Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شبِ قدر و عیدا لفطر

    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ جب شبِ قدر آتی ہے تو حضرت جبریل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت میں آتے ہیں اور ہر اُس بندے پر جو کھڑا ہو کر یا بیٹھ کر ذکرِ الٰہی کرتا ہو اُس پررحمت نازل کرتے ہیں اورجب عیدالفطرکادن آتاہے تواللہ تعالیٰ ان نیک بندوں کے ذریعے اپنے فرشتوں پر فخر کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! بتاؤ اُس مزدور کی کیا جزا ہے جس نے اپنا کام پور اپورا کرلیا ہو؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اُس کی یہی جزا ہے کہ اس کی پوری پوری مزدوری اُس کو دے دی جائے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں اور بندیوں نے میرے فرض کو پورا کرلیا پھر وہ نکل کر بآواز بلند مجھ سے دعا مانگ رہے ہیں تو میری عزت و جلال اور میرے کرم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم ہے کہ میں ضرور ضرور اُن کی دعاؤں کو قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے کہ میرے بندو! اپنے گھر وں کو لوٹ جاؤ، یقین رکھو کہ میں نے تم لوگوں کو بخش دیااورتمہاری برائیوں کوخوبیاں بنادیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سب اِس حال میں گھر کو لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے۔(1)
                        (مشکوٰۃ،ج۱،۱۸۲)

تشریحات و فوائد

    شبِ قدر رمضان شریف کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے۔ لہٰذا اِن راتوں میں جاگ کراورعبادت میں مصروف رہ کرشبِ قدرکوتلاش کرناچاہیے یہ مبارک رات جس کو مل گئی اس کی مغفرت ہوجائے گی اور اُس کو جنت نصیب ہو گی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔شعب الایمان،باب فی الصیام،الحدیث۳۷۱۷،ج۳،ص۳۴۳
error: Content is protected !!