Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پیشہ اور قومیت:

مسلمانوں کی بے کاری کی وجہ ان کی جھوٹی قومیت او ر غلط قوم پرستی ہے ۔ ہند وستا ن کے مسلمانوں نے پیشے پر قومیت بنائی او رپیشہ ور قوموں کو ذلیل جانا ، ان بیوقوفوں کے نزدیک جو کما کے حلال رو زی کھائے وہ کمین ہے اور بھکاری سودی،مقرو ض، چوری، ڈکیتی کرنے والاشریف اللہ تعالیٰ عقل نصیب فرمائے۔جو کپڑا بننے کا پیشہ کرے وہ جولا ہا ہوگیا،جو مسلمان چمڑے کاکاروبارکرنے لگیں انہیں موچی کاخطاب مل گیا ،جو کپڑاسی کر اپنے بچوں کوپالے وہ درزی کہلا کر قوم سے باہر ہوا،جوروئی دھننے کا کام کرے وہ وہ دھنیا کہلایا گیا اور اٹھتے بیٹھتے ان پر طعنے بھی ہیں ان کا مذاق بھی اڑایا جارہاہے ۔با ت بات میں کہا جاتا ہے ہٹ جو لا ہے ، چل بے دھینے، دور ہوموچی ، یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی خاندان میں کسی نے بھی چمڑے کی تجارت کی تو اس کے پڑپوتو ں کو اپنی قوم میں لڑکی نہیں ملتی۔کہا جاتا ہے کہ اس کی فلانی پشت میں چمڑے کی دکان ہوتی تھی۔اس بیوقوفی کا یہ انجام ہوا کہ مسلمان سارے پیشو ں سے محرو م رہ گئے اب ان کے لئے صرف تین راستے ہیں  یا لالہ جی کے ہاں ذلت کی نوکری کریں یا زمین جائیدادبیچ کر کھائیں یابھیک مانگیں، چوری کریں اور اپنی شرافت کواوڑ ھیں اور بچھائیں۔ خیال رکھو کہ تمام ملکوں میں ملک عرب اعلیٰ اورافضل ہے کہ وہاں ہی حج ہوتا ہے اور وہ ہی ملک آفتابِ نبوت کا مشرق ومغرب بنا ۔ با قی پنجاب ، بنگال ، یوپی ، سی پی ، ایران،تہران،چین وجاپان سب یکساں ہیں ، حج کہیں نہیں ہوتا نہ پنجابی ہونا کمال ہے ۔ نہ ہندو ستانی ہونا فخر ، نہ ایرانی ہونا ولایت ہے نہ تو رانی ہونا ، بے شک اہل عرب ہمارے مخدو م ہیں کہ وہ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوسی ہیں ایسے ہی حضرات ساداتِ کرام اسلام کے شہزادے اور مسلمانوں کے سردارہیں۔حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ قیامت میں سارے نسب حسب بیکار ہوں گے ۔ سوائے میرے نسب کے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المعجم الکبیر ، الحدیث ۱۱۶۲۱ ،ج ۱۱ ، ص ۱۹۴ )
باقی ساری اسلامی قومیں شیخ ،مغل،پٹھان اوردیگراقوام برا برہیں۔ان میں نبی زادہ کوئی نہیں، شرافت اعمال پرہے نہ کہ محض نسب پر۔رب تعالیٰ فرماتاہے :
وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ
ہم نے تمہیں مختلف قبیلے اس لئے بنایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو۔اللہ کے نزدیک عزت والاوہی ہے جو تم میں پر ہیزگارہو۔(پ26،الحجرات:13)
    جیسے کہ زمین میں مختلف شہر اور گاؤں ہیں اور شہرو ں میں مختلف محلے تا کہ ملکی انتظام میں آسانی رہے اور ہر ایک سے خط و کتابت کی جاسکے ۔ ایسے ہی انسانوں میں مختلف قومیں ہیں اور ہر قوم کے مختلف قبیلے تا کہ انسان ایک دوسرے سے ملے جلے رہیں اور ان میں نظم اور انتظام رہے ۔محض قومیت کو شرافت یا رِ ذلالت کا مدار ٹھرانا سخت غلطی ہے ۔یقین کر و کہ کوئی مسلمان کمین نہیں اور کوئی کا فر شریف نہیں۔ عزت وعظمت مسلمانوں کے لئے ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ
عزت اللہ اور رسول کے لئے ہے اور مسلمانوں کے لئے ۔(28،المنافقون:8)
    پھر مسلمانوں میں جس کے اعمال زیادہ اچھے اسی کی عزت ،زیادہ شریف وہ جو شریفوں کے سے کام کرے اور کمین وہ جو کمینوں کی سی حرکتیں کرے ۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔
ہزار خویش کہ بے گا نہ از خدا با شد
فدائے یک تنِ بے گا نہ کا شنا با شد
    ہمارے وہ اپنے جو اللہ ورسول کے غیر ہوں اس ایک غیر پر قربان ہوجائیں جو اللہ و رسول کے اپنے ہوں جل واعلیٰ تبارک وتعالیٰ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
کسی ہندی شاعر نے کہا ہے۔
رام نام کشٹے بھلے کہ ٹپ ٹپ ٹپکے جام
داروں کنچن دیھ کو کہ جس سکھ ناہیں رام
    غرضیکہ حلال پیشو ں کو ذلت سمجھ کر اسے چھوڑ بیٹھنا سخت غلطی ہے اب تو زمانہ 
بہت پلٹ چکا ہے ۔ بڑے بڑے لو گ کپڑے اور سوت کے کار خانے قائم کر رہے ہیں ۔ تم کب تک سو ؤگے ، خواب غفلت سے اٹھو اور مسلم قوم کی حالت پلٹ دو ، بیکاروں کو باکار بناؤ ، قر ضداروں کو قر ض سے آزاد کرو ، اپنے بچوں کو جاہل نہ رکھو انہیں ضرور تعلیم دلواؤ اور ساتھ ہی کوئی ہنر بھی سکھا دو تا کہ وہ کسی کے محتا ج نہ رہیں۔
error: Content is protected !!