Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۱۸) قربانی

قربانی کے فضائل میں ترمذی و ابن ما جہ کی یہ حدیث بہت زیادہ عبرت خیز ہے اس کو بغور پڑھ کر اس پر عمل کرکے جنت میں جانے کا سامان کیجئے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا عَمِلَ ابْنُ اٰدَمَ مِنْ عَمَلٍ یَوْمَ النَّحْرِ اَحَبُّ اِلَی اللہِ مِنْ اِھْرَاقِ الدَّمِ وَاِنَّہٗ لَیَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاَشْعَارِھَا وَاَظْلَافِھَا وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللہِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ بِالْاَرْضِ فَطِیْبُوْا بِھَا نَفْسًا۔رواہ الترمذی وابن ماجہ (2)
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے، انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ یوم النحرکے دن ابن آدم کاکوئی عمل خون بہانے(قربانی کرنے)سے زیادہ اللہ عزوجل کے نزدیک پیارانہیں ہے اوربے شک وہ قیامت کے دن اپنے سینگوں اوربالوں اورکھروں کے ساتھ آئے گااوربے شک قربانی کاخون زمین پرگرنے سے پہلے اللہ عزوجل کے دربارمیں مقبولیت کی جگہ میں پڑجاتاہے لہٰذا تم لوگ اس کوخوش دلی کے ساتھ کرو۔اس حدیث کوترمذی وابن ما جہ نے روایت کیا ہے۔

تشریحات و فوائد

حدیث مذکور کا مطلب یہ ہے کہ یو م النحریعنی ذوالحجہ کی دس تاریخ عیداضحی کے دن اللہ تعالیٰ کو مسلمان کا کوئی عمل بھی قربانی سے زیادہ محبوب اور پیارا نہیں ہے۔ اور قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ عزوجل کے دربار میں مقبولیت کے مقام میں پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ یہ مسئلہ ہے کہ قربانی کے جانور کو تول کر اگر اس کے وزن کے برابر چاندی یا سونا بقرہ عید کے دن خیرات کردیں جب بھی اتنا ثواب نہیں ملے گا جتنا کہ اس جانورکی قربانی میں ثواب ملے گالہٰذااے مسلمانو!تمہیں چاہیے کہ قربانی کو نہایت ہی خوشی اورخوش دلی کے ساتھ کیاکرو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الصلاۃ،باب فی الاضحیۃ،الحدیث:۱۴۷۰،ج۱،ص ۲۸۳
error: Content is protected !!