Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

عشر کے فضائل

عشر کے فضائل
سوال:عشر دینے کی کیافضیلت ہے ؟
جواب:عشر کی ادائیگی کرنے والوں کوانعاماتِ آخرت کی بشارت ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۳۹﴾
تر جمہ کنزالایمان:اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ۔(پ۲۲،سبا :۳۹)
سورہ بقرہ میں ہے:
مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں

وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۶۱﴾اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوۡنَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًی ۙ لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿۲۶۲﴾


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

سات بالیں ۔ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے وہ جواپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ،پھر دئيے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ  تکلیف دیں ان کا نیگ(انعام) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہونہ کچھ غم۔
    سرورِ عالم ، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی ترغیب ِ امت کے لئے کئی مقامات پر راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنے کے کئی فضائل بیان کئے ہیں : چنانچہ
    حضرت سیدناحسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”زکوۃ دے کر اپنے مالوں کو مضبو ط قلعوں میں کر لو اور اپنے بیمارو ں کا علا ج صدقہ سے کرو اور بلا نازل ہو نے پر دعا و تضرع (یعنی گریہ وزاری)سے استعانت (یعنی مدد طلب )کرو ۔”(پ۳،البقرۃ:۲۶۱،۲۶۲) (مراسیل ابی داؤد مع سنن ابی داؤد ،باب فی الصائم،ص۸)
    اور حضرتِ سیدنا جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلا ک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”جس نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دی، بے شک اللہ تعالیٰ نے اس سے شر دور فرما دیا۔”
        (المعجم الاوسط،باب الالف،الحدیث۱۵۷۹،ج۱،ص۴۳۱)
error: Content is protected !!