Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اجمالی اقوال

    علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :” کسی نبی کو جوبھی معجزہ یا فضیلت عطا کی گئی حضور نبئ کریم،رء وف رحیم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اسی کی مثل یا اس سے بڑھ کر معجزہ اور فضیلت عطا ہوئی ۔انہوں نے سیدناامام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی ۱؎ (204-150ھ)کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے کہ جب ان سے کہا گیا کہ حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علیٰ نبیناو علیہ الصلوٰۃو السلام کو مُردے زندہ کرنے کا معجزہ عطا کیا گیاتوآپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”حضوراَکرم،نورِمجسَّم،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ ٖ وسلم کواُستنِ حنانہ(يعنی لکڑی کا وہ تنا جس سے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام تعمیر مبنر سے قبل ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرما تے تھے )کامعجزہ عطاکیا گیاکہ وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فراق میں روتاتھااوریہ اُس سے بھی بڑا معجزہ ہے۔”
    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا یہ قول اس قدرمشہور ہواکہ جس نے بھی فضائلِ نبویہ علی صاحبھا ا لصلوٰۃ والسلام کے بارے میں کوئی کتاب تصنیف کی اُس نے یہ قول ضرور ذکرکیا۔
    علامہ بد رالدین ابن حبیب علیہ رحمۃ اللہ الحسیب۲؎(المتوفی 779ھ)” اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ
فِیْ اَشْرَفِ الْمَنَاقِبِ۱؎ ”میں فرماتے ہیں:”انبیاء کرام علیہم السلام میں سے اگر کسی کو کوئی فضیلتِ مستفادہ(يعنی جس سے فائدہ حاصل ہو)حاصل ہوئی توحضور نبئ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی مثل بلکہ اس سے بھی بڑھ کر فضیلت عطا ہوئی۔”
    جب یہ ثابت ہوچکا تو پھرلازمی طور پرحضرت سیدناخضرعلیہ السلام کی طرح آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کابھی حقیقت اور باطن کے مطابق فیصلہ کرناثابت ہوگیااور یہ ظاہراور شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کی طرح ہی ہے جو کہ اکثرانبیاء کرام علیہم السلام کے لئے ثابت ہے پس جو چیزاکثرانبیاء کرام علیہم السلام کوعطا کی گئی اسی کی مثل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بھی عطا کی گئی اور جو حضرت سیدنا خضر علیہ السلام کو عطا کی گئی اس کی مثل بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمائی گئی ۔پس یہ دونوں اُمور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں اس حیثیت سے بخوبی جمع ہوگئے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ظاہروباطن دونوں طرح فيصلہ کرنے کا اختيارہے،اس میں کوئی ممانعت نہیں۔
    ہم اس کی مزیدوضاحت اس کلام سے کرتے ہیں جو علامہ سبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ذکر فرمایا ہے۔
    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب ”اَلتَّعْظِیْمُ وَالْمِنَّۃُ ۲؎ ‘میں نقل فرماتے ہیں کہ نبئ کریم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عاليشان ہے:”مجھے تمام لوگوں کی طر ف مبعوث  فرمایا گیا ۔”
(صحیح البخاری،کتاب الصلوٰۃ،باب قول النبی صلّی اللّہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم جعلت لی الارض۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۴۳۷، ج۱،ص۱۶۸)
    یہ فرمانِ اَقدس صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے  زمانہ سے لے کر روزِقیامت تک کے لوگو ں کو شامل نہیں بلکہ ان لوگو ں کو بھی شامل ہے جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے قبل گزرچکے ہیں۔اس سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا مفہوم ظاہر ہوتا ہے جس میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:” مَیں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم (علیہ السلام) روح اور جسم کے درمیان تھے ۔”
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب ماجاء فی فضل النبی صلّی اللّہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم ،الحدیث:۳۶۲۹، ج۵، ص۳۵۱،بدون ” کنت نبیاً” )
    جس نے اس کی تفسیر اس طرح کی کہ”اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے صرف علم میں تھاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نبی ہوں گے۔”وہ اس حدیث پاک کا مفہوم نہ سمجھ سکا، اس لئے کہ اللہ عزوجل کا علم تو ہرشئے کو محیط ہے ۔
    اللہ عزوجل کا حضور نبئ کریم ،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت(یعنی تخلیقِ آدم علیہ السلام) سے نبوت کے ساتھ متصف فرمانااس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کا مفہوم یہی ہونا چاہے کہ یہ (یعنی نبوت کاپایاجانا)ایک ایسا اَمرہوجوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس وقت بھی ثابت ہو،اسی لئے حضرت سیدنا آدم علیٰ نبیناو علیہ الصلوٰۃو السلام نے عرش پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نام مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہِ لکھا ہوا دیکھا ، لہذایہ ضروری ہے کہ يہ اَمر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اسی وقت سے ثابت ہو۔
    اگراس سے صرف يه مرادہوتاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مستقبل ميں نبی ہوں گے توپھر کُنْتُ نَبِیّْاًوَآدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ کے فرمان کے باعث یہ صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے  ساتھ خاص نہیں بلکہ اللہ عزوجل کو اس وقت اور اس سے پہلے بھی تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت کا علم تھا،لہذانبئ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایسی خصوصیت کاہونا ضروری ہے جواس حدیثِ پاک میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اُمت کوبیان فرمائی تاکہ وہ بارگاہِ ربوبيّت ميں اپنے نبئ مکرَّم،نورِ مجسَّم، شاہ بنی آدم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی قدر ومنزلت پہچان لیں۔
    پس ہمیں صحیح حديث سے معلوم ہوگیا کہ اللہ عزوجل کی طر ف سے رسولِ اَکرم،نورِ مجسَّم،شاہِ بنی آدم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت سیدنا آدم علیٰ نبیناو علیہ الصلوٰۃو السلام کی تخلیق سے قبل کمال حاصل تھا ۔یقینا اللہ عزوجل نے تخلیق آدم علیہ السلام سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت پیداکرکے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کونبوت عطا فرمادی پھرتمام انبیاء کرام علیہم السلام سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے پختہ وعدہ لیاتاکہ وہ جان سکیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان سے مقدم ہیں اور ان کے نبی اوررسول ہیں۔
    اللہ عزوجل کی طرف سے حضور نبئ کریم ،رء وف رحیم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو عطاکردہ اس تعظیمِ عظیم پر غور فرمانے سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ،انبیاء کرام علیہم السلام کے بھی نبی ہیں اس لئے اللہ عزوجل قیامت کے دن اس شان کو اورزیادہ ظاہرفرمائے گا کہ جب تمام انبیاء کرام علیہم السلام آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور دنیا میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان اس طرح ظاہرکی کہ آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے شبِ اسراء(يعنی معراج کی رات) تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی اِمامت فرمائی۔
     اگربالفرض حضور نبئ مکرم،رسولِ معظّم،شاہِ بنی آدم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آمد حضرت سیدناآدم،سیدنانوح،سیدناابراہیم،سیدناموسیٰ،اورسیدناعیسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں ہوتی تواُن پر اور اُن کی امتوں پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ بابرکات پر ایمان لانا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرناواجب ہوتا،اسی لئے اللہ عزوجل نے ان سے پختہ وعدہ لیاپس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم معنوی طور پر ان کے نبی ورسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہيں، اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آمدان کے زمانہ میں ہوتی تو بلاشبہ ان پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اِتباع لازم ہوتی۔
     اسی وجہ سے حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علیٰ نبیناو علیہ الصلوٰۃو السلام آخری زمانہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت پرآئیں گے حالانکہ وہ مکرّم نبی ہیں۔وہ ہمارے پیارے نبی محمدِمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت ، قرآن وسنت اور اس کے اَوامرونواہی (يعنی شريعت نے جن باتوں کا حکم ديا اورجن سے منع فرمايا)کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے۔ رسولِ اَکرم،نورِ مجسَّم،شاہِ بنی آدم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ان کا تعلق اسی طرح ہوگا جس طرح ساری اُمت کاہے ،حالانکہ آپ علیہ السلام مکرّم نبی ہی ہوں گے اس سے آپ علیہ السلام کے کمالِ نبوت میں کوئی نَقص نہیں آئے گا۔
    یوں ہی اگرسرکارِمدینہ ،قرارِقلب وسینہ ،فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت سیدناعیسیٰ علیہ السلام ، حضرت سیدناموسیٰ ،حضرت سیدنا ابراہیم ،حضرت سیدنانوح یاحضرت سیدناآدم علیٰ نبیناو علیہم الصلوٰۃو السلام میں سے کسی کے زمانہ میں مبعوث فرمایا جاتا تو پھر بھی وہ سب کے سب اپنی اُمتو ں کے لئے نبی اور رسول ہی ہوتے جبکہ حضور نبئ کریم ،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان سب کے لئے نبی اور رسول ہوتے ۔
    معلوم ہواکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت ورسالت سب کو عام اور شامل ہے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت اُصول میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتوں سے متفق ہے اس لئے کہ اُصول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کا دوسری شریعتوں سے مقدّم ہونااس اعتبارسے ہے کہ اس میں کبھی تخصیص ونسخ کے ساتھ توکبھی تخصیص ونسخ کے بغیرہی فروع(یعنی مسائل واحکام) میں تبدیلیوں کاوقوع پایاجاتاہے۔اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت ان اوقات میں وہی ہوتی جواَنبیاء کرام علیہم السلام ساتھ لائے تھے جس پر وہ ساری اُمتیں عمل پیراہوتیں جبکہ اس وقت اس اُمت کے لئے یہی شریعت ہے،اوراشخاص اوراوقات کے بدلنے سے احکام بھی بدل جاتے ہیں۔
    اس طرح دونوں حدیثوں کا مفہوم ظاہرہوگیا جو کہ پہلے مخفی تھا پہلی حدیثِ پاک میں یہ ارشاد فرمایا کہ”مجھے تمام لوگو ں کی طرف مبعوث فرمایا گیاہے۔”
(صحیح البخاری،کتاب الصلوٰۃ،باب قول النبی صَلّی اللّہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم جعلت لی الارض ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۴۳۷،ج۱،ص۱۶۸)
    ہم سمجھے تھے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے زمانہ سے لے کر قیامت تک کے لئے مبعوث فرمائے گئے ہیں جبکہ اس کا مفہوم یہ ظاہرہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے اولین وآخرین سب کے لئے مبعوث فرمائے گئے ۔
    دو سری حدیثِ پاک میں حضورنبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَیں اس وقت بھی نبی تھا جبکہ حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے ۔”
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب ماجاء فی فضل النبی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم، الحدیث:۳۶۲۹، ج ۵ ، ص۳۵۱،بدون ” کنت نبیاً”)
    اس حدیثِ پاک سے ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صرف علمِ الٰہی عزوجل میں نبی تھے جبکہ ظاہر ہوگیا کہ ایسا مفہوم لینا اس حدیثِ پاک میں زیادتی اور تحریف ہے جیسا کہ ہم نے اس کی شرح بیان کردی ہے۔(یہ علامہ سبکی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا کلام ہے ۔)
    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالیشان میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس زمانے میں مبعوث فرمایاجاتاتو ان اوقات میں اپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت وہ ہی ہوتی جو تمام انبیاء کرام علیہم السلام ساتھ لائے تھے اور اسی شریعت کے مطابق وہ اُمتیں عمل پیرا ہوتیں۔ اس اُصول کے مطابق اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدنا موسیٰ اور حضرت سیدنا خضر علیہماالسلام کے زمانے میں مبعوث فرمائے جاتے تو حضرت سيدناموسیٰ علیہ السلام کی لائی ہو ئی شريعت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہی کی شريعت ہوتی اور حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبیناو علیہ الصلوٰۃو السلام ظاہر اور شریعت کے مطابق فیصلہ فرمایاکرتے تھے اور حضرت سیدنا خضرعلیہ السلام کی اُمت کے لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت وہی ہوتی جس میں حضرت سیدنا خضر علیہ السلام باطن اور حقیقت کے مطابق فیصلہ فرمايا کرتے تھے ۔
    جب معاملہ اس طر ح ہے تو پھر سرکارِ دوعالم،نورِ مجسَّم،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ مسعود اوراعلانِ نبوت کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے یہ دونوں اُمور(یعنی ظاہرو باطن کے مطابق فیصلہ فرمانا)کیونکر بعید ہوسکتے ہيں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بذاتِ خود ان دونوں کو سر انجام دیتے اسے کوئی بھی بعید از قیاس قرارنہیں
دے گا ، علامہ سبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرح صاحب ِ ۱؎ ” قصیدہ بُر دَہ ۲ ؎ ” نے فرمایا:
وَکُلُّ آیٍ اَتَی الرُّسُلُ الْکِرَامُ بِھَا
فَاِنَّمَااتَّصَلَتْ مِنْ نُوْرِہٖ بِھِمٖ
    ترجمہ :ہر وہ معجزہ جوعظیم رسول علیہم السلام اپنے ساتھ لائے وہ ان کو حضور نبئ پاک صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے  نورہی سے ملے۔
فَاِنَّہُ شَمْسُ فَضْلٍ ھُمْ کَوَاکِبُھَا
یُظْھِرْنَ اَنْوَارَھَالِلنَّاسِ فِی الظُّلَمٖ
    ترجمہ:یقینا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فضیلت کے سورج اور باقی تمام انبیاء کرام علیہم السلام اس کے ستارے ہیں جو تاریکیوں میں لوگوں (کی ہدایت)کے لئے اسی سورج کی روشنیوں کوظاہرکرتے ہیں۔
    علامہ شمس الدین ابن الصائغ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۳؎(720-645ھ)”اَلرَّقْمُ” میں فرماتے ہیں کہ انبیاء ومرسلین علیہم السلام نے مخلوق کے سامنے اپنی نبوت پر دلالت کرنے کے لئے جو بھی معجزہ پیش کیااس میں رسولِ اَکرم،نورِ مجسَّم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کانور شامل تھا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نور حضرت سیدنا آدم علیٰ نبیناو علیہ الصلوٰۃو السلام سے پہلے تخلیق ہوچکا تھا جو ان کی طر ف منتقل ہوا پھراصلابِ طاہرہ(يعنی پاک پشتوں) کی طرف یہاں تک کہ ماؤں نے اسے اٹھایاپس وہ نور ان کی طرف منتقل ہوااور اسی نور سے اللہ عزوجل نے انبیاء کرام علیہم السلام کے لئے معجزات کانظام بنایا۔
    کسی شاعر نے اپنے” قصیدہ ہمزیہ”میں کیا ہی خوب کہاہے:
    ”لَکَ ذَاتُ الْعُلُوْمِ مِنْ عَالِمِ الْغَیْبِ وَمِنْھَالِاٰدَمَ الْاَسْمَاءُ”
     ترجمہ: عالم الغیب کی طرف سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تمام علوم عطا ہوئے انہی علوم ميں سے حضرت سیدنا آدم علیٰ نبیناو علیہ الصلوٰۃو السلام کوعطاکردہ اَسماء کاعلم ہے۔
    قصیدہ بردہ شریف ميں ہے:
وَکُلُّھُمْ مِّن رَّسُوْلِ اللہِ مُلْتَمِسٌ 
غَرْفًامِّنَ الْبَحْرِاَوْرَشْفًامِّنَ الدِّیَمٖ
    ترجمہ: اور تمام انبياء کرام ( علیہم السلام )اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے طلب کرنے والے ہيں جيسے سمندرسے ايک چلو يابارش سے ايک قطرہ لے لیاجائے ۔
    اس کی شرح میں بعض نے یہ کہا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے علوم کا منبع علمِ ذاتِ پاکِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔ان تمام علوم کی نسبت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے اسی طرح ہے جس طرح ایک چُلّوکی نسبت سمندر سے اور ایک گھونٹ پانی کی نسبت موسلادھار بارش سے ہوتی ہے۔
۱ ؎ المحدث امام المذہب ، ابو عبداللہ محمد بن ادریس بن العباس بن عثمان القرشی ، المطلبی ، الہاشمی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فلسطین کے شہر غزہ میں پیدا ہوئے ، مکہ ومدینہ منورہ میں پر ورش پائی ، مصر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہوا ، مشہور ہے کہ آپ کا مزا ر شریف قاہر ہ میں ہے آپ کی کثیر تصانیف میں سے چند یہ ہیں ، المسند فی الحدیث ، احکام القرآن ، السنن ، ادب القاضی ، وغیرہ ۔ (معجم المؤ لفین،ج۳،ص۱۱۶، الاعلام للزرکلی،ج۶،ص۲۶)
۲ ؎ ابو محمد علامہ بد رالدین الحسن بن عمر بن الحسن بن حبیب بن عمر الدمشقی ، الحلبی، الشافعی آپ دمشق میں پیدا ہوئے حلب میں پرورش پائی وہیں پر وصال ہوا، آپ کی چند مشہور کتابیں یہ ہیں ،ارشاد السامع والقاری المنتقی من صحیح البخاری ، دلیل المجتا ز بارض الحجاز ۔ (معجم المؤ لفین،ج۱،ص۵۷۵،الاعلام للزرکلی،ج۲،ص۲۰۸)
۱؎ النجم الثاقب فی اشرف المناقب لبد رالدین حسن بن عمر بن حبیب الحلبی ، الشافعی یہ کتاب رمضان المبارک ۷۶۷ ھ میں مختصر ا ًتین فصلوں پر مرتب کر کے تالیف فرمائی۔ (کشف الظنون،ج۲،ص۱۹۳۰)
۲؎فی تحقیق لتومنن بہ ولتنصرنہ للشیخ تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی الشافعی ، (المتوفی ۷۵۶)
(کشف الظنون،ج۱،ص۴۲۲)
۱ ؎ الصوفی ، الشاعر شرف الدین ابو عبداللہ محمد بن سعید بن حماد بن محسن بن عبداللہ الصنھاجی،البوصیری (694-608ھ) مقام بھشیم میں پیداہوئے ، دلاص میں پرورش پائی اور اسکندریہ میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہوا ۔    (معجم المؤلفین،ج۳،ص۳۱۷،الاعلام للزرکلی،ج۶،ص۱۳۹) 
۲ ؎ قصیدۃ الکواکب الدریہ فی مدح خیر البریہ المعروف قصیدہ ئبردہ شریف للشیخ شرف الدین ابی عبداللہ محمد بن سعید الدولاصی ثم البوصیری ۔        (کشف الظنون،ج۲،ص۱۳۳۱)
۳ ؎ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن حسن بن سباع بن ابی بکر الجذامی ، المعروف ابن الصائغ ، آپ دمشق میں پیدا ہوئے اور وہیں آپ کا وصال ہوا ۔(معجم المؤلفین،ج۳،ص۲۲۰،الاعلام للزرکلی،ج۶،ص۸۷)
error: Content is protected !!