Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۱۲) نفل نمازوں کی کثرت

حدیث:۱
     عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کُنْتُ اَبِیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَتَیْتُہٗ بِوَضُوءِ ہٖ وَحَاجَتِہٖ فَقَالَ لِیْ سَلْ فَقُلْتُ اَسْئَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِی الْجَنَّۃِ قَالَ اَوَغَیْرَذٰلِکَ قُلْتُ ھُوَ ذَاکَ قَالَ فَاَعِنِّیْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ۔(1) رواہ مسلم  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۸۴)
    حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتاتھا تومیں وضو کا پانی اور آپ کی ضرورت کی چیزیں(مسواک وغیرہ)لایا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہو مجھ سے مانگ لو، تو میں نے کہا کہ میں جنت میں آپ کی خدمت گزاری مانگتا ہوں، تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں،تو میں نے کہا کہ بس یہی،اس پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی دلی مراد کے لئے کثرت سجود سے میری مدد کرتے رہو۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۲


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

     عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ کَانَ شَابٌّ یَخْدِمُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیُخِفُّ فِیْ حَوَائِجِہٖ فَقَالَ تَسْئَلْنِیْ حَاجَۃً فَقَالَ اُدْعُ اللہَ لِیْ بِالْجَنَّۃِ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ وَتَنَفَّسَ وَقَالَ نَعَمْ وَلٰکِنْ بِکَثْرَ ۃِ السُّجُوْدِ (1)  (کنز العمال،ج۸،ص۴)
    حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جوان نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا اورآپ کی ضروریات میں ہاتھ بٹایاکرتاتھا۔توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم مجھ سے اپنی کسی حاجت کا سوال کرو، تو اس نے کہا کہ آپ اللہ عزوجل سے میرے لئے جنت کی دعا مانگیں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپناسر اٹھایااورایک سانس کھینچ کرارشادفرمایاکہ ہاں مگراس شرط کے ساتھ کہ تم بکثرت سجدے کرتے رہو۔

تشریحات و فوائد

 (۱)اس عنوان کی دونوں حدیثوں میں”کثرت سجود”سے مرادنمازوں کوبکثرت پڑھنا
ہے۔ سجدہ سے مراد نماز ہے اس کو اصطلاح میں: ” تَسْمِیۃُ الْکُلِّ بِاِسْمِ الْجُزْءِ ” کہا جاتاہے۔ یعنی کبھی کبھی جزو بول کر کل مراد لیا جاتا ہے اور ایسا ہر زبان میں ہوا کرتا ہے، مثلاً اردو میں خمیرہ گاؤ زبان ایک دوا کا نام ہے، اس میں بہت سی دوائیں پڑتی ہیں۔ مگر ایک جزو گاؤ زبان چونکہ سب سے زیادہ مقدار میں ہوتا ہے اس لئے پوری مرکب دوا کا نام خمیرہ گاؤ زبان پڑ گیا ۔ اسی طرح خمیرہ مروارید بھی ایک مرکب دوا ہے جس میں بہت سی دوائیں پڑتی ہیں اگرچہ مقدار میں کم مگر قیمت میں سب سے زیادہ مروارید ہوتا ہے، اس لئے پوری مرکب دوا کو خمیرہ مروارید کہنے لگے۔ اسی طرح نماز میں قیام، قعود، قومہ،جلسہ،سجدہ سبھی کچھ ہے اور ان سب اجزاء سے نماز مرکب ہوئی ہے۔ مگر چونکہ ایک جزو یعنی سجدہ بہت اہم ہے کیونکہ اس میں خدا کے حضور بہت زیادہ عاجزی کا اظہار ہے اس لئے پوری نماز کو سجدہ کہہ دیاگیا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(۲)اس عنوان کی دونوں حدیثوں میں یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے دونوں صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے فرمایاکہ تم لوگ اپنی حاجت کاسوال کرو،چنانچہ دونوں صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے اپنی اپنی حاجتوں اورمرادوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے مانگا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان دونوں کی مرادیں بھی پوری فرمادیں ۔ اس سے صریح طور پریہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے اپنی حاجتوں کو طلب کرنا اور اپنی مراد وں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے مانگنا بلاشبہ جائز و درست بلکہ سنت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اور طریقہ صحابہ علیہم الرضوان ہے۔

    وہابیوں،نجدیوں کواس حدیث سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اورانبیاء واولیاء کو مجبورمحض ماننے اورغیراللہ سے کچھ مانگنے کوشرک قراردینے کے عقیدے سے توبہ کرلینا چاہیے۔
(۳) پہلی حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اپنے کسی اُمتی کو جنت عطا فرمادینا یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے قبضہ و اختیار میں ہے۔ورنہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمادیتے کہ جنت دینا میرے اختیار میں نہیں ہے مگر آپ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ ان کی مراد پوری فرمادی اور نہ صرف جنت بلکہ جنت میں وہ محل جو ربّ العالمین نے خاص رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے تیارفرمایاہے حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرمایا،کیونکہ خدمت گزاری تو جبھی ہوسکتی ہے کہ خادم و مخدوم دونوں ایک ہی محل میں رہیں خادم مشرق میں رہے اورمخدوم مغرب میں رہے توپھرخدمت گزاری کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ بہرحال اہلِ سنت کا یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں کا مالک اور قاسم بنادیا ہے۔وہ جس کو چاہیں عطا فرمائیں۔صاحبِ قصیدہ بردہ شریف نے کیا خوب فرمایاکہ
فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَھَا وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمٖ(1)
    یعنی دنیا و آخرت دونوں آپ کے دستر خوان سخاوت کے دو ٹکڑے اور لوح وقلم کے علوم آپ کے سمندر علم کے دوقطرے ہیں۔ اِس شعر میں دونوں جگہ”مِنْ”  تبعیضیہ ہے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے بھی اس مضمون کو بہت خوب بیان فرمایا ہے کہ
رب ہے  مُعطِی یہ  ہیں قاسم 
  رزق اُس کا ہے کھِلاتے یہ ہیں
 (۴)جب یہ معلوم ہوچکا کہ ”کثرت سجود” سے نمازوں کی کثرت مراد ہے تو ظاہر ہے کہ اُن نمازوں سے نفل نمازیں مراد ہیں کیونکہ فرض نمازوں کی توتعدادمقررہے ان میں کثرت و قلت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الصلٰوۃ،باب فضل السجود…الخ،الحدیث:۴۸۹، ص۲۵۲
1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الصلاۃ،الحدیث:۲۱۶۲۳،ج۴،الجزئ۸،ص۵
1۔۔۔۔۔۔قصیدہ بردہ شریف،حضرت امام بوصیری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
error: Content is protected !!