Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حسد

سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے اور صدقہ  گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، نماز مؤمن کا نور ہے اور روزے ڈھال ہیں۔” یعنی جہنم کے مقابلے میں ڈھال اور اس سے نجات کاذریعہ ہیں۔
(سنن ابن ماجہ، ابواب الزھد،باب الحسد،الحدیث:۴۲۱۰،ص۲۷۳۳)
(57)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ”حسد (یعنی رشک ) صرف دو افراد سے جائز ہے: (۱)وہ شخص جسے اللہ عزوجل نے قرآن عطافرمایا تواس نے اس کے اَحکامات کی پیروی کی اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانا (۲)اور وہ شخص جسے اللہ عزوجل نے مال عطا فرمایا تو اس نے اس کے ذریعے صلہ رحمی کی اور رشتہ داروں سے تعلق جوڑا اور اللہ عزوجل کی فرمانبرداری کا عمل کیا تو اس جیسا ہونے کی تمنا کرنا درست ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۴۳۶،ج۳،ص۱۸۵)
(58)۔۔۔۔۔۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”حسد ایما ن کو اس طرح خراب کردیتاہے جس طرح ایلوا(یعنی ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رَس) شہد کو خراب کر دیتا ہے۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۴۳۷،ج۳،ص۱۸۶)
(59)۔۔۔۔۔۔ سرکارِ مدينہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب تم حسد کرو تو زیادتی نہ کرو، جب تمہیں بدگمانی پیدا ہو تو اس پر یقین نہ کرو اور جب تمہیں (کسی کام کے بارے میں) بد شگونی پیدا ہو تواُسے کر گزرو اوراللہ عزوجل پر بھروسہ کرو۔”
                (الکامل فی ضعفاء الرجال، عبدالرحمن بن سعد، ج۵،ص۵۰۹)
 (60)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی حسد، الحدیث:۴۹۰۳،ص۱۵۸۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (61)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تم میں پچھلی اُمتوں کی بیماری ضرور پھیلے گی اوروہ بغض و حسد ہے جو کہ ُاسترے کی طرح ہے لیکن یہ اُسترا (یعنی بغض وحسد)دین کو کاٹتا ہے نہ کہ بالوں کو، اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی جان ہے !تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک مؤمن نہ ہو جاؤاور اس وقت تک( کامل) مؤمن نہيں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو، کیامیں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ (وہ چیز یہ ہے کہ) تم آپس میں سلام کو عام کرو۔”
 (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند الزبیربن العوام، الحدیث:۱۴۱۲،ج۱،ص۳۴۸)
 (62)۔۔۔۔۔۔ حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”خیانت اورحسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتے ہیں جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔”
 (کنزالعمال،ابواب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۴۴۱،ج۳،ص۱۸۶)
 (63)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”حسد کرنے والے، چغلی کھانے والے اور کاہن کے پاس جانے والے کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (مجمع الزوائد، کتاب الادب، باب ماجاء فی الغیبۃ والنمیمۃ،الحدیث:۱۳۱۲۶،ج۸،ص۱۷۳)
 (64)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ہر آدمی حسد کرتاہے مگر حاسد کو اُس کاحسد اُسی وقت نقصان دیتا ہے جب وہ زبان سے بولے یا ہاتھ سے عمل کرے۔”
 (جامع الاحادیث، الحدیث:۱۵۷۷۱،ج۶،ص۴۳۲)
 (65)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”ہر آدمی حسد کرتاہے اور حسد کرنے والے بعض لوگ دوسروں سے افضل ہوتے ہیں اور حاسد کو اس کا حسد اس وقت تک نقصان نہیں دیتا جب تک کہ وہ زبان سے نہ بولے یا ہاتھ سے اس پر عمل نہ کرے۔”
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۴۴۴،ج۳،ص۱۸۶)
 (66)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”لوگ جب تک آپس میں حسد نہ کريں گے ہمیشہ بھلائی پررہیں گے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

               (المعجم الکبیر، الحدیث:۸۱۵۷،ج۸،ص۳۰۹)
 (67)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”ابلیس (اپنے چيلوں سے)کہتا ہے:”انسانوں سے ظلم اور حسد کے اعمال کراؤ کیونکہ یہ دونوں عمل اللہ عزوجل کے نزدیک شرک کے مساوی ہیں۔”
 (جامع الاحادیث، الحدیث:۷۲۶۹،ج۳،ص۶۰)
