Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

چند مسائل

٭۔۔۔۔۔۔اگرکسی کا کبوتر دوسرے کے کبوتروں ميں مل جائے تو اس پر وہ کبوتر واپس کرنا لازم ہے اس کا طريقہ يہ ہو گا کہ وہ مالک کو اپناکبوترپکڑنے کی اجازت دے دے ۔
٭۔۔۔۔۔۔ان کے جو بچے پيدا ہوں گے وہ مادہ کے مالک کی ملک ہوں گے اور اگر ان ميں تميز نہ ہو سکے تو وہ اپنی غالب رائے کے مطابق اس سے لينے کا اختيار رکھتا ہے اورشُبہ کاخوف نہ کرے۔
٭۔۔۔۔۔۔حرام درہم يا تيل کسی کے درہم يا تيل سے مل گيا تو اس کے لئے وہ درہم اور تيل جائز ہے جيسا کہ سیدنا امام غزالی عليہ رحمۃ اللہ الوالی نے فرمایا ہے کہ”حرام کی مقدار کوعلیحدہ کرے اوریہ علیحدہ کرنااس کے حق کے اعتبارسے ہوگا۔”
اعتراض:مگر یہ بات محلِ نظر ہے کيونکہ شريک تقسيم ميں مستقل نہيں ہوتا، لہذا اسے چاہے کہ اسے قاضی کے پاس لے جائے تا کہ وہ دشواری کی صورت ميں مالک کی جانب سے اسے تقسيم کر دے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

جواب:اس کا جواب يہ ہے کہ يہ حکم ضرورت کی وجہ سے ہے کيونکہ يہاں مالک کی طرف سے کوتاہی نہيں جبکہ شرکت اختيار کے ذريعے ثابت ہوتی ہے اور جو چيز اختيار کے بغير ثابت ہو مثلاً وراثت وغيرہ وہ اختيار کے ذريعے ثابت ہونے والی اشياء سے ملی ہو تی ہے، اس صورت ميں اس کا معاملہ قاضی کے پاس لے جانے ميں ظاہری مشقت ہے کيونکہ قاضی اسی وقت تقسيم کر سکتا ہے جب ان کے دلائل سن کر حقيقت حال پر گواہی قائم ہو جائے اور اگرکسی شئے پر قابض افراد قاضی کے پاس وہ شئے تقسيم کرانے لے جائيں تو وہ ايسے گواہ کے بغير ان کی بات نہيں مانے گا جو اس کی ملکيت کی گواہی دے صرف قبضہ پر اکتفاء نہ کریگا کيونکہ اس کا تقسيم کرنا ان کے حق ميں فيصلہ کرنے کوشامل ہو گا اور يہ فقط قبضہ سے نہيں بلکہ ملکيت کے ثبوت کے وقت ہی جائز ہے لہذا طاقت سے زائد يہ مشقت ضرورتاًاس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے لئے حرام کی مقدار کوعلیحدہ کرکے باقی ميں تصرف کرناجائزہے۔
    اوريہ امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی اس بحث کے منافی بھی نہيں کہ”اسے کبوتروں کے اختلاط کے حکم سے ملايا جائے گا۔” کيونکہ ان کی اس سے مراد يہ ہے کہ”وہ تصرف ميں اس کی مثل ہے۔” 
    اگر فريقين کا مقدار ميں اختلاف ہو جائے تو تصديق اسی کی کی جائے گی جو صاحبِ قبضہ ہو کيونکہ قبضہ اسی کا ہے۔
    اگر مملوک کبوتر(یعنی جوکسی کی ملکیت ہو) صحراء ميں مباح کبوتروں(یعنی جوکسی کی ملکیت نہ ہوں) ميں مل جائيں پھر اگروہ مباح کبوتر کسی جال ميں قيد ہوں، اس طرح کہ انہيں صرف ديکھ کر ہی شمار کيا جا سکتا ہو تو ان کا شکار کرنا حرام ہے اور اگرقیدمیں نہ ہوں تو حرام نہيں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    سیدنا ابن منذررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:”اگر ایک جماعت نے اپنے کتے شکار پر چھوڑے اورانہوں نے شکارکومردہ حالت میں پایااور ہر شخص کہے کہ”ميرے کتے نے اس کو قتل کيا۔” تو وہ شکار حلال ہے پھراگرکئی کتوں نے شکار کو پکڑ رکھا ہو تو وہ ان کے مالکوں کے درميان مشترک ہو گا يا ان ميں سے ایک ہی کتے نے شکار کو پکڑ رکھا ہو تو وہ شکار اس کتے کے مالک کا ہو گا اوراگر کتوں نے شکارکوپکڑا ہوا نہ ہو تو امام ابو ثوررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک:”قرعہ ڈالا جائے گا۔” اوردیگرائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزديک:”سب کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کيا جائے اور اگر اس کے فساد کا خوف ہو تو اسے فروخت کر کے اس کی قيمت ان سب کی فلاح پر استعمال کی جائے۔”
error: Content is protected !!