Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بے نمازی کے کفرکے قائل ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ:

     غير صحابہ ميں جو ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ بے نمازی کے کفر اور اس کے قتل کے جائز ہونے کے قائل ہیں ان میں حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سیدنا اسحاق بن راہويہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ،سیدنا عبد اللہ بن مبارک ، سیدنا امام نخعی ، سیدنا حکم بن عيينہ ، سیدنا ايوب سختيانی ، سیدنا ابو داؤد طيالسی ، سیدنا ابوبکر بن شيبہ، اور حضرت سیدنا زھير بن حرب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وغيرہ شامل ہيں۔ ”۱؎
    ابن حزم ۲؎سے منقول ہے،امیرالمؤمنین حضرت سيدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگرصحابہ کرام علیہم الرضوان سے مروی ہے:”جس نے جان بوجھ کرايک فرض نماز ترک کی يہاں تک کہ اس کا وقت گزر گيا وہ کافر و مرتد ہے۔” اور ہم ان صحابہ کرام علیہم الرضوان ميں سے کسی کو اس بات کا مخالف نہيں پاتے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    سیدنا محمد بن نصر مروزی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہيں کہ حضرت سیدنا اسحاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمايا کہ یہ بات صحیح سند کے ساتھ حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے مروی ہے کہ”نماز کا تارک کافر ہے۔” اور شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باِذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مقدس زمانے سے اہلِ علم کی يہی رائے رہی ہے کہ جونمازکوبغيرکسی عذر کے اتنی دير تک مؤخرکرکے اداکرے کہ وقت گزر جائے ،کافرہے۔”
۱؎ :احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزديک” ”نماز کی فرضيت کا منکر کافر اورجو قصداً چھوڑے اگرچہ ايک ہی وقت کی وہ فاسق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قيد کيا جائے يہاں تک کہ نمازپڑھنے لگے۔”    (بہار شريعت،ج۱،حصہ۳،ص۹)
۲؎ابن حزم کے متعلق حضرت علامہ مفتی منظوراحمدفیضی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب” تعارف”میں حافظ ابن حجرہیتمی مکی علیہ رحمۃاللہ القوی کی کتاب (کف الرعاع ھامش الزواجر،ج۱،ص۱۴۵)کے حوالے سے تحریرفرماتے ہیں کہ”ائمہ نے ”ابن حزم ”کی تذلیل کرتے ہوئے فرمایاکہ ابن حزم کی بہت سی بے تکی باتیں ہیں اورامورقبیحہ ہیں۔ جوان کی سختی (طبعت)اورظواہرپرجمودکی وجہ سے پیداہوئیں اسی لئے محققین نے فرمایا:ابن حزم(کی بات) کاکوئی وزن نہیں اورنہ اس کے کلام کی طرف نظرکی جائے گی اورنہ اس کے خلاف پر(جواہل سنت سے کیا)کوئی اعتبارواعتمادکیاجائے گا۔”(تعارف” چندمفسرین ومحدثین کا”ص۹)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

     مجدداعظم اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃاللہ الرحمن ابن حزم اوراس کے عقائدکے بارے میں ارشادفرماتے ہیں کہ”وہابیہ کاایک پراناامام ”ابن حزم ”غیرمقلدظاہری المذہب مدعی عمل بالحدیث منہ بھرکربک گیاکہ خداکے بیٹاہوسکتا،ملل ونحل میں کہتاہے:اِنَّہُ تَعَالٰی قَادِرٌاَنْ یَّتَّخِذَوَلَدًااِذْلَوْلَمْ یَقْدِرْ لَکَانَ عَاجِزًا(یعنی  ، بيشک اللہ تعالیٰ اس بات پرقادرہے کہ اولادرکھے کیونکہ اگراس پرقادرنہ ہواتوعاجزہوگا)معاذاللہ عزوجل(یعنی اللہ عزوجل کی پناہ)
(فتاوی رضویہ،رسالہ دامان باغ سبحان السبوح، ج۱۵،ص۴۶۰)
    سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ دوسرے مقام پرفرماتے ہیں:”حضرات مبتدعین کے معلم شفیق ابلیس خبیث علیہ اللعن نے یہ عجزوقدرت کانیاشگوفہ ان دہلوی بہادر(اسماعیل دہلوی)سے پہلے ان کے مقتدا”ابن حزم” فاسدالعزم فاقدالجزم ظاہری المذہب ردی المشرب کوبھی سکھایاتھاکہ اپنے رب کاادب واجلال یکسرپسِ پشت ڈال کتاب الملل والنحل میں بک گیاکہ”اِنَّہُ تَعَالیٰ قَادِرٌ،الخ ……۔”(یعنی اللہ عزوجل اپنے لئے بیٹابنانے پرقادرہے کہ قدرت نہ مانوتوعاجزہوگا)تَعَالٰی اللہُ عَمَّایَقُوْلُوْنَ الظَّالِمُوْنَ عُلُوًّاکَبِیْرًایعنی ظالم جوکہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے کہیں بلندہے(فتاوی رضویہ،رسالہ سبحان السبوح، ج۱۵،ص۳۶۵)
error: Content is protected !!