Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بیر جعرانہ یعنی جعرانہ کا کنواں

شہدائےحنین رضی اللہ عنہم کی تدفین سے فارغ ہوکررسول اکرم محبوب معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’پانی تلاش کرو تاکہ یہاں سے عمرہ کی تیاری کے لیے احرام باندھا جاسکے‘‘۔ایک صحابی رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ قریب میں ایک ہی کنواں ہے، لیکن پانی نشیب میں ہے اور کافی کوشش کے بعد جب میں پانی نکالنے میں کامیاب ہوگیا تو بہت مایوسی ہوئی کہ پانی نہایت تلخ اور کڑوا ہے۔ یہ سن کر معلم کتاب وحکمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مجھے کنویں پر لے چلو‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنویں میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا، آناً فاناً کنویں کی نشیب میں موجود پانی جوش مارتا ہوا اوپر آگیا اور تلخی ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی، پانی شیریں ہوگیا۔ ازاں بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور پھر چند اصحاب کو لے کر عمرہ ادا کرنے مکة المکرمہ تشریف لے گئے اور چند اصحاب کو یہاں مشرک قیدیوں کی نگرانی کے لیے ہدایت فرمائی۔
error: Content is protected !!