Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ان رسموں کی خرابیاں:

   ان رسموں کی خربیاں میں کیا بیان کروں، صرف اتنا عرض کردیتا ہوں کہ ان رسموں نے مسلمان مالداروں کو غریب کنگال بنادیا۔ گھر والوں کو بے گھر کردیا۔مسلمانوں کے محلّے ہندوؤں کے پا س پہنچ گئے، ہر شخص اپنے شہرمیں صد ہا مثالیں اپنی آنکھوں سے دیکھتاہے۔ اب چند خرابیاں جو موٹی موٹی ہیں عرض کرتاہوں۔اوّل خرابی یہ ہے کہ اس میں مال کی بربادی اور حق تعالیٰ کی نافرمانی ہے ،
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم 
                   نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
   دوسرے یہ کہ یہ سارے کام اپنے نام کے لئے کئے جاتے ہیں۔ مگر دوستو ! سوائے بدنامی کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کھانے والے تو کھانے میں عیب نکالتے ہوئے جاتے ہیں کہ اس میں گھی ولایتی تھا، نمک زِیادہ تھا، مرچ اچھی نہ تھی اور دولہا والے ہمیشہ شکایت ہی کرتے دیکھے گئے، لڑکی کیلئے وہاں طعنے ہی طعنے ہوتے ہیں۔

   لطیفہ: 

یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے گھر یہ براتی عمد ہ عمدہ مزیدار مال کھاکر جائیں مگر ان کا منہ سیدھا نہیں ہوتاکھانے میں عیب نکالتے ہیں مگر اولیا ء اللہ عزوجل! اور پیر و مرشد وں کے گھرسوکھی روٹیاں اور دال دلیہ خوشی سے تبرّک سمجھ کر تعریفیں کرتے ہیں۔وہ سوکھی روٹیاں اپنے بچوں کو پردیس میں بھیجتے ہیں، جاکر دیکھو اجمیر شریف کا دلیہ اور بغدادشریف اور دوسرے آستانوں کی دال روٹیاں۔ اسکی وجہ کیا ہے ؟


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    دوستو! وجہ صرف یہ ہے کہ یہ کھانے مخلوق کو راضی کرنے کیلئے ہیں اور وہ خشک روٹیاں خالق کیلئے اگر ہم بھی شادی بیاہ کے موقع پر کھانا، جہیز وغیرہ فقط سنّت کی نیّت سے سنّت طریقہ پر کریں تو کبھی کوئی اعتراض ہوسکتا ہی نہیں۔ ہمارے دوست سیٹھ عبد الغنی صاحب ہرسال بقر عید کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف سے قربانی کرتے ہیں اور پلاؤ پکاکر عام مسلمانوں کی دعوت کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ معز ز مسلمان جوکسی کی شادی بیاہ میں بڑے نخرے سے جاتے ہیں وہ بغیر بلائے یہاں آجاتے ہیں اور اگر آخری ایک اثر(یعنی لقمہ) بھی پالیتے ہیں تو سمجھ کر کھاتے ہیں۔ ابھی قریب میں ہی انجمن خدام الصوفیہ کے صدر فضل الٰہی صاحب پگانوالہ رئیس گجرات نے ولیمہ کی دعوت نیتِ سنّت سے کی نہ کسی کو شکایت ہوئی اور نہ کسی نے عیب نکالا۔ عرض یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام پاک عیب پوش ہے جس چیز پر ان کا نام آجائے اس کے سب عیب چھپ جاتے ہیں اگر ہم لوگ ولیمہ کا کھانا سنّت کی نیّت سے کریں تواگر دال روٹی بھی مسلمانوں کے سامنے رکھ دیں گے تو وہ بھی مسلمان برکت کی نیت سے سیر ہوکر کھائیں گے۔
    تیسری خرابی ان رسموں میں یہ ہے کہ ان کی وجہ سے شریف غریبوں کی لڑکیاں بیٹھی رہتی ہیں اور مالداروں کی لڑکیاں ٹھکانے لگ جاتی ہیں۔ کیونکہ لوگ اپنے بیٹوں کا پیغام وہاں ہی لے جاتے ہیں جہاں جہیز زِیا دہ ملے اگر ہر جگہ کیلئے جہیز مقرر ہوجائے کہ امیر و غریب سب اتنا ہی جہیز وغیرہ دیں تو ہر مسلمان کی لڑکی جلد ٹھکا نے لگ جائے(یعنی اس کی شادی ہوجائے)۔
    چوتھی خرابی یہ ہے کہ ان رسموں کی وجہ سے مسلمانوں کی اپنی اولاد وبالِ جان معلوم ہونے لگی۔ کہ اگر کسی کے لڑکی پیدا ہوئی سمجھا کہ یا تو اب میرے مکان کی خیرنہیں یا جائیداد و دکان چلی۔ اسی لئے لو گ لڑکی کے پیدا ہونے پر گھبراتے ہیں یہ ان رسموں کی” برکت ”ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    پانچویں خرابی یہ ہے کہ نکاح مقصود ہوتا ہے دوقوموں کا مل جانا یعنی لڑکے والے لڑکی والے کے قرابت دار اور محب بن جائیں۔ اور لڑکی والے، لڑکے والے کے۔اسی لئے اس کا نام نکاح ہے، نکاح کے معنیٰ ہیں مل جانا تو یہ نکاح قبیلوں اور جماعتوں کے ملانے والی چیز ہے۔ مثل مشہو ر ہے کہ نکاح میں لڑکی دے کر لڑکا لیتے ہیں اور لڑکا دے کر لڑکی حاصل کرتے ہیں۔ مگر اب مسلمانوں نے سمجھ لیا کہ نکاح مال حاصل کرنے کا ذریعہ ہے جس کے چار فرزند ہوگئے وہ سمجھا کہ میر ی چار جائیدادیں ہوگئیں کہ ان کو بیاہوں گا، جہیز وں سے گھر بھرلوں گا۔ اب جب دلہن خاطر خواہ جہیز نہ لائی۔ لڑائی قائم ہوگئی اوراب عام طور نکاح لڑائی کی جڑ بن کر رہ گیا ہے کہ اپنے عزیزوں میں لڑکی دو تو آپس کا پرانا رشتہ بھی ختم ہوجاتا ہے کیوں ؟اس لئے کہ نکاح کو ایک مالی کاروبار سمجھ لیا گیا ہے۔
    چھٹی خرابی یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے چند اولاد ہیں پہلے کا نکاح تو بہت دھوم دھام سے کیا۔ اس ایک نکاح میں اس کا مصالحہ ختم ہوگیا۔ باقی اولاد کے فقط نکاح ہی ہوئے، کوئی رسم اد ا نہ ہوئی،کیونکہ روپیہ نہ تھا تو اب اس اولاد کو ماں باپ سے شکایت ہوتی ہے کہ بڑے بھائی میں کیا خوبی تھی جو ہم میں نہ تھی تو باپ اور اولاد میں ایسی بگڑتی ہے کہ خدا کی پناہ!
