Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پیشگی حساب کا طریقہ

    جوصاحبِ نصاب اسلامی بھائی یا اسلامی بہنیں تھوڑی تھوڑی کر کے پیشگی زکوٰۃ دینا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے پاس موجودکل مالِ زکوٰۃ (سوناچاندی،کرنسی نوٹ ،مالِ تجارت وغیرہ) کا اندازاً حساب لگالیں پھر کل مالِ زکوٰۃ کی قیمت کا 2.5% بطورِ زکوٰۃ الگ الگ کر لیں ۔ پھر اگر وہ ماہانہ کے حساب سے دینا چاہیں تو زکوٰۃ کی رقم کو 12پر تقسیم کرلیں اور اگر ہفتہ وار دینا چاہیں تو 48پر اور اگر روزانہ دینا چاہیں تو 360پر تقسیم کر لیں ۔ پھر جب سال تمام ہو تو زکوٰۃ کا مکمل حساب کر لیں اور جو کمی ہواُسے پورا کریں ۔
پیشگی زکوٰۃزیادہ دے دی تو کیا کرے؟
    اگرپیشگی زکوٰۃ زیادہ چلی گئی تو اسے آئندہ سال کی زکوٰۃ میں شامل کر لے ۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الاول، ج۱، ص۱۷۶)
جسے پیشگی زکوٰۃدی تھی بعد میں وہ مالدار ہوگیاتو؟
    جس فقیر کو پیشگی زکوٰۃدی تھی وہ سال کے اختتام پر مالدار ہوگیا یا مر گیا یامرتد ہوگیا تو زکوٰۃ ادا ہوگئی ۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الاول، ج۱، ص۱۷۶)
اختتامِ سال پر نصاب باقی نہ رہا تو؟
    ایسی صورت میں جو کچھ دیا، نفلی صدقہ میں شمار ہوگا ۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الاول، ج۱، ص۱۷۶)
زکوٰۃ دینے والے کے مال سے زکوٰۃ کی ادائیگی
    جس پرزکوٰۃواجب ہواسی کے مال سے زکوٰۃدینا ضروری نہیں کوئی دوسرا بھی اس کی اجازت سے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے۔(ماخوذا ز فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ ، ج۱۰،ص ۱۳۹) مثلاً بیوی پر زکوٰۃ ہو تواس کی اجازت سے شوہر اپنے مال سے ادا کرسکتا ہے ۔
بلااجازت کسی کے مال سے اس کی زکوٰۃ دینا
    کسی کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے پیشگی زکوٰۃدیتا رہا پھر اسے خبر کی اور اس نے جائز رکھا تو بھی زکوٰۃادا نہیں ہوگی اور جو کچھ مالک کی اجازت کے بغیر فقراء کو دیا ہے اس کا تاوان ادا کرے ۔ فتاویٰ شامی میں ہے :”اگر کسی نے دوسرے کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ ادا کردی پھر دوسرے تک خبر پہنچی اور اس نے جائز بھی رکھا تب بھی زکوٰۃادا نہ ہوگی ۔”
 (ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ ،مطلب فی زکوٰۃ …الخ،ج۳،ص۲۲۳ )
زکوٰۃ دئیے بغیر انتقال کرجانے والے کا حکم
     جس شخص پر زکوٰۃ واجب ہے اگر وہ مر گیا تو ساقط ہوگئی یعنی اس کے مال سے زکوٰۃدینا ضروری نہیں، ہاں اگر وصیّت کر گیا تو تہائی مال(یعنی کل مال کے تیسرے حصے ) تک وصیّت نافذ ہے اور اگر عاقل بالغ ورثہ اجازت دے دیں تو کُل مال سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔
 (بہارِ شریعت ،ج۱حصہ۵،مسئلہ نمبر ۸۴،ص۸۹۲)
مشروط طور پرزکوٰۃ دینا
نہیں، یا اس شرط پر زکوٰۃ دیتا ہوں کہ فلاں کام مثلاً تعمیر مسجد یا مدرسہ میں صرف کرو تو لینے والے پر اس شرط کی پابندی ضروری نہیں زکوٰۃ ادا ہوجائے گی کیونکہ زکوٰۃ ایک صدقہ ہے اور صدقہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا ۔  (ماخوذ از الدرالمختارو در المحتار ، کتاب الزکوٰۃ ، باب المصرف،ص۳،ص۳۴۳)
زکوٰۃ کی رقم تجارت میں لگاکر اس کا نفع غریبوں میں تقسیم کرنا کیسا؟
    اگر سال پورا ہو چکا ہے تو زکوٰۃ کی رقم اس کے مستحق کو دینے کی بجائے تجارت میں لگانا حرام ہے ۔ ہاں اگر کوئی سال پورا ہونے سے پہلے اس نیت کے ساتھ اپنی زکوٰۃ کی رقم کاروبار میں لگائے کہ سال تمام ہونے پر یہ رقم اس کے منافع سمیت فقراء کو دے دوں گا تو یہ نیت بہت اچھی ہے ۔
 (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجہ ،ج۱۰، ص۱۵۹ملخصاً)
مالِ زکوٰۃ سے وقف
     مال ِ زکوٰۃ سے کوئی چیز خرید کر وقف نہیں کی جاسکتی اس لئے کہ مال ِ زکوٰۃ سے وقف ممکن نہیں کیونکہ وقف کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اور زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے مالک بنانا شرط ہے ۔ اس کی تدبیر، یوں کی جاسکتی ہے کہ کسی مصرف زکوٰۃ کو زکوٰۃ دیں پھر وہ اپنی طرف سے کتابیں وغیرہ خرید کر وقف کردے ۔  (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجہ ،ج۱۰، ص۲۵۵)    اگر زکوٰۃ دیتے وقت کوئی شرط لگا دی مثلاً یہاں رہوگے تو دیتا ہوں ورنہ
error: Content is protected !!