Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

دوسری ہدایات:

    سُسرال کی لڑائیاں چند وجہ سے ہوتی ہیں کبھی تودلہن تیز زبان اور گستاخ ہوتی ہے ساس نند کو سخت جواب دیتی ہے اس لئے لڑائی ہوتی ہے کبھی شوہر کی چیزوں کو حقیر جانتی ہے اور وہاں اپنے میکے کی بڑائی کرتی رہتی ہے کہ میرے باپ کے گھر یہ تھا وہ تھا کبھی ساس نند یں دلہن کے ماں باپ کو اس کی موجودگی میں بُر ابھلا کہتی ہیں، جس کو وہ برادشت نہيں کرسکتی، کبھی میکے بھیجنے پر جھگڑاہوتاہے کہ دلہن کہتی ہے کہ میں میکے جاؤں گی سسرال والے نہیں بھیجتے پھر دلہن اپنی تکلیفيں اپنے میکے والوں سے جاکر کہتی ہے تو وہ اس کی طرف سے لڑائی کرتے ہیں یہ ایسی آگ لگتی ہے بجھائے نہیں بجھتی کبھی ساس نندیں بلاوجہ دلہن پر بدگمانی کرتی ہیں کہ ہماری دلہن چیزوں کی چوری کرکے میکے پہنچاتی ہے۔
     یہ وہ شکایات ہیں جنکی وجہ سے ہمارے یہاں خانہ جنگیاں رہتی ہیں اور ان شکایات کی جڑ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق سے بے خبر ہیں۔دلہن کو نہیں معلوم کہ مجھ پر شوہر اور ساس کے کیا حق ہیں اور ساس اور شوہر کو نہیں خبر کہ ہم پر دلہن کے کیا حق ہیں؟ساسوں اور شوہروں کو یہ خيال چاہے کہ نئی دلہن ایک قسم کی چڑیا ہے جو ابھی ابھی قفس(پنجرے)میں پھنسی ہے تو پھڑپھڑاتی بھی ہے اور بھاگنے کی بھی کوشش کرتی ہے مگر شکاری اور پالنے والا اس کو کھانے پانی کا لالچ دے کر پیارکرکے بہلاتا اور اس کے دل لگانے کی کوشش کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ اُس کا دل لگ جاتا ہے اسی طرح ساس، نندوں اور شوہروں کو چاہے کہ اس کے ساتھ ایسا اچھا برتاوا کریں کہ وہ جلد ان سے مل جل جائے۔ دوستو،چار دن توقیر کے بھی بھاری ہوتے ہیں اور خیال رکھو کہ لڑکی سب کچھ سن سکتی ہے مگر اپنے ماں باپ بہن بھائی کی برائی نہیں سن سکتی، اسکے سامنے اس کے ماں باپ کو ہرگز برُا نہ کہو،دیکھو ابوجہل کا فرزند عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب ایمان لائے تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کوحکم دیا کہ عکرمہ کے سامنے کوئی بھی ان کے باپ ابوجہل کو برا نہ کہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (مدارج النبوت، قسم سوم باب، ہفتم، ذکر عکرمہ بن ابی جہل، ج ۲، ص ۲۹۸)
   یہ کیوں تھا صرف اسلئے کہ ہرشخص کی فطری عادت ہے کہ اپنے ماں باپ کی برائی نہ سن سکے،اگر لڑکی کو کسی کام کاج میں مہارت نہ ہو تو  آہستگی سے سکھالیں غرضیکہ اس کے ساتھ وہ سلوک کریں جو اپنی اولاد سے کرتے ہیں یا اپنی بیٹی کیلئے ہم خود چاہتے ہیں وہ بھی تو کسی کی بچی ہے جو چیز اپنی بچی کیلئے گوارانہ کرو وہ دوسرے کی بچی سے بھی گوارانہ کرو اور کسی پر بلاوجہ بدگمانی کرنا حرام ہے۔ اس بدگمانی نے صدہا گھروں کو تباہ کرڈالا، دلہنوں کو چاہے کہ اس کا خیال رکھیں کہ زبان شیریں سے ملک گیری ہوتی ہے۔