 (68)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ظلم اور قطع رحمی کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کے مرتکب کو اللہ عزوجل آخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرتا ہو۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (جامع الترمذی ، ابواب صفۃ القیامۃ، باب فی عظم الوعید۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۲۵۱۱،ص۱۹۰۴)
 (69)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ظلم کرنے سے ڈرو کیونکہ ظلم کی سزا سے زیادہ خطرناک کسی اور گناہ کی سزانہیں۔”
         (الکامل فی ضعفاء الرجال، ج۷،ص۳۱۵،اخطر بدلہ” اخضر”)
 (70)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اگر ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ پر ظلم کرے تو ان میں سے ظالم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔”
  (کشف الخفاء، الحدیث:۲۰۹۳،ج۲،ص۱۴۰)
 (71)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلَمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کروکہ کہیں اللہ عزوجل اسے اس سے عافیت دے دے(اور تمہيں مبتلا فرما دے )۔”
 (المعجم الاوسط،الحدیث:۳۷۳۹،ج۳،ص۱۸)
 (72)۔۔۔۔۔۔اور ایک روایت میں یوں ہے :”کہِیں اللہ عزوجل اس پر رحم فرما کر تمہیں اس مصیبت میں مبتلا نہ فرما دے۔”
 (جامع الترمذی ، ابواب صفۃ القیامۃ، باب لاتظہر الشماتۃ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۲۵۰۶،ص۱۹۰۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (73)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سب سے برا ٹھِکانا اس شخص کا ہو گا جس نے دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کر لی۔”
 (سنن ابن ماجہ ،ابواب الفتن ، باب اذا التقی المسلمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۹۶۶،ص۲۷۱۵،ملخصاً)
 (74)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قیامت کے دن سب سے زیادہ ندامت اس شخص کو ہو گی جس نے دوسرے کی دنیا کے عوض اپنی آخرت کو بیچ ڈالا۔”
 (تاریخ کبیر للامام بخاری،باب العین ، الحدیث:۷۹۹۸/۱۹۲۷ج۵،ص۳۸۸)
 (75)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قیامت کے دن اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بدتر مقام اس بندے کا ہو گا جس نے دوسرے کی دنیا کے لئے اپنی آخرت برباد کر ڈالی۔”
 (سنن ابن ماجہ ،ابواب الفتن ، باب اذا التقی المسلمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۹۶۶،ص۲۷۱۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (76)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قیامت کے دن اللہ عزوجل کے نزدیک لوگوں میں سب سے بدتر ٹھکانا اس شخص کا ہو گا جس نے غیر کی دنیا کے بدلے اپنی آخرت بیچ ڈالی۔”
 (المعجم الکبیر، الحدیث:۷۵۵۹،ج۸،ص۱۲۳)
 (77)۔۔۔۔۔۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”نفسانی خواہشات سے بچتے رہو کیونکہ یہ آدمی کو اندھا، بہرہ کردیتی ہیں۔”
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۸۲۸،ج۳،ص۲۱۹)
 (78)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” اللہ عزوجل کے نزدیک آسمان کے نیچے پیروی کی جانے والی نفسانی خواہشات سے بڑھ کر پوجا جانے والا کوئی جھوٹا خدا نہیں۔”
 (المعجم الکبیر،الحدیث:۷۵۰۲،ج۸،ص۱۰۳)
 (79)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حسد، اس کے اسباب اورنتائج سے بچنے کے متعلق ارشاد فرمایا :”آپس میں بغض نہ رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے حسد کرو، نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو اور نہ ہی آپس کی رشتہ داری توڑو، اے اللہ عزوجل کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ اورکسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدائی( یعنی ناراضگی) اختیار کرے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلہ، باب تحریم التحاسد۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۵۲۶،ص۱۱۲۶،بدون”لاتنابزوا”)
 (80)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بار گاہِ اقدس میں حاضر خدمت تھے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”ابھی اس دروازے سے ایک جنتی شخص داخل ہو گا۔” تو ایک انصاری شخص داخل ہوا جس کی داڑھی وضو کی وجہ سے تر تھی اور اس نے اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں لٹکا رکھے تھے، اس نے حاضرِ بارگاہ ہو کر سلام عرض کیا۔ پھر جب دوسرا دن آیا تو اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہی بات ارشاد فرمائی کہ” ابھی اس دروازے سے ایک جنتی مرد داخل ہو گا۔” تو بعینہ وہی شخص پہلے کی طرح حاضرِ بارگاۂ اقدس ہوا، پھر جب تیسرا دن آیاتوحضور نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہی بات ارشاد فرمائی تو حسبِ معمول وہی شخص داخل ہوا، پھر جب دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لے گئے تو حضرت سیدنا عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شخص کے پیچھے چل دیئے اور اس سے کہا : ”میں نے اپنے والد صاحب سے جھگڑ کر قسم اٹھائی ہے کہ میں تین دن تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا لہٰذا اگر میں تين راتیں گزرنے تک آپ کے پاس پناہ لیناچاہوں تو کیا آپ ایسا کر سکتے ہيں؟” اس نے کہا: ”جی ہاں۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے :”میں نے وہ تین راتیں اس کے ساتھ گزاریں لیکن رات کے وقت اسے کوئی عبادت کرتے ہوئے نہ دیکھا،ہاں! مگر جب وہ بیدار ہوتا یاکروٹ بدلتا تو اللہ عزوجل کا ذکر کرتا اور اَللہُ اَکْبَرُ کہتا اور جب تک نماز کے لئے اقامت نہ ہو جاتی بستر سے نہ اٹھتا اورمیں نے اسے اچھی بات کے علاوہ کچھ کہتے ہوئے نہ سنا، پھر جب تین دن گزرگئے تو میں اس کے عمل کو معمولی جاننے لگا اور اس سے کہا: ”اے اللہ عزوجل کے بندے! میرے اور میرے والد محترم کے درمیان کوئی ناراضگی نہیں تھی مگر چونکہ میں نے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاسے تمہارے بارے میں تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا :” ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا تو تینوں مرتبہ تم ہی آئے تومیں نے سوچا کہ تمہارے پاس رہ کر دیکھوں کہ تمہارا عمل کیا ہے تا کہ میں بھی تمہاری پیروی کر سکوں مگر میں نے تو تمہیں کوئی بڑا عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر تمہیں اس مقام تک کس عمل نے پہنچایا جس کے بارے میں خاتَم ُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خبر دی ہے؟” تو اس نے کہا :”میرا عمل تو وہی ہے جو تم نے دیکھ لیا ۔” پھر جب میں واپس آنے لگا تو اس نے مجھے بلاکر کہا :”میرا عمل تو وہی ہے جسے تم نے دیکھ لیا مگر میں اپنے دل میں کسی مسلمان سے بددیانتی نہیں پاتا اورنہ ہی اللہ عزوجل کی عطا کردہ بھلائی پر کسی سے حسد کرتاہوں۔” تو حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ”بس یہی وہ ا عمال ہیں جنہوں نے تجھے اس مقام تک پہنچا دیا۔”
 (شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، الحدیث:۶۶۰۵،ج۵،ص۲۶۴،۲۶۵،بتغیرٍقلیلٍ)
 (81)۔۔۔۔۔۔بعض محدّثین کرام رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس نامعلوم شخص کا نام”سعد” بتایاہے اوران کی روایت کردہ حدیث مبارکہ کے آخر میں یہ اضافہ ہے :حضرت سیدناسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :”اے میرے بھتیجے! میرا عمل تو وہی ہے جو تم نے دیکھ لیا مگر میں نے کوئی رات ایسی نہيں گزاری کہ میرے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کینہ یا اس جیسی بات ہو۔” تو حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”یہی وہ عمل ہے جس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ مقام دِلایا اور ہم اس عمل پر استقامت پانے کی طاقت نہیں رکھتے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

        (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند انس بن مالک، الحدیث:۱۲۶۹۷،ج۴،ص۳۳۲)
 (82)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :”ہم شفیعِ روزِ شُمار،دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”ابھی اس دروازے سے ایک جنتی آدمی تمہارے سامنے ظاہر ہو گا۔” تو حضرت سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے سے اندر داخل ہوئے۔”
    امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جوحدیث مبارکہ بیان کی ، اس میں یوں ہے:حضرت سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارادہ کر لیا کہ میں اس شخص کے ساتھ رات گزاروں گا تا کہ اس کا عمل دیکھ سکوں،پھر انہوں نے حضرت سیدنا سعدبن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر اپنے جانے کاذکرکرتے ہوئے فرمایا :”انہوں نے مجھے ایک عباء یعنی بچھونا دیا جس پر میں ان سے قریب ہو کر لیٹ گیا اور اپنی آنکھوں کی جھریوں سے انہیں دیکھنے لگا، وہ جب بھی کروٹ بدلتے، سُبْحَانَ اللہِ، اَللہُ اَکْبَرُ،لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہتے، یہاں تک کہ جب سحری کا وقت ہوا تو وہ اٹھے اور وضو کر کے مسجد میں داخل ہوئے اور 12درمیانی سورتوں کے ساتھ 12 رکعتیں ادا کیں کہ نہ تو وہ لمبی تھیں اور نہ ہی چھوٹی، اور ہردو رکعتوں میں تَشَھُّد سے فارغ ہونے کے بعد یہ تین دعائیں مانگيں:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (۱)اَللّٰھُمَّ رَبَّنَآاٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
 (یعنی اے ہمارے پروردگار عزوجل !ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔)
 (۲)اَللّٰھُمَّ اکْفِنَامَآاَھَمَّنَا مِنْ اَمْرِ اٰۤخِرَتِنَا وَدُنْیَانَا۔
 (یعنی اے ہمارے پروردگار عزوجل !ہمارے دنیا اور آخرت کے اہم کاموں کو پورا فرما۔)
 (۳)اَللّٰھُمَّ اِنَّانَسْاَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہٖ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّکُلِّہٖ۔
 (یعنی اے پروردگار عزوجل! ہم تجھ سے ہر قسم کی بھلائیوں کا سوال کرتے ہیں اور ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہيں۔)
    ان کے اس مستقل عمل کو ذکر کرنے کے بعدروایت کے آخر میں یہ ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب میں سونے کے لئے اپنے بستر پر آتا ہوں تو میرے دل میں کسی مسلمان کے لئے کینہ نہیں ہوتا۔”
 (شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، الحدیث:۶۶۰۷،ج۵،ص۲۶۶)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (83)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تنگدستی کفر کے قریب پہنچا دیتی ہے اور حسد تقدیر پر غلبہ پانے کے قریب کردیتا ہے۔”
(کنزالعمال ، کتاب الزکاۃ ، قسم الاقوال، باب فی فضل الفقر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۶۶۷۸،ج۶،ص۲۱۰)
(84)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”عنقریب میری اُمت کو پچھلی اُمتوں کی بیماری لاحق ہو گی۔” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”پچھلی اُمتوں کی بیماری کیا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”تکبر کرنا، اِترانا، کثرت سے مال جمع کرنا اور دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا نیز آپس میں بغض وحسد رکھنا یہاں تک کہ وہ ظلم میں تبدیل ہوجائے اور پھر فتنہ وفساد بن جائے۔”
(المعجم الاوسط، الحدیث:۹۰۱۶،ج۶،ص۳۴۸،بدون”تباغضواوتحاسدوا”)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(85)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” مجھے اپنی اُمت پر سب سے زیادہ اس بات کاخوف ہے کہ ان کے پاس مال کی کثرت ہوجائے گی تو یہ لوگ آپس میں حسد کرنے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے، پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے نعمتیں چھپا کر مدد چاہو کیونکہ ہر ذی نعمت سے حسد کیاجاتا ہے ۔”
(المعجم الکبیر، الحدیث:۱۸۳،ج۲۰،ص۹۴)
(86)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزوجل کی نعمتوں کے بھی دشمن ہوتے ہیں۔” عرض کی گئی :”وہ کون ہیں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”وہ جو لوگوں سے اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے فضل وکرم سے اُن کو نعمتیں عطا فرمائی ہيں۔”
(شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، الحدیث تحت الباب،ج۵،ص۲۶۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(87)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”چھ قسم کے لوگ حساب سے ایک سال پہلے جہنم میں داخل ہوجائيں گے۔” عرض کی گئی: ”یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کون لوگ ہیں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” (۱)اُمراء ظلم کی وجہ سے(۲)عرب عصبیت(یعنی طرف داری) کی وجہ سے(۳) رؤسا اور سردار تکبر کی وجہ سے (۴)تجارت کرنے والے خیانت کی وجہ سے (۵)ديہاتی لوگ جہالت کی وجہ سے اور (۶)علما ء حسد کی وجہ سے۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۴۴۰۲۴/۴۴۰۲۳،ج۱۶، ص۳۷، بتغیرٍقلیلٍ)
(88)۔۔۔۔۔۔منقول ہے کہ جب حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عرش کے سائے میں ایک شخص کو دیکھا، انہیں اس کے مرتبہ پر بڑا رشک آیا اور کہا:”بے شک یہ شخص اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں معزز ہے۔” پھر آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ عزوجل سے سوال کیا کہ وہ آپ کو اس شخص کا نام بتائے تو اللہ عزوجل نے آپ کو اس کا نام نہ بتایا بلکہ فرمایا :”میں تمہیں اس کے تین عمل بتاتا ہوں: (۱)یہ ان نعمتوں پر لوگوں سے حسد نہیں کرتاتھا جو میں نے اپنے فضل سے اُنہیں عطا فرمائی تھیں (۲)نہ اپنے والدین کی نافرمانی کرتا اور(۳) نہ ہی چغل خوری کرتا تھا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(مکارم اخلاق،باب ماجاء فی صلۃ الرحم،الحدیث:۲۵۷،ص۱۸۳)
(89)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا زکریا علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا :”حاسد میری نعمت کا دشمن، میرے فیصلے پر ناخوش اور میری تقسیم پر ناراض رہتا ہے جومیں نے اپنے بندوں کے درمیان فرمائی ہے۔”
(تفسیر ابن ابی حاتم ،باب ۲،ج۴،ص۲۰۳)
    ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :”حسد وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی نافرمانی کی گئی، ا بلیس ملعون نے حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو سجدہ کرنے کے معاملے میں اُن سے حسد کیا، پس اسی حسد نے ابلیس کو نافرمانی پرابھارا۔”
            (الدرالمنثورفی التفسیر المأثور، سورۃ البقرۃ۔۔۔۔۔۔ تحت الآیۃ ۳۴،ج۱،ص۱۲۵)
    ایک دینی پیشواء نے کسی بادشاہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :”تکبر سے بچتے رہو کیونکہ یہی وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی نافرمانی کی گئی۔پھرانہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوۡا لِاٰدَمَ
ترجمہ کنزالایمان:اور(یادکرو)جب ہم نے فرشتوں کوحکم دیاکہ آدم کو سجدہ کرو۔ (پ1، البقرۃ:34)
    اورپھر فرمایا :”خواہش سے بچتے رہو کیونکہ اسی کے سبب حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جنت سے الگ کر دئيے گئے ، اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایسی جنت میں ٹھہرایا جس کی چوڑائی زمین وآسمان جتنی ہے اس میں آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر چیز کھانے کی اجازت تھی سوائے ایک درخت سے کہ اس سے اللہ عزوجل نے آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کومنع فرمایا تھاپس خواہش کے سبب آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس سے کھا لیا تواللہ عزوجل نے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جنت سے زمین پر بھیج دیا ،پھر انہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
قَالَ اھْبِطَا مِنْھَاجَمِیْعًا
ترجمۂ کنز الایمان: فرمایاکہ تم دو نوں مل کر جنت سے اُترو۔(پ16، طٰہٰ:123)
    پھر فرمایا :”حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد ہی نے حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیٹے کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کیا تھا پھر انہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ ابْنَیۡ اٰدَمَ بِالْحَقِّ ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الۡاٰخَرِ ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ ﴿27﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی بولا قسم ہے میں تجھے قتل کر دوں گا کہا اللہ اسی سے قبول کرتاہے جسے ڈر ہے۔ (پ6، المآئدۃ:27)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اورکہا گیا ہے کہ قتل کا سبب یہ بھی تھا کہ قاتل کی بہن مقتول کی زوجہ تھی اورو ہ قاتل کی زوجہ سے زیادہ خوبصورت تھی کیونکہ حضرت سیدتنا حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے بیس حمل ہوئے تھے اور ہر حمل میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی یعنی دو بچے ہوتے تھے، حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کر دیا کرتے تھے، تو جب قابیل نے دیکھا کہ اس کے بھائی ہابیل کی بیوی میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہے تو اس سے حسد کرنے لگا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔ 
    اس دینی پیشواء کی بادشاہ کو کی جانے والی نصیحتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ”جب حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ذکر ہو تو خاموش رہا کرو، جب تقدیر کا تذکرہ ہو تب بھی خاموش رہو، اسی طرح جب ستاروں کا تذکرہ ہو تو بھی خاموش رہو۔”
error: Content is protected !!