Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.
islam

ستر ہزار مردے زندہ ہو گئے

یہ حضرت حزقیل علیہ السلام کی قوم کا ایک بڑا ہی عبرت خیز اور انتہائی نصیحت آمیز واقعہ ہے جس کو خداوند قدوس نے قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں بیان فرمایا ہے۔
حضرت حزقیل علیہ السلام کون تھے؟:۔یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیسرے خلیفہ ہیں جو منصب نبوت پر سرفراز کئے گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اقدس کے بعد آپ کے خلیفہ اول حضرت یوشع بن نون علیہ السلام ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی۔ ان کے بعد حضرت کالب بن یوحنا علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خلافت سے سرفراز ہو کر مرتبہ نبوت پر فائز ہوئے۔ پھر ان کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جانشین اور نبی ہوئے۔
     حضرت حزقیل علیہ السلام کا لقب ابن العجوز (بڑھیا کے بیٹے)ہے۔ اور آپ ذوالکفل بھی کہلاتے ہیں۔ ”ابن العجوز” کہلانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اس وقت پیدا ہوئے تھے جب کہ ان کی والدہ ماجدہ بہت بوڑھی ہوچکی تھیں۔ اور آپ کا لقب ذوالکفل اس لئے ہوا کہ آپ نے اپنی کفالت میں لے کر ستر انبیاء کرام کو قتل سے بچالیا تھا جن کے قتل پر یہودی قوم آمادہ ہو گئی تھی۔ پھر یہ خود بھی خدا کے فضل و کرم سے یہودیوں کی تلوار سے بچ گئے اور برسوں زندہ رہ کر اپنی قوم کو ہدایت فرماتے رہے۔
       (تفسیر الصاوی،ج۱،ص۲۰۶،پ۲،البقرۃ ۲۴۳)

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!