حضرات صحابہ کرام واولیاء عظام علیہم الرضوان کے فرامین مبارکہ :

حضرت ابراہيم تيمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اللہ عزوجل کے اس فرمان :
یَوْمَ یُکْشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوۡدِ فَلَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۙ42﴾ خَاشِعَۃً اَبْصَارُہُمْ تَرْہَقُہُمْ ذِلَّۃٌ ؕ وَ قَدْ کَانُوۡا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوۡدِ وَ ہُمْ سَالِمُوۡنَ ﴿43﴾
ترجمۂ کنز الایمان :جس دن ايک ساق کھولی جائے گی(جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے ) اور سجدہ کو بلائے جائيں گے تو نہ کر سکيں گے نيچی نگاہيں کئے ہوئے ان پر خواری چڑھ رہی ہو گی اور بے شک دنيا ميں سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے جب تندرست تھے ۔(پ29، القلم:42۔43)
کی تفسير ميں فرماتے ہيں :”وہ قيامت کا دن ہو گا اس دن انہيں ندامت کی ذلت ڈھانپے ہو گی کيونکہ انہيں دنيا ميں جب سجدوں کی طرف بلايا جاتا تو يہ تندرست ہونے کے باوجود نماز ميں حاضر نہ ہوتے۔” اور مزید ارشاد فرمايا :”انہيں اذان اور اقامت کے ذريعے فرض نمازوں کی طرف بلايا جاتا تھا۔”    
(18)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن مسيب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں :”اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کی آواز سنتے اور صحت و تندرستی کے باوجود نماز ميں حاضر نہ ہو تے تھے ۔”
(19)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں :”خدا عزوجل کی قسم! يہ آيت مبارکہ جماعت سے پيچھے رہ جانے والوں ہی کے بارے ميں نازل ہوئی ہے اور بغير عذر کے جماعت ترک کر دينے والوں کے لئے اس سے زيادہ سخت کون سی وعيد ہو گی۔”         (تفسیرقرطبی،سورۃ القلم،تحت لآیۃ۴۳،۴۲،ج۹،ص۱۸۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(20)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ايک ایسے شخص کے بارے ميں پوچھا گيا جو دن کو روزے رکھتا، رات ميں عبادت کرتا مگر جماعت يا جمعہ ميں حاضر نہ ہوتا۔” تو آپ نے ارشاد فرمايا :”اگر وہ مر جائے تو جہنم ميں جائے گا۔”
(21)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمايا :”اگر آدمی کے کانوں ميں پگھلا ہوا سيسہ ڈال ديا جائے تو يہ اس کے لئے اذان سن کر مسجد ميں حاضر نہ ہونے سے زيادہ بہتر ہے۔”
(22)۔۔۔۔۔۔امیرالمؤمنین حضرت سيدناعلی المرتضیکَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہيں :”مسجد کے پڑوس ميں رہنے والے کی نماز مسجد ہی ميں ہوتی ہے۔” پوچھا گيا:”مسجد کا پڑوسی کون ہے؟” تو آپ نے ارشاد فرمايا :”جو اذان سنتا ہے۔”
وضاحت:
    حضرت سيدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم اورسيدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے يہ دونوں اقوال حدیث پاک ميں بھی وارد ہوئے ہيں ۔
(23)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا حاتم اَصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :”ايک مرتبہ ميری نماز فوت ہو گئی تو حضرت سیدنا ابو اسحاق بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علاوہ کسی نے ميری تعزيت نہ کی اور اگر ميرا بچہ فوت ہو جاتا تودس ہزار( 10,000)سے زيادہ افراد مجھ سے تعزيت کرتے کيونکہ لوگوں کے نزديک دين کی مصيبت دنیا کی مصیبت سے آسان ہوگئی ہے ۔”
(24)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہيں کہ”حضرت سيدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ایک باغ کی طرف تشریف لے گئے، جب واپس ہوئے تو لوگ نمازِ عصر ادا کر چکے تھے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَيہ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور ارشاد فرمايا :”ميری عصر کی جماعت فوت ہو گئی ہے، لہٰذا ميں تمہيں گواہ بناتا ہوں کہ ميرا باغ مساکين پر صدقہ ہے تاکہ يہ اس کام کا کفارہ ہو جائے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(25)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہيں کہ ہم لوگ جب کسی شخص کو فجر يا عشاء کی نماز ميں غير حاضر پاتے تو اس حدیثِ پاک کی وجہ سے اس کے منافق ہونے کا گمان کرنے لگتے ۔کیونکہ یہ دونوں نمازيں منافقين پر سب سے زيادہ بھاری ہيں، اگر وہ جان ليتے کہ ان دو نمازوں ميں کيا ہے تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ گھسٹ کر آتے۔”
( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ،کتاب فضل صلاۃ الجماعۃ وبیان التشدید الخ الحدیث ۲۵۲ ، ص ۷۷۹)

