Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.
islam

مختلف زمینوں کا عشر

سوال:مختلف زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے الگ الگ طریقے استعمال کئے جاتے ہیں ، تو کیا ہر قسم کی زمین میں عشر(یعنی دسواں حصہ ہی)واجب ہوگا؟
جواب:اس سلسلے میں قاعدہ یہ ہے کہ
    ٭ جو کھیت بارش ،نہر ،نالے کے پانی سے (قیمت اداکئے بغیر)سیراب کیا جائے ،اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے ،
    ٭ جس کھیت کی آبپاشی ڈول (یا اپنے ٹیوب ویل )وغیرہ سے ہو ،اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہے ،
    ٭ اگر (نہر یا ٹیوب ویل وغیرہ کا)پانی خرید کر آبپاشی کی ہو یعنی وہ پانی کسی کی ملکیت ہے اس سے خرید کر آبپاشی کی ،جب بھی نصف عشر واجب ہے ،
    ٭ اگر وہ کھیت کچھ دنوں بارش کے پانی سے سیرا ب کر دیا جاتا ہے اور کچھ دن ڈول (یا اپنے ٹیوب ویل )وغیرہ سے ،تو اگر اکثربارش کے پانی سے کام لیا جاتا
ہے اور کبھی کبھی ڈول (یا اپنے ٹیوب ویل )وغیرہ سے تو عشر واجب ہے ورنہ نصف عشر واجب ہے۔
(درمختارو رد المحتار،کتاب الزکوۃ،باب العشر،ج۳،ص۳۱۶)

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!