Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بچّہ کے پیدا ہونے پریہ کام کرنے چاہیں:

   بچّہ پیدا ہوتے ہی غسل دیا جائے، نال کاٹا جائے اور جس قدر جلدی ہوسکے اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے خواہ گھر کا کوئی آدمی اذان اور تکبیر کہہ دے یا مسجِد کا مؤذن یا امام کہے اور اگر اذان کہنے پر خیرات و صدقہ کی نیّت سے ان کی کوئی خدمت کردی جائے تو بہت اچھّا ہے کیونکہ یہ حق تعالیٰ کا شکریہ ہے پھر یہ کوشِش کی جائے کہ بچّے کو پہلی گھٹّی(گڑتی ) کوئی نیک آدمی دے کیوں کہ تفسیرِروح البیان میں ہے کہ ”بچّہ میں پہلی گھٹی دینے والے کا اثر آتا ہے اور اس کی سی عادات پیدا ہوتