Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مسجد میں نکاح کرنا مستحب ہے

مسجد میں نکاح کرنا مستحب ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نکاح کے آداب میں سے ہے کہ نکاح مسجد میں کیا جائے اور پھر مسجد چونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا گھر ہے اور نکاح ایک بھلا کام ہے ، مسجد میں جو بھی بھلائی کا کام کیا جائے اُس میں خیر و برکت شامل ہوجاتی ہے ، لہٰذا مسجد میں نکاح کرنا بہتر ہے۔ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عَلانیہ طور پر مسجد میں نکاح کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا : اَعْلِنُوْا هَذَا النِّكَاحَ  وَاجْعَلُوهُ فِى الْمَسَاجِدِ یعنی نکاح علَی الْاِعْلان کِیا کرو اور اسے مسجد میں مُنعَقِد کِیا کرو۔ (1)
مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : فقہاء فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ نکاح جمعہ کے دن بعد نمازِ جمعہ جامع مسجد میں تمام نمازیوں کے سامنے ہو تا کہ نکاح کا اعلان بھی ہوجائے اور ساتھ ہی جگہ اور وقت کی برکت بھی حاصل ہوجائے ، نیز نکاح عبادت ہے اور عبادت کیلئے عبادت خانہ یعنی مسجد موزُوں (یعنی مناسب)ہے۔ (2)
________________________________
1 –   ترمذی ، کتاب النکاح ،  باب ما جاء فی اعلان النکاح ، ۲ /  ۳۴۶ ، حدیث : ۱۰۹۱
2 –   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۹
error: Content is protected !!