر انکار فرمانے کی ایک نظیر اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا واقعہ بھی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:” صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ایک انصاری بچے کے جنازے میں بلایا کیا گیا، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! جنت کی اس چڑیاکے لئے سعا دت ہے کہ نہ اس نے کبھی برائی کو پایا اور نہ ہی کوئی برا کام کیا۔” توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! کیا کچھ اور کہنا ہے؟ اللہ عزوجل نے کچھ لوگوں کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے ، لیکن جنت کو ان کے لئے اس وقت پیدا کیا تھا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے اورکچھ لوگوں کو جہنم کے لئے پیدا فرمایا او رجہنم کو اسی وقت ان کا مقدر بنا دیا تھا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔”
(صحیح مسلم ،کتاب القدر،باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۷۶۸،ص۱۱۴۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کچھ لوگوں نے اس حدیثِ مبارکہ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ”مؤمنین کے نابالغ بچوں کا جنت میں داخلہ یقینی نہیں۔” علماء کرام رحمۃاللہ تعالی علیہم نے قطعی آیات واحادیث کے مخالف ان کے اس شنیع قول کا خوب انکار فرمایا اور اس کے قائل کوغلط کہا اوریہ ارشاد فرمایاکہ”اس حدیثِ مبارکہ سے استدلال نہیں کیاجاسکتا کیونکہ بالاجماع اس کا ظاہری معنی مرادنہیں، بلکہ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بات اللہ عزوجل کے اس خبر دینے سے پہلے بیان فرمائی تھی کہ مؤمنین کے نابالغ بچے قطعی جنتی ہیں، چونکہ اس وقت ان کا جنتی ہونا یقینی نہیں تھا لہٰذا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یقین کے ساتھ اس کا انکار فرمایا۔ جبکہ نصوص قطعیہ کی گواہی کے بعد مسلمانوں کے بچوں کوقطعی جنتی کہنے والے پر انکار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اختلاف تو کفار کے بچوں کے بارے میں ہے جبکہ صحیح ترین قول یہی ہے کہ وہ بھی جنت میں ہوں گے، اب ہم اپنی گفتگوکی طرف آتے ہیں۔ 
(80)۔۔۔۔۔۔رسولِ اَکرم، نورِ مجسَّم ،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کے اس فرمانِ عالیشان سے تمام مؤمنین کیوں نہ ڈریں کہ
”سُوْرَۂ ھُوْد، اَلْحَاقَّۃُ، اَلْوَاقِعَۃُ،عَمَّ یَتَسَاءَ لُوْنَ، اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ اور اَلْغَاشِیَۃُ نے مجھے بوڑھاکرديا۔”
(مجمع الزوائد،کتاب التفسیر،الباب ۱۲،الحدیث :۱۱۰۷۲،۱۱۰۷۵،ج۷،ص۱۱۷ )
    علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”شایداس کا سبب یہ ہے کہ ان سورتوں میں دلايا گیا خوف اور وعیدیں انتہائی سخت ہیں اگرچہ ان میں آخرت کے احوال ،عجائبات ، ہولناکیاں اورہلاک ہونے والوں اورعذاب پانے والوں کے احوال بھی مختصر طور پر بیان کئے گئے ہیں جبکہ سُوْرَۂ ھُوْد استقامت کے احکامات پر مشتمل ہے، اوریہ خوفِ خدا عزوجل وہ مشکل ترین مقام ہے جس پر قائم رہنے کے اہل صرف نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسمَّ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہی ہیں۔ اوریہ مقامِ شکر کی طرح ہے کیونکہ شکر اس چیز کا نام ہے کہ”بندہ اپنے تمام اعضاء کو اللہ عزوجل کی عطا کردہ تمام نعمتوں کے ساتھ خواہ وہ ظاہری حواس ہوں یا باطنی ، اپنے مقصدِ تخلیق یعنی اللہ عزوجل کی عبادت اور کامل طریقے سے اس کی اطاعت میں مصروف کر دے۔”
(81)۔۔۔۔۔۔اسی لئے جب نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مجاہدات، کثرتِ گریہ اور خوف وتضرع کے بارے میں پوچھا جاتا :”یارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایسا کر رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سبب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے :”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح البخاری ،کتاب التھجد،باب قیام النبی اللیل،الحدیث:۱۱۳۰،ص۸۸)
    کتنے تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًاثُمَّ اھْتَدٰی0 (پ ۱۶، طٰہ ٰ: ۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اوربیشک میں بہت بخشنے والاہوں اسے جس نے توبہ کی اورایمان لایااوراچھاکام کیاپھرہدایت پررہا۔
سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں بہت بڑی امید دلائی گئی ہے حالانکہ اللہ عزوجل نے اس میں مغفرت تک رسائی کے لئے چار شرائط عائد کی ہیں جن کے بعد بڑی اُمید کہاں باقی رہتی ہے؟ وہ شرائط یہ ہیں: (۱)توبہ(۲)ایمان کامل (۳)نیک عمل اور (۴)ہدایت یافتہ لوگوں کے راستے پر چلنا۔مثال کے طور پرہر وقت مراقبہ ومشاہدہ اور ذکر و فکر میں مگن رہنا اوراپنے قال و حال اور دعوت واخلاص کے ساتھ اللہ عزوجل کی مخلوق کی جانب متوجہ ہونا۔
    مذکورہ شرائط میں جس ایمانِ کامل کو بیان کیاگیا ہے اس کی وضاحت حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمان ذیشان میں موجود ہے: 
(82)۔۔۔۔۔۔”تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی چيز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے۔”
    (صحیح البخاری ، کتاب الایمان،باب من الایمان ان یحب لاخیہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۳،ص۳)
اور اس کی مثال قرآنِ کریم میں بھی ہے:
فَاَمَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مِنَ الْمُفْلِحِیۡنَ ﴿67﴾
تر جمہ کنز الایمان :تو وہ جس نے تو بہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو۔(پ 20،القصص : 67)
    تم اس بات سے دھوکا نہ کھانا کہ ”عَسٰی” کالفظ جب اللہ عزوجل کی طرف سے استعمال ہو تو وہ یقین کے معنی میں ہوتاہے کیونکہ یہ اکثری قاعدہ تو ہے مگر کلی نہیں،
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
فَقُوۡلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی ﴿44﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تواس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یاکچھ ڈرے۔(پ 16،طٰہٰ: 44)
    حالانکہ فرعون نے نہ تو نصیحت حاصل کی اور نہ ہی نفع دینے والا خوف وخشیت اپنایا، بلکہ یہاں اللہ عزوجل نے تمہیں خبردارکیا ہے کہ جب تم سچی توبہ کر لو، ایمانِ کامل لے آؤ اور نیک عمل کو اپنا لو، تب اپنے لئے فلاح کے حصول اور حق تعالیٰ کی بارگاہ سے ہدایت و قرب کی اُمید رکھو،اورخواہ کتنے ہی نیک عمل کیوں نہ کرلو اللہ عزوجل کی خفیہ تد بیر سے بے خوف رہنے سے بچتے رہو، کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

فَلَا یَاۡمَنُ مَکْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿٪99﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تو اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔(پ 9 ، الاعراف: 99)
اور اللہ عزوجل کے ان فرامین مبارکہ کو بھی پیش نظر رکھو:
(1) لِّیَسْـَٔلَ الصّٰدِقِیۡنَ عَنۡ صِدْقِہِمْ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:تاکہ سچوں سے ان کے سچ کا سوال کرے۔ (پ21،الاحزاب:8) 
(2) وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ؕ اِنَّ اَخْذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۰۲﴾اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوۡعٌ ۙ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوۡدٌ ﴿۱۰۳﴾وَمَا نُؤَخِّرُہٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوۡدٍ ﴿۱۰۴﴾ؕیَوْمَ یَاۡتِ لَا تَکَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ۚ فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَّسَعِیۡدٌ ﴿۱۰۵﴾فَاَمَّا الَّذِیۡنَ شَقُوۡا فَفِی النَّارِ لَہُمْ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّشَہِیۡقٌ ﴿۱۰۶﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور ایسی ہی پکڑہے تیرے رب کی، جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بے شک اس کی پکڑ دردناک کرّی ہے بے شک اس میں نشانی ہے اس کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے، جب وہ دن آئے گا کوئی بے حکم خدا بات نہ کریگا تو ان میں کوئی بد بخت ہے اور کوئی خوش نصیب تو وہ جو بد بخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس میں گدھے کی طرح رینکیں گے ۔(پ 12،ھود : 102تا 106)
(3) وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡہَا جِثِیًّا ﴿۷۲﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پرنہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے پھر ہم ڈروالوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑدیں گے گھٹنوں کے بل گرے۔(پ 16، مریم : 71۔72)