نرم زبان سے انسان جانوروں کو قبضے میں کرلیتا ہے یہ ساس، نندیں تو پھر انسان ہیں خیا ل رکھو کہ قدرت نے پکڑنے کیلئے دوہاتھ، چلنے کیلئے دوپاؤں، دیکھنے کیلئے دوآنکھیں اور سننے کیلئے دوکان دیئے ہیں مگر بولنے کیلئے زبان صرف ایک ہی دی جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ بولو کم مگر کام زيادہ کرو،اگر تم اپنے ماں باپ کی بڑائی سب کو جتلاتی پھر و تو بیکار ہے لطف تو جب ہے کہ تمہاری رفتار گفتار خوش خلقی کام دھندا اچھے اخلاق ایسے ہوں کہ ساس نند اور شوہر یا کہ ہر دیکھنے والا تم کو دیکھ کر تمہارے ماں باپ کی تعریف کریں کہ دیکھو تو لڑکی کو کیسی عمدہ تعلیم تربیت دی سسرال میں کیسی ہی لڑائی ہوجائے ماں باپ کو ہرگز اس کی خبر نہ کرو،اگر کوئی بات تمہاری مرضی کے خلاف بھی ہوجائے تو صبر سے کام لو کچھ دنوں میں یہ ساس سسر نندیں اور شوہر سب تمہاری مرضی پر چلیں گے۔ہم نے وہ لائق شریف لڑکیاں بھی دیکھی ہیں جنہوں نے سسرال میں پہلے کچھ دشواری اٹھائی پھر اپنے اپنے اخلاق سے سسرال والوں کو ایسا گرویدہ بنالیا کہ انہوں نے سارے کے سارے اختیاردلہن کو دے دیئے اور کہنے لگے کہ بیٹی گھر بار تو جانے، ہم کو تودووقت جو تیرا جی چاہے پکا کر دے دیا کرواور خیال رہے کہ تمہارے شوہر کی رضا میں اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی رضا مندی ہے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔
 ( سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب حق الزوج علی المراۃ، الحدیث ۱۸۵۳، ج ۲، ص ۴۱۱)
(وسنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المراۃ، الحدیث ۲۱۴۰، ج۲، س ۳۵۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اور اے شوہرو!تم یاد رکھو کہ دنیا میں انسان کے چارباپ ہوتے ہیں ایک تونسبتی باپ،دوسرے اپنا سسر تیسرے اپنا استاد،چوتھے اپنا پیر۔    اگر تم نے اپنے سسر کو براکہا تو سمجھ لو کہ اپنے باپ کو برا کہا،حضور علیہ السلام نے فرمایاہے،” بہت کامیاب شخص وہ ہے جس کی بیوی بچے اس سے راضی ہوں۔”
    خیال رکھو کہ تمہاری بیوی نے صرف تمہاری وجہ سے اپنے سارے میکے کو چھوڑا۔بلکہ بعض صورتوں میں دیس چھوڑ کر تمہارے ساتھ پردیسی بنی اگر تم بھی اس کو آنکھیں دکھاؤ تو وہ کس کی ہوکر رہے تمہارے ذمہ ماں باپ، بھائی بہن، بیوی بچے سب کے حق ہیں کسی کے حق میں کسی کے حق کے ادا کرنے میں غفلت نہ کرو اور کوشش کرو کہ دنیا سے بندوں کے حق کا بوجھ اپنے پر نہ لے جاؤ،خدا کے تو ہم سب گنہگار ہیں مگر مخلوق کے گنہگار نہ بنیں،حق تعالیٰ میرے ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں تاثیر دے اور مسلمانوں کے گھروں میں اتفاق پیدا فرمادے،اور جو کوئی اس رسالے سے فائدہ اٹھائے وہ مجھ فقیر کیلئے دعائے مغفرت اور حُسنِ خاتمہ کرے۔
     دوباتیں اور بھی یاد رکھو! ایک تو یہ کہ جیسا تم اپنے ماں باپ سے سلوک کروگے ویسا ہی تمہاری اولاد تمہارے ساتھ سلوک کرے گی،جیسا کہ تم دوسرے کی اولاد کے ساتھ کروگی ویسا ہی دوسرے تمہاری اولاد سے سلوک کریں گے یعنی اگر تم اپنے ساس سسر کو گالیاں دو گے تمہارے دامادتم کو دیں گے۔
    دوسرے یہ کہ حدیث شریف میں ہے کہ ”قرابت داروں سے سلوک کرنے سے عمر اور مال بڑھتے ہیں ”۔مسلمانوں کو چاہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی زندگی پاک معلوم کرنے کیلئے حضورپاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی سوانح عمریاں پڑھیں، جن سے پتہ لگے کہ اہل قرابت کے ساتھ کیسا برتاواکرنا چاہے۔
error: Content is protected !!