Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

منکرینِ تقدیر کی مذمَّت پر احادیث مبارکہ :

(16)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا معا ذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے کبھی کوئی ایسا نبی پیدا نہیں کیا جس کی اُمت میں مُرْجِئَہ اور قَد ْرِیَہ نہ ہوں، بے شک اللہ عزوجل نے 70انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی زبان سے مُرْجِئَہ اورقَد ْرِیَہ پر لعنت فرمائی ۔”
(المعجم الکبیر،الحدیث: ۲۳۲،ج۲۰،ص۱۱۷)
(17)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”ہر اُمت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس اُمت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ تقدیر کوئی شئے نہیں اور یہ کہ معاملہ از سرِنو والاہے(يعنی چاہے اچھا کام کرو يا برا تقدير کوئی چيز نہيں ) لہٰذا جب تم ان سے ملو تو انہیں خبر دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری۔”
   (کنزالعمال،کتاب الایمان ، قسم الاقوال، الحدیث: ۵۵۱،ج۱،ص۷۴،بدون ”ان الامر انف”)
(18)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مزید ارشاد فرمایا :”اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جان ہے! اگر ان میں سے کسی کے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہو پھر وہ اسے راہِ خدا عزوجل میں خرچ کر دے تب بھی جب تک وہ اس بات پر ایمان نہ لے آئے کہ اچھی، بری تقدیر اللہ عزوجل کی جانب سے ہے اللہ عزوجل اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا۔”
(المجعم الکبیر، رقم ۷۵۰۲، ج۸، ص ۱۰۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(19)۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے مسلم شریف میں مذکورحدیث ِجبرائیل کو ذکر کیا جس کامضمون یہ ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے عرض کی گئی :”ایمان کیا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں،اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچھی، بری تقدیر کو مانو۔”
(صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب بیان الایمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۹۳،ص۶۸۱)
    گذشتہ احادیث کے علا وہ بھی تقدیرکے بارے میں بہت سی احادیث ہیں، میں ان کے عظیم فائدے اور عمومی نفع کی بناء پر انہیں یہاں ذکرکرنا پسند کرتاہوں۔
(20)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے تقدیر کو جھٹلایا اس نے میری لائی ہوئی ہر چیز کا انکار کیا۔”
 (کنزالعمال،کتاب الایمان ، قسم الاقوال،فصل فی الایمان بالقدر، الحدیث: ۴۸۰،ج۱،ص۶۸)
(21)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اچھی بُری تقدیر کو نہیں مانتا میں اس سے بیزار ہوں۔”
     (مسند ابی یعلی الموصلی، مسند ابی ہریرہ، الحدیث:۶۳۷۳،ج۵،ص۴۵۶)
(22)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”بندہ جب تک چارچیزوں پر ایمان نہ لے آئے مؤمن نہیں ہوسکتا: (۱)اس بات کی گواہی دے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ عزوجل کا رسول ہوں اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے (۲)موت پر ایمان لائے، (۳)قیامت کے دن اٹھنے کو مانے اور (۴)اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔”
  (مسند امام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عمرو، الحدیث:۷۰۰۴،ج۲،ص۶۶ ۶)
(جامع الترمذی ،ابواب القدر، باب ماجاء فان الایمان بالقدر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۱۴۵،ص۱۸۶۷)
(23)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”جو اللہ عزوجل کی قضا (یعنی فیصلے) پر راضی نہیں اور تقدیر کو نہیں مانتا اسے چاہے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی دوسرا خدا تلاش کر لے۔”
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۲۷۳،ج۵،ص۲۶۴)
(24)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تقدیر توحید کی لڑی ہے، لہٰذا جس نے اللہ عزوجل کو ایک مانا اور تقدیر پر ایمان لایا بے شک اس نے مضبوط گِرہ کو تھام لیا۔”
(مجمع الزوائد،کتاب القدر،باب الایمان بالقدر،الحدیث۱۱۸۳۵،ج۷،ص۴۰۴)
(25)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” انسان کے چارکام مکمل کئے جا چکے ہیں: (۱)پیدائش (۲)اخلاق وعادات (۳)رزق اور (۴)موت کاوقت۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۳۲۵،ج۵،ص۲۷۹)
(26)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب اللہ عزوجل کسی بندے کو بھٹکانا چاہتا ہے تو اسے حیلوں سے ڈھانپ دیتا ہے۔”
         (المعجم الاوسط، الحدیث: ۳۹۱۴،ج۳،ص۷۷)
(27)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”احتیاط تقدیر سے بے نیاز نہیں کرتی۔”
 (المستدرک،کتاب الدعا۔۔۔۔۔۔الخ،باب الدعاء ینفع ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۸۵۶،ج۲،ص۱۶۲)
(28)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے :”جو میرے فیصلے اور میری تقدیر پر راضی نہیں اسے چاہے کہ میرے علاوہ دوسرا رب تلاش کر لے۔”
(شعب الایمان، باب فی ان القدرخیرہ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۰۰،ج۱،ص۲۱۸)
(29)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے یحیی بن زکریا علیہما السلام کو ماں کے پیٹ میں مؤمن پیدا فرمایا اور فرعون کو اس کی ماں کے پیٹ میں ہی کافر پیدا فرمایا۔”  (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۵۴۳،ج۱۰،ص۲۲۴)
 (30)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”خوش بخت وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں خوش بخت تھا اور بدبخت وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت تھا۔”
 (مجمع الزوائد، کتاب القدر،باب مایکتب علی العبد فی بطن امہ، الحدیث: ۱۱۸۰۹،ج۷،ص۳۹۷)
 (31)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل ہربندے کے متعلق پانچ چیزوں کا حکم فرما چکا ہے: (۱)اس کی موت سے (۲)رزق سے (۳)اس کی عمرسے(۴)اس کے مدفن سے اور (۵)اس بات سے کہ وہ خوش بخت ہے یا بدبخت۔”
 (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند الانصار، الحدیث: ۲۱۷۸۱/۲۱۷۸۲،ج۸،ص۱۶۹،۱۶۸)
 (32)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل زمین وآسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار ( 50,000)سال پہلے ہی تقدیریں مقرر کرنے اور دنیوی اُمور کو مکمل کر چکا تھا۔”
 (کنزالعمال،کتاب الایمان ، قسم الاقوال،فصل السادس فی الایمان بالقدر، الحدیث:۴۹۱،ج۱،ص۶۹)
 (33)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے زمین وآسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار ( 50,000)سال پہلے ہی تقدیریں لکھ دی تھیں۔”
 (جامع الترمذی، ابواب القدر، باب اعظام الامرالایمان بالقدر،الحدیث:۲۱۵۶،ص۱۸۶۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (34)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے زمین وآسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار (50,000)سال پہلے ہی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھیں اس وقت اللہ عزوجل کا عرش پانی پر تھا(جیساکہ اس کی شان کے لائق ہے)۔”
    (صحیح مسلم، کتاب القدر، باب حجاج آدم وموسیٰ،الحدیث:۶۷۴۸،ص۱۱۴۰)
 (35)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ہر چیز تقدیر سے ہے یہاں تک کہ کمزوری اور دانا ئی بھی۔”
     (صحیح مسلم، کتاب القدر،باب کل شی بقدر،الحدیث:۶۷۵۱،ص۱۱۴۰)
error: Content is protected !!