(4) وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿23﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انھیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظرآتے ہیں۔(پ 19، الفرقان: 23)
(5) وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیۡہِمْ اِبْلِیۡسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوۡہُ اِلَّا فَرِیۡقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ
ترجمۂ کنزالایمان:اور بے شک ابلیس نے انہیں اپنا گمان سچ کر دکھا یا تو وہ اس کے پیچھے ہولئے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا۔(پ22،سبا: 20) 
(6) فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کر ے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ برائی کرے اسے دیکھے گا ۔(پ 30،الزلزال: 7۔8)
(7) وَالْعَصْرِ ۙ﴿1﴾اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسْرٍ ۙ﴿2﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ٪﴿3﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اس زمانہ محبو ب کی قسم! بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جوایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔ (پ 30،العصر : 1تا3)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بصیرت کی آنکھ اورفراست کے نور سے دیکھو ! اللہ عزوجل نے ہرانسان پر خسارے کا حکم لگایا کیونکہ”اَلْعَصْر”پر ”الف لام” عموم اور اِستغراق کے لئے ہے اور اس کی دلیل استثناء ہے کہ ہر انسا ن خسارے میں ہے مگر جو ان چار باتوں کا جامع ہوگا وہ ہلاکت میں ڈالنے والے خسارے سے نجات یافتہ ہوگا،وہ چار باتیں یہ ہیں: (۱)ایمان (۲)نیک عمل (۳)حق کی اس طرح وصیت کرنا کہ وہ لوگ کتاب وسنت سے ثابت شدہ اخلاق و آداب، احکام و اقوال اور ظاہری و باطنی تمام افعال کی شرائط پر عمل کریں تا کہ ا ن میں سے کوئی شئے اخلاص کے بغیرنہ پائی جائے اور وہ اس سے صرف اللہ عزوجل کی رضا چاہیں اور (۴) انہیں صبر کی تلقین کریں کہ وہ اطاعت کرنے، ناپسندیدہ امور ، آزمائشوں،  گناہ چھوڑنے اور اپنی خواہشات ولذات ترک کرنے پر صبر کریں، ہماری بیان کردہ یہ چار شرائط جس میں پائی جائیں وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ایک بڑی امید یعنی خسارے ، عا ر اور تباہی وبربادی سے سلامتی کی راہ پر ہو گا اور اسے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں وصول کے مرتبہ سے مشاہدہ کا بلند مرتبہ حاصل ہوگا اور حال ومآل یعنی دنیاوآخرت میں اس کی رضا حاصل ہو گی۔ اللہ عزوجل اپنے احسان اور کرم سے ہم میں ان شرائط پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا فرمائے۔آمین


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ایک عقل مند کے لئے یہ بات کس طرح درست ہوسکتی ہے کہ وہ اللہ عزوجل کی پکڑ اور اس کے انتقام سے بے خوف رہے، حالانکہ اس کادل رحمن عزوجل کی قدرت کی دو انگلیوں کے درمیان ہے یعنی ایک قوم کے لئے خوش بختی اور دوسری کے لئے بد بختی کے ارادے کے درمیان ہے، دل کو قلب اسی لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پھرنے، بدلنے میں کھولنے والی ہانڈی سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔

(83)۔۔۔۔۔۔اسی لئے شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دورانِ سجدہ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے :’ ‘یَامُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔
ترجمہ:اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ ”
(جامع الترمذی،کتاب الدعوات،باب دعاء یا مقلب القلوب ثبت قلبی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۵۸۷،ص۲۰۲۱)
اور مقلِّبُ القُلوب عزوجل کا فرمان عبرت نشان ہے :
اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمْ غَیۡرُ مَاْمُوۡنٍ ﴿28﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں۔(پ29، المعارج: 28)
    اگر اللہ عزوجل اپنے عارف بندوں اور وارثینِ علوم ِانبیاء یعنی علماء پر لطف و کرم نہ فرماتا اور امیدکی سہانی مدد سے انہیں تسکین نہ دلاتا تو ان کے کلیجے جہنم کے خوف سے جل جاتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!