Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

چھٹی حدیثِ پاک

     علامہ ابن سعدرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ۱؎ (230-168ھ)”اَلطَّبَقَات۲؎”میں فرماتے ہیں کہ محمدبن عمر واقدی نے اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبردی کہ”مجذَّربن زیاد۳؎نے زمانہ جاہلیت میں کی رنجش کے سبب سویدبن صامت پر قابو پا کراسے قتل کردیااوریہ اسلام سے پہلے کاواقعہ ہے۔ جب نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منور ہ تشریف لائے توحارث بن سوید اور مجذر بن زیاد نے اسلام قبول کرلیا۔ دونوں بد ر کی لڑائی میں شريك ہوئے۔حارث جنگ میں مجذر کوتلاش کرنے لگے۔ تاکہ انہیں قتل کر کے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لیں لیکن انہیں موقع نہ ملا۔
    پھرغزوہ اُحد کا دن آیامسلمانوں نے نقصان اٹھانے کے بعد دوبارہ حملہ کیا تو حار ث مجذَّر کے پیچھے سے آئے اور ان کی گردن اُڑادی۔جب رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ
۱؎ حافظ الحدیث ، المحدث ، ابوعبداللہ محمد بن سعد بن منیع الزھری ، البصری آپ علیہ الرحمہ بصرہ میں پیدا ہوئے اور بغداد میں رہائش اختیار فرمائی اور جمادی الآخر میں آپ کا وصال ہوا ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آثار میں سے، طبقات الصحابہ المعروف بطبقات ابن سعد ہے ۔
(معجم المؤلفین،ج۳،ص۳۱۳،الاعلام للزرکلی،ج۶، ص۱۳۶)
۲؎ طبقات الصحابہ والتا بیعن لا بی عبداللہ محمد بن سعد الزھری ، البصری ،اولا اپنے زمانہ میں آپ نے اس کی ۱۵ جلدیں لکھیں پھر اس میں سے انتخاب کر کے ۱۵ جلدوں سے کم کر دی گئی ۔ (کشف الظنون، ج۲، ص۱۱۰۳)
۳؎ المجذّر بن زیاد بن عمرو بن اخرم البلوی (المتوفی۳ھ)، صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے ہیں انہوں نے زمانہ جاھلیت میں سویدبن صامت کو قتل کیا ان کے نام کے بارے میں دوقول ہیں:ایک عبداللہ او ردوسرا مجذّر کاہے ، غزوۂ اُحد کے دن شہید ہوئے،حارث بن سوید بن صامت نے ان کو قتل کیا۔    (الاعلام للزرکلی،ج۵،ص۲۷۸)
    ناقلین کایہ ”اتفاق”جسے ابن اثیر علیہ رحمۃ اللہ الکبیر نے ذکرکیاہے،یہ اس بات کاتقاضہ کرتاہے کہ اس روایت پرحدیثِ صحیح کاحکم لگایاجائے اگرچہ اس کی سند صحیح کی شرط پر نہیں جیساکہ علمِ اصولِ حدیث میں قاعدہ مقررہے۔اس بات کو علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (463-368ھ) نے ”اَلتَّمْہِیْد ۱؎”میں اوردیگرعلماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نےذکرکیاہے ۔
تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حمراء اَسَدسے واپس تشریف لائے توحضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ ميں حاضرہوئے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خبردی کہ حارث بن سویدنے مجذَّر بن زیادکودھوکے سے قتل کردیاہے پھرجبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کہ ”ان کو قتل کیاجائے ۔
    چنانچہ تاجدارِرسالت ،شہنشاہِ نبوت،مخزنِ جودو سخاوت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس دن جب کہ سخت گرمی تھی سوار ہوکرقباء کی طرف تشریف لے گئے ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسجد قباء میں داخل ہوئے اور نماز ادا فرمائی ۔ انصار کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سلام عرض کیا،انہيں ایسے دن اور اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا یقین نہ آرہا تھااتنے میں حارث بن سوید ایک رنگین چادرمیں وہاں پہنچے جب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا توعویم بن ساعدہ کوبلایااور ارشادفرمایا:” حارث بن سوید کو مسجد کے دروازہ کے پاس لے جاؤاورمجذر بن زیاد کے بدلے اس کی گردن ماردواس لئے کہ اس نے مجذر کو دھوکے سے قتل کیاہے۔”
