Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اپنی خُوشی کے لئے والدین کو رُسوا نہ کیجئے

اپنی خُوشی کے لئے والدین کو رُسوا نہ کیجئے

لہٰذا اگر کوئی ایسا کرچکا ہے تو اُسے چاہئے کہ فوراً کسی سُنّی صحیحُ العقیدہ مُسْتَنَدْ عالمِ دین یا مُفتی صاحب  سے نکاح کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں شَرْعی رہنمائی  لے نیز کسی بھی طرح والدین کو راضی کرے اور اُنہیں منا لے اور اگر خُدانخواستہ کوئی لڑکا لڑکی ایسا انتہائی قدم اُٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اُنہیں بھی چاہئے کہ ایسا نہ کریں اور سنجیدگی سے اس بارے میں غور کریں کہ بچپن سے جوانی تک والدین نے ان کے ساتھ جن محبتوں ، شفقتوں ، ہمدردیوں اور قربانیوں کا سُلوک کِیا ، کیا اُن کا صلہ یہی ہے کہ اُن کے احسان و بھلائی کو فراموش کردیا جائے ، اَولاد کی خُوشی دیکھنے سے متعلِّق اُن کی تمنّاؤں کا خون  کردیا جائے ، اُن کی عزّت کو اپنی خُوشی و پسند کی بھینٹ چڑھا دیا جائے ، اُنہیں مُعاشَرے کے طعنوں کی زَد پر چھوڑ دیا جائے اور اُن کی دل آزاری کرکے بڑھاپے میں اُن کی اَشکباری کا سامان کیا جائے؟ حدیثِ پاک میں ہے : رِضَا اللہِ   فِيْ رِضَا الْوَالِدَيْنِ وَسَخَطُ اللہِ  فِيْ سَخَطِ الْوَالِدَيْنِ یعنی والدین کی رِضا میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رِضا ہے اور ان کی ناراضی میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی ناراضی ہے۔ (1)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے گھر والوں کی مرضی کے خِلاف شادی کرنے والوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا اُن کا ایسا کرنا مناسب ہے؟ تو آپ دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جواب ارشاد فرمایا : ہرگز مناسِب نہیں بلکہ اگر لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ہو تو(بعض صورتوں میں )یہ نکاح ہی باطِل ٹھہرے گا! بِالفَرض نکاح مُنعَقِد ہو گیا تب بھی کورٹ  میں جا کر شادی کرنے والوں سے ماں باپ کی سخت دل آزاری (اور خاص طور پر لڑکی کے والدین کی ذِلّت و رُسوائی)ہوتی ہے ، اہلِ خاندان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگ جاتااور دیگر بھائی بہنوں کی شادیوں میں رُکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ نیز ایسا کرنے سے اکثر غیبتوں ، تہمتوں ، عیب دریوں ، بدگمانیوں اور دل آزاریوں وغیرہ وغیرہ گُناہوں کا دروازہ کُھل جاتا ہے لہٰذا ہرگز ایسا قدم نہیں اُٹھانا چاہئے۔ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 –   شعب الایـمان ، باب فی بـر الوالدین ، ۶ / ۱۷۷ ، حـدیث : ۷۸۳۰
2 –   پردے کے بارے میں سوال جواب ، ص ۳۵۷بتغیر قلیل
error: Content is protected !!