    ساتویں خرابی یہ ہے کہ لڑکی والوں نے دولہا کے نکا ح کے وقت اتنا خرچ کرایا کہ اسکا مکان بھی رہن ہوگیا۔ بہت قرضہ سر پر سوار ہوگیا۔ اب دلہن صاحبہ جب گھر آئیں تو مکان بھی ہاتھ سے گیا اور مصیبت بھی آپڑی۔ تو نام یہ ہوتا ہے یہ دلہن ایسی منحوس آئی کہ ا سکے آتے ہی ہمارے گھر کی خیر و برکت اڑگئی اس سے پھر لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں یہ خبر نہیں کہ بے چاری دلہن کا قصور نہیں۔ بلکہ تمہاری ان ہندوانی رسمو ں کی” برکت ”ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    آٹھویں خرابی یہ ہے کہ ان رسموں کو پورا کرنے کیلئے غریب لوگ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی فکر کرنے لگتے ہیں، جو ں جوں اولاد جوان ہوتی ہے ان کی فکریں بڑھتی جاتی ہیں۔ اب نہ روٹی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ پانی۔ فکر یہ ہوتی ہے کہ کسی صورت سے پیسہ جمع کرو کہ یہ رسمیں پوری ہوں اب روپیہ جمع کر تے رہے۔ ا س روپیہ میں زکوٰۃ بھی واجب ہے اور حج بھی فرض ہوجاتاہے وہ نہیں ادا کرتے۔ کیونکہ اگر ان عبادات میں یہ روپیہ خرچ ہوگیا تو وہ شیطانی رسمیں کس طرح پوری ہوں گی۔ میں نے ایک صاحب کو دیکھاکہ ان کے پاس تقریباً دو ہزار روپیہ تھا، میں نے کہا:” آپ پر حج فرض ہے،حج کو جاؤ۔” فرمانے لگے کہ” بڑا حج تو لڑکی کی شادی اور اس کا جہیز ہے۔” میں نے کہا! شادی کے اخراجات جو اپنی قوم نے بنالئے ہیں،وہ فرض نہیں ہیں اور حج فرض ہے، فرمانے لگے:” کچھ بھی ہوتا ہو ناک تو نہیں کٹوائی جاتی۔” آخر حج نہ کیا، لڑکی کی شادی میں گلچھرّے اُڑائے۔
     آپ نے بہت مالداروں کو دیکھاہوگا کہ حج ان کو نصیب نہیں ہوتا۔لگتاہے شادیوں سے ہی انہیں چھٹکارا نہیں ملتا۔ ادھر توجہ کیسے کریں یہ بھی خیال رہے کہ حج کرنا ہر اس شخص کا فرض ہے۔ جس کے پاس مکّہ معظّمہ جانے آنے کا کرایہ اور باقی مصارف ہوں یہ جو مشہور ہے کہ بڑھاپے میں حج کرو غلط ہے کیا خبر کہ بڑھاپا ہم کو لے گا یا نہیں اور یہ مال رہے گا یا نہیں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    نویں خرابی یہ ہے کہ غریب لوگ لڑکی کے بچپن ہی سے کپڑے جمع کرنے شروع کرتے ہیں کیونکہ اتنے جوڑے وہ ایکدم نہیں بناسکتے۔ جب تک لڑکی جوان ہوتی ہے کپڑے گل جاتے ہیں انہیں گلے ہوئے کپڑوں کے جوڑے بناکر دیتے ہیں۔جب وہ پہنے جاتے ہیں تو دودن میں پھٹ جاتے ہیں جس سے پہننے والے گالیاں دیتے ہیں کہ ایسے کپڑے دینے کی کیا ضرورت تھی ؟
    دسویں خرابی یہ ہے کہ دلہن والے مصیبت اُٹھا کر پیسہ برباد کرکے کاٹھ کباڑ یعنی میز و کرسیاں، مسہریاں لڑکی کو دے تو دیتے ہیں مگر دولہا کا گھر اتنا تنگ اور چھوٹا ہوتاہے کہ وہاں رکھنے کو جگہ نہیں اور اگر دولہا میاں کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں۔ تو جب دوچار دفعہ مکان بدلنا پڑتاہے تو یہ تمام کاٹھ کباڑ ٹوٹ پھوٹ کر ضائع ہوجاتا ہے۔جتنے روپے کا جہیز دیا گیا اگر اتنا روپیہ نقد دیا جاتا یا اس روپیہ کی کوئی دکان یا مکان لڑکی کو دیا جاتا تو لڑکے کے کام آتا اور اس کی اولاد عمر بھر آپ کو دعائیں دیتی اور لڑکی کی بھی سسرال میں عزت ہوتی اور اگر خدا نہ کرے کہ کبھی لڑکی پر کوئی مصیبت آتی تو اس کے کرایہ سے اپنا برا وقت نکال لیتی۔
error: Content is protected !!