تنبیہ:

    مذکورہ احادیثِ مبارکہ ميں سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مذہب(یعنی باجماعت نمازکے بارے میں اس قول) کی دليل ہے کہ”جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا فرضِ عين ہے۔” اور ان احادیثِ مبارکہ کی دلالت سے يہ بات ظاہربھی ہوتی ہے کہ مذکورہ قيودات کے ساتھ جماعت چھوڑنا کبيرہ گناہ ہے، اگرچہ ميں نے کسی کو اس بات کی صراحت کرتے ہوئے نہيں ديکھا، ہمارا یعنی شوافع کا راجح قول یہ ہے کہ جماعت سے نماز پڑھنا فرض کفایہ ہے اور باقی رہی کہ امام رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی يہ ترميم کہ ”جماعت سنت ہے اور تارکين جماعت سے ترکِ جماعت کی وجہ سے قتال نہ کيا جائے گا۔” تویہ اس بات کا تقاضا نہيں کرتی کہ ہم جان بوجھ کر جماعت چھوڑنے کو کبيرہ گناہ نہيں سمجھتے کيونکہ امام رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان احادیثِ مبارکہ ميں يہ تاويل کرتے ہوئے ان کو منافقین پرمحمول کرتے ہیں کہ” يہ کفار کی منافق قوم کے بارے ميں وارد ہوئيں لہٰذا ان کو دلیل نہیں بنایاجاسکتاميں کوئی حجت نہيں۔” ان کی اس بات کو اگر نبی کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے تارکینِ جماعت کے گھروں کو جلا دينے کے ارادے کے بارے ميں تسليم کر بھی ليا جائے تو ملعون لوگوں کے بارے ميں ان کا يہ دعوی تسليم نہيں کيا جا سکتا کيونکہ ہم يہ بات بيان کر چکے ہيں کہ لعنت کبيرہ گناہوں کی علامات ميں سے ہے، لہٰذا يہ بات ظاہر ہو گئی کہ جماعت ترک کرنا کبيرہ گناہ ہے اور شہر والے اگر اس کے عادی ہو جائيں تو فاسق ہوجائيں گے اگرچہ پانچوں نمازوں ميں سے کسی ايک نماز ہی کی جماعت ترک کرنے کے عادی ہوں جيسا کہ پيچھے گزرا کيونکہ يہ ان کے دينی حکم کو ہلکا جاننے کی دليل ہے اور يہ ايسا جرم ہے جو اپنے مرتکب کے دينی معاملے کو کم اہميت دينے اور اس کی دينداری کی کمی پر دلالت کرتا ہے۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    پھر ميں نے سیدناامام ذہبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ديکھا کہ انہوں نے بھی اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا ہے مگر انہوں نے اس کی وہ وجہ بيان نہيں کی جو ميں نے بيان کی ہے، چنانچہ فرماتے ہيں :”چھیاسٹواں(66) کبيرہ گناہ کسی عذر کے بغير باجماعت نماز کے ترک پر اصرار کرنا ہے۔” پھرمذکورہ احادیثِ مبارکہ میں سے بعض سے استدلال فرمايا ہے اور ان کا يہ قول امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مذہب کے مطابق ہی درست ہو گا کہ باجماعت نماز ادا کرنا ہر شخص پر فرضِ عين ہے، مگر ہمارے(شافعی) مذہب کے مطابق درست نہيں کيونکہ باجماعت نماز ادا کرنا يا تو فرض کفايہ ہے يا پھر سنت اور فرض کفايہ ياسنت کی صورت ميں اگر کوئی اور اسے ادا کر لے تو اس کے ترک کی وجہ سے کبيرہ گناہ تو دور کی بات ہے گناہ گار بھی نہ ہو گا۔(لیکن احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزديک: ”عاقل،بالغ، آزاد، قادر پر جماعت واجب ہے بلا عذر ايک بار بھی چھوڑنے والا گناہ گار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے تو فاسق، مردود الشہادت اور اس کو سخت سزا دی جائے گی اگر پڑوسيوں نے سکوت کيا تو وہ بھی گناہ گار ہوئے۔” (بہار شريعت،ج۱،حصہ ۳،ص۶۷)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *