Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شانِ نزول:

    اکثر مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ آیت مبارکہ قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کی تائیدیہ روایت بھی کرتی ہے :
(1)۔۔۔۔۔۔اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ کفارِمکہ رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر تقدیر کے بارے میں جھگڑنے لگے تو یہ آیاتِ مبارکہ نازل ہوئیں:
اِنَّ الْمُجْرِمِیۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ ﴿ۘ47﴾یَوْمَ یُسْحَبُوۡنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوۡہِہِمْ ؕ ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ ﴿48﴾اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ ﴿49﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک مجرم گمراہ اوردیوانے ہیں جس دن آگ میں اپنے مونھوں پرگھسیٹے جائیں گے اورفرمایا جائے گا چکھودوزخ کی آنچ بیشک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدافرمائی۔(پ27، القمر:47۔49)
(تفسیرا لطبری،سورۃ القمر، تحت الآیۃ:۴۶،ج۱۱،ص۵۶۹،ملخصًا)
    قَدْرِیَہ ہی وہ مجرم ہیں جن کا ذکر اللہ عزوجل نے مذکورہ آیتِ مبارکہ میں کیا ہے، اسی طرح وہ لوگ بھی ان میں شامل ہیں جو ان کے طریقہ پر ہیں اگرچہ کامل طور پر تقدیر کے منکر نہیں جیسے معتزلہ وغیرہ۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(2)۔۔۔۔۔۔بعض مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے آیتِ مبارکہ کے نزول کا سبب یہ بیان کیاہے :”نجران کے ایک پادری نے حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی :”اے محمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)! آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کاخیال ہے کہ ہر گناہ تقدیر کی وجہ سے ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”تم لوگ اللہ عزوجل کے مخالف ہو۔” اس پر یہی آیتِ مبارکہ:” اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ۔۔۔۔۔۔اِلٰی آخرالآیۃ ” نازل ہوئی۔ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی،سورۃ القمر،تحت الآیۃ:۴۹،ص۱۰۹)

(3)۔۔۔۔۔۔صحیح حدیث پاک میں ہے :”اللہ عزوجل نے زمین وآسمان پیدا فرمانے سے پچاس ہزار 50,000 سال پہلے ہی ساری مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھیں۔”
 (صحیح مسلم، کتاب القدر،باب حجاج آدم وموسی،الحدیث: ۶۷۴۸،ص۱۱۴۰)
(4)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ عزوجل کے کرم سے اُس کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے کچھ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جو کہتے تھے :” ہر شئے اللہ عزوجل کی تقدیرسے ہوتی ہے۔” اور میں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ہر شے اللہ عزوجل کی تقدیر سے ہے یہاں تک کہ عجز اور دوراندیشی یاعقل مندی اور عجز بھی۔”             (المرجع السابق،باب کل شئی بقدر،الحدیث: ۶۷۵۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(5)۔۔۔۔۔۔امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بندہ جب تک چارچیزوں پر ایمان نہ لے آئے اللہ عزوجل پر ایمان نہیں لا سکتا: (۱) لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی گواہی دے (۲)اس بات کی گواہی دے کہ میں اللہ عزوجل کا رسول ہوں، اللہ عزوجل نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے (۳) موت کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان لائے اور (۴)تقدیر کو مانے۔”
(جامع الترمذی، ابواب القدر،باب ماجاء ان الایمان بالقدر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۱۴۵،ص۱۸۶۷)
(6)۔۔۔۔۔۔ایک اورروایت میں ہے :”اچھی بری تقدیر کو مانے۔”
    (المرجع السابق،الحدیث:۲۱۴۴)
    مسلم شریف کی گذشتہ روایت جس میں ہے :”ہر چیز تقدیر سے ہے یہاں تک کہ عجز اور دانائی بھی۔” اہلِ سنت کے مذہب پر صریح دلیل ہے۔
        (صحیح مسلم، کتاب القدر،باب کل شئی بقدر،الحدیث: ۶۷۵۱،ص۱۱۴۰)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(7)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”چھ افراد ایسے ہیں جن پر اللہ عزوجل اور ہر مستجاب الدعوات نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام لعنت فرماتا ہے وہ یہ ہیں: (۱)تقدیرِ الٰہی کو جھٹلانے والا (۲)کتاب اللہ عزوجل میں اضافہ کرنے والا(۳)اللہ عزوجل کے معزز کردہ لوگوں کو ذلیل کرنے کے لئے زبردستی حاکم بن جانے والا(۴)اللہ عزوجل کی حرام کردہ اشیاء کو حلال سمجھنے والا (۵)میری اولاد کے معاملہ میں اللہ عزوجل کے حرام کئے ہوئے(قتلِ ناحق ) کوحلال سمجھنے والا اور (۶) میری سنت کا تارک۔”

(صحیح ابن حبان،باب اللعن، ذکر لعن المصطفیٰ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۵۷۱۹،ج۷،ص۵۰۱،بتغیر قلیل)
error: Content is protected !!