    حارث کہنے لگے:”اللہ عزوجل کی قسم!مجذَّرکومیں نے ہی قتل کیا ہے لیکن میرا اسے قتل کرنااسلام سے پھرنے یااس میں کسی شک کی بناء پرنہ تھابلکہ شیطان کی طرف سے غصہ دلانے اور اپنے نفس پربھروسا کرنے کی وجہ سے تھا ۔میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے اس عمل سے توبہ کرتا ہوں۔ میں اس کی دیت اداکروں گا،لگاتار دوماہ کے روزے رکھوں گا اورایک غلام آزاد کروں گا۔” جب انہوں نے اپنی گفتگو مکمل کی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے  فرما یا : ”اے عویم!اسے لے جاؤاور اس کی گردن اڑادو۔”چنانچہ وہ انہیں لے گئے اورقتل کردیا۔
 (السنن الکبری للبیہقی،کتاب الجراح،باب ماجاء فی قتل ا لغیلۃ ۔۔۔۔۔۔ الخ،الحدیث:۱۶۰۶۱،ج۸،ص۱۰۱)
    حضرت سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱؎ نے اس بارے میں ایک شعر کہاہے:
یَاحَارِ فِیْ سِنَۃٍ مِنْ نَوْمِ اَوَّلِکُمْ 
اَمْ کُنْتَ وَیْحَکَ مُغْتَرًّابِجِبْرِیْلَ
    ترجمہ:اے حارث!تجھ پر افسوس ہے کیاتواُونگھ میں تھاياجبرائیل علیہ السلام سے دھوکے میں ۔
اَمْ کَیْفَ یَا اِبْنَ زِیَادٍ حِیْنَ تَقْتُلُہٗ 
بِغِرَّۃٍ فِیْ فَضَاءِ الْاَرْضِ مَجْہُوْل
    ترجمہ: اے ابن زیاد!تو کیسے پوشیدہ رہ سکتا تھا جبکہ تو اسے (یعنی سویدکو) زمین کی کھلی فضاء میں دھوکے سے قتل کررہا تھا۔
     علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۲ ؎ (630-555ھ)فرماتے ہیں کہ”اس روایت کے ناقلین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حارث بن سویدوہ ہیں جنہوں نے مجذَّر بن زیادکوقتل کیاتھاپس رسولِ پاک،صاحبِ لولاک،سَیَّاحِ اَفلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قتل کرنے کا حکم فرمايا۔”
    یہ مذکورہ فیصلہ حقیقت اور باطن پراطلاع ہونے کے تقاضے کے مطابق تھاکیونکہ اس میں وارث کی طرف سے نہ توقصاص کادعویٰ کيا گيا،نہ دِیت قبول کی گئی اورنہ ہی ورثاء میں سے کسی کے نابالغ ہونے کی بناء پراس کے بالغ ہونے کے لئے تاخیرواقع ہوئی۔
     باوجودیہ کہ بیان کردہ تمام اُمورشریعت کے تقاضوں میں سے ہیں۔ مگر سرکارِ دوعالم،نورِ مجسَّم ،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس فیصلے کونافذفرمانے کے لئےبنفسِ نفیس(یعنی بذاتِ خود)سوارہوکرتشریف لائے حالانکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قصاص کے واقعات میں جتنے فیصلے فرمائے کبھی ایسانہ کیابلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھریامسجد نبوی علیٰ صاحبھاالصلوٰۃ والسلام میں تشریف فرماہوتے، وارث آتا،قتل کا دعویٰ کرتا،اسے ثابت کرتاپھراگروہ قصاص کا مطالبہ کرتاتورسولِ اَکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  اسے عفوودرگزرکی ترغیب دیتے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے: ”جب بھی رسولِ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں قصاص کامطالبہ کیاگیاتو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عفوودرگزرسے کام لینے کا حکم فرمایا۔”
 (سنن ابن ماجہ،کتاب الدیات،باب العفوفی القصاص،الحدیث:۲۶۹۲،ج۳،ص۹ ۲۹)
    علامہ بُلقینی علیہ رحمۃ اللہ القوی(824-763ھ)نے ”اَلرَّوْضَۃ”کے حاشیہ میں علامہ ابن منذر (318-242ھ)اورامام طبرانی (360-260ھ)رحمہمااللہ تعالیٰ کے حوالے سے نقل کیا کہ ان دونوں نے استدلال کیا ہے کہ” رسولِ اَکرم،نورِمجسّم،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عِلم کے ساتھ فیصلہ فرماتے تھے۔”دونوں اس حدیثِ پاک سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اے خاتون ! اپنے شوہرکے مال سے دستورکے مطابق اتنالے لیاکرجتناتجھے اورتیرے بچوں کو کفایت کرے۔”
 (صحیح البخاری،کتاب الاحکام،باب القضاء علی الغائب،الحدیث:۷۱۸۰،ج ۴ ،ص۴۶۶)
    اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے زوجیت (یعنی اس شخص کی بیوی ہونے)پردلیل کا مطالبہ کئے بغیراس کے لئے فیصلہ فرمادیا تھا۔
اعتراض:اگریہ کہا جائے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے وارث کے دعویٰ اور مطالبہ کے بغیرنیزتمہاری ذکرکردہ باتوں کے وقوع کے بغیراس لئے قتل کردیاتھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وحی آگئی تھی۔
جواب:تو میں جواب میں کہوں گا کہ ہاں!بات ایسے ہی ہے اور یہی ہمارا مدعا ہے۔ حقیقت کے مطابق فیصلہ صادر فرمانے کامفہوم یہی ہے کہ اس معاملہ کی حقیقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کووحی کے ذریعے بتادی جائے اور پھرشرعی طور پر معتبر  شرائط پر توقف کئے بغیراسے نافذ کرنے کا حکم دے دیاجائے۔
    بہرحال حقیقت کے مطابق فیصلہ کرنے کااس کے علاوہ اورکوئی مفہوم نہیں۔ کیونکہ حضرت سیدنا خضرعلیہ السلام نے بھی اس لڑکے کووحئ الٰہی عزوجل نازل ہونے کے بعدقتل کیاتھا اور انہیں مطلع کردیاگیا تھا کہ اس کے کافر ہونے پر مہر ثبت کردی گئی ہے اور پھرآپ علیہ السلام کوحکم دیاگياکہ شریعت مطہرہ میں معتبردوباتوں کے پائے جانے سے پہلے ہی اسے قتل کردواوروہ بلوغت اوربڑے ہوکرکفرکااظہارہے اسی لئے تو حضرت سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا:
وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِیۡ ؕ ترجمہ ـ  کنزالایمان:اور یہ کچھ میں نے اپنے سے نہ کیا۔(پ۱۶،الکہف:۸۲)
    علامہ ابوالحیان علیہ رحمۃ اللہ المنّان۱؎(745-654ھ) اپنی تفسیر ۲؎ میں فرماتے ہیں: ”جمہور کا قول یہ ہے کہ حضرت سیدناخضر علیہ السلام نبی ہیں اور آپ علیہ السلام کا علم باطنی اُمور کی معرفت تھا جو ان کی طر ف وحی کی جاتی تھی اور حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبیناو علیہ الصلوٰۃو السلام کا علم ظاہرکے مطابق فیصلہ کرناتھا۔”
 (تفسیرالبحرالمحیط،پارہ۱۵،سورۃ الکہف،تحت آلایۃ:۶۵،ج۶،۱۳۹) 
۱ ؎ شاعرالنبی علیہ السلام ، ابو الولید حضرت سیدنا حسان بن ثابت بن المنذر ، الخزر جی ، الانصاری ، الصحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( المتوفی 54ھ) آپ مخضر مین میں سے ہیں کہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت واسلام دونوں کو پایا ، آپ نے ۳۰سال زمانہ جاہلیت او راسی کی مثل زمانہ اسلام میں زندگی گزاری ، آپ مدینہ منورہ کے رہنے والوں میں سے تھے زمانہ جاہلیت میں انصار کے شاعر ، اور زمانہ نبوت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر اوراس کے بعد یمنیوں کے شاعر رہے۔         (الاعلام للزرکلی، ج۲، ص۱۷۶۔۱۷۵)
۲؎ الحافظ، المحدث ، الادیب ،عزالدین ، ابو الحسن علی بن محمد بن عبدالکریم بن عبد الواحد الشیبانی الموصلی ، البزری المعروف بابن الاثیر آپ جمادی الاولی میں جزیرۂ ابن عمر میں پیدا ہوئے وہیں پر ورش پائی پھر موصل میں سکونت اختیار فرمائی آپ نے ۲۵ شعبان کو موصل میں وصال فرمایا ۔ آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں :الکامل فی التا ریخ ، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ ، اللباب فی تھذیب الانساب ، الجامع الکبیر وغیرہ۔ 
(معجم المؤلفین،ج۲،ص۵۲۳،الاعلام للزرکلی،ج۴،ص۳۳۱)
۱؎ التمہید لمافی الموطأ من المعانی والاسانید للحافظ ابی عمر بن عبدالبر (المتوفی۴۶۳ھ)(کشف الظنون،ج۱،ص۴۸۴)
۱ ؎ المفسر، المحدث ، الادیب اثیر الدین ابو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان الغرنا طی ، الجیانی الاندلسی ،آپ علیہ الرحمۃکی پیدائش شوال المکرم کے آخر میں ہوئی آپ کا وصال ماہ صفر المظفرمیں قاہرہ میں ہوا اور مقبر ۂ صوفیہ میں دفن کئے گئے، آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں: البحر المحیط فی تفسیر القرآن ، النہر ، تحفۃ الاریب ، الادراک للسان الاتراک۔     (معجم المؤلفین،ج۳،ص۷۸۴،الاعلام للزرکلی،ج۷،ص۱۵۲)
۲ ؎ البحر المحیط ، فی التفسیر للشیخ اثیر الدین ابی حیان محمد بن یوسف الاندلسی ۔    (کشف الظنون،ج۱،ص۲۲۶)
error: Content is protected !!