Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اقوالِ علماء کی اقسام

  اقوال علماء رحمہم اللہ تعالیٰ کی دو اقسام ہيں:
(۱)۔۔۔۔۔۔ تفصیلی اقوال:
    علامہ قرطبی علیہ رحمۃ اللہ القوی۱؎ اپنی تفسیرمیں فرماتے ہیں کہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اس پراجماع ہے کہ” کوئی بھی اپنے علم سے کسی کے قتل کا فیصلہ نہیں دے سکتا، البتہ نبئ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرسکتے ہیں اور یہ انہی کے ساتھ خاص ہے۔” (علامہ قرطبی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا کلام ختم ہوا)
(شرح السنن النسائی،کتاب آداب القضاۃ،باب الحکم بالظاہر،الحدیث:۵۳۰۶،الجز۷،ص۱۱۴)
    اے بھائی!تیرے لئے اِس امامِ جلیل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کااس پراجماع نقل کردیناہی کافی ہے ۔
    حضرت ابن دحیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ ۲ ؎ (633-544ھ)فرماتے ہیں:”یہ نبئ پاک ، صاحبِ لولاک،سیاح اَفلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیت ہے ۔ لہذا اگر کوئی بغیردلیل قائم کئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر زنا کی تہمت  لگا دے توآپ صلی اللہ تعالیٰ   علیہ وآلہ وسلم اسے قتل کرسکتے ہیں،یہ کسی اورکے لئے جائزنہیں۔”
    یہ بات علامہ زرکشی علیہ رحمۃ اللہ الولی ۱؎(794-745ھ)نے”اَلْخَادِمْ ۲ ؎”میں بيان فرمائی۔
    علامہ رافعی ۳ ؎(623-557ھ)” اَلشَّرَحْ ۴؎ ”میں اورسید ناامام نووی رحمہما اللہ القوی ۵؎ (676-631ھ) ”اَلرَّوْضَۃ۶ ؎”میں فرماتے ہیں کہ” آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے خصائص میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے علم کے ذریعے حدودمیں فیصلہ کرسکتے ہیں،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ دوسرے لوگو ں کے لئے اس اختیار کے بارے میں اختلاف ہے۔”
    قاضی جلال الدین بلقینی علیہ رحمۃ اللہ القوی۱؎(824-763ھ) ” اَلرَّوْضَۃ ” کے حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ شیخین رحمۃا اللہ تعالیٰ علیہما کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضورنبئ کریم ،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے علم کے ذرریعے مطلق فیصلہ فرماسکتے ہیں، خواہ وہ فیصلہ حدو د میں ہویاان کے علاوہ کسی اور معاملہ میں،اس میں کوئی اختلاف نہیں۔(علامہ جلال الدین بلقینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا کلام ختم ہوا )
    یہ قول علامہ قرطبی علیہ رحمۃاللہ القوی کے نقل کردہ اِجماع کے موافق ہے کیونکہ اس پر تمام مذاہب(یعنی مذاہبِ اربعہ)متفق ہیں کہ حدودُاللہ عزوجل میں اپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی شخص بھی اپنے علم کے ذریعے فیصلہ نہیں کر سکتاجبکہ اِختلاف حدودُ اللہ عزوجل کے علاوہ میں ہے،پس ہم (شوافع)نے اللہ عزوجل کی حدود کے علاوہ دوسرے معاملات میں دوسروں کے اپنے علم کے مطابق فیصلہ کرنے کو جائز قرار دیااوردیگر مذاہب نے اس سے منع کیا ہے۔البتہ!سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہ، باعث ِ نزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں نہ حدود اللہ کے بارے میں اور نہ ہی حدود کے علاوہ دوسرے معاملات میں۔
 ۱؎ ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابی بکر بن فر ح الانصاری ، الاندلسی ، القرطبی ، المالکی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مشہور تصانیف میں سے ، الجامع لاحکام القرآن جو تفسیر القرطبی کے نام سے مشہور ہے اور الاسنی فی شرح اسماء الحسنی ، التذکار فی افضل الاذکار،وغیرہ۔ (معجم المؤلفین،ج۳،ص۵۲،الاعلام للزرکلی،ج۵،ص۳۲۲)
۲ ؎ الحافظ ،المحدث ، ابو الخطاب عمر بن الحسن بن علی بن محمد الاندلسی ، ۱۴ربیع الاول کو قاہرہ میں آپ کا وصال ہوا ، آپ کی مشہور تصانیف میں سے کچھ یہ ہیں ، التنویر فی مولد السراج المنیر ، نھا یۃ السؤل فی خصائص الرسول ، العلم المشہور فی فضائل الایام والشہور ۔     (معجم المؤلفین،ج۲،ص۵۵۶،الاعلام للزرکلی،ج۵،ص۴۴)
۱؎ المحدث ، الادیب ، الفقیہہ ، العالم ، ابو عبداللہ محمد بن بہادر بن عبداللہ المصری ، الزرکشی ، الشافعی آپ مصر میں پیدا ہوئے ، قاہرہ میں وفات پائی اور قرافہ صغری میں دفن کئے گئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مشہورتصانیف میں سے چند یہ ہیں:خادم الرافعی والر و ضۃ ”اور یہ کتاب الرافعی والروضۃ پر حاشیہ ہے” البر ھان فی علوم القرآن ، الدیباج فی توضیح المنہاج،البحرالمحیط،عقودالجمان ، المنثور جو اصولِ فقہ میں قواعد ِزرکشی کے نام سے مشہور ہے ۔ 
(معجم المؤ لفین،ج۳،ص۷۵۔۱۷۴، الاعلام للزرکلی،ج۶،ص۶۱۔۶۰)
۲ ؎ خادم الرافعی والروضہ فی الفرو ع بدر الدین محمد بن بہادر الزرکشی الشافعی ۔(کشف الظنون،ج۱،ص۶۹۸)
۳ ؎ المفسر،المحدث ، الفقیہہ ، ابو القاسم عبدالکریم بن محمد بن عبد الکریم بن الفضل الرافعی ، القزوینی الشافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی آپ علیہ الرحمہ کا وصال مقام قزوین میں ہوا اور وہیں دفن کئے گئے ، آپ کی معروف تصانیف یہ ہیں: فتح العزیز علی کتاب الوجیز للغزالی ، شرح مسند شافعی ، التر تیب وغیرہ ۔
(معجم المؤ لفین،ج۲،ص۲۱۰،الاعلام للزرکلی،ج۴،ص۵۵)
۴ ؎ شرح مسند شافعی الامام ابو القاسم عبدالکریم بن محمد القزوینی الرافعی ۶۱۲ھ میں اس کو لکھنے کی آپ نے ابتدا ء فرمائی اوریہ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔     (کشف الظنون،ج۲،ص۱۶۸۳)
۵ ؎ الحافظ ، المحدث ، الفقیہہ الامام محیی الدین یحیٰ بن شرف بن مری بن حسن النووی ، الدمشقی ، الشافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی آپ” نویٰ” میں پیدا ہوئے ، اور نویٰ میں ہی آپ کا وصال ہوا اور وہیں دفن کئے گئے ، آپ علیہ الرحمہ کی مشہور ومعروف تصانیف یہ ہیں: الاربعون النوویہ فی الحدیث ، المنہاج فی شرح صحیح مسلم ، ریاض الصالحین ، روضۃ الطالبین ، وغیرہ ۔     (معجم المؤ لفین،ج۴،ص۹۸،الاعلام للزرکلی،ج۸،ص۱۴۹)
۶ ؎ روضۃ الطالبین وعمدۃ المتقین لیحیی بن شرف الدین النووی علیہ رحمۃ اللہ القوی آپ نے تھذیب میں فرمایا:” یہ وہ کتا ب ہے جس کو میں نے علامہ رافعی کی شرح وجیز سے مختصر کیا ہے ۔”     (کشف الظنون،ج۱،ص۹۲۹)
۱ ؎ الامام ، القاضی ، علامہ جلال الدین بن عبد الرحمن بن عمربن رسلان الکنانی العسقلانی البلقینی آپ مصرکے علماء حدیث میں سے ہیں اور کئی بار مصر میں منصب افتاء پر فائز ہوئے قاہر ہ میں آپ نے وصال فرمایا آپ کی مشہور کتب میں سے چند یہ ہیں :التفسیر ،الفقہ ، حواش علی الروضہ ،نھرالحیاۃ وغیرہ ۔
(معجم المؤلفین،ج۲،ص۱۰۳،الاعلام للزرکلی،ج۳،ص۳۲۰)
error: Content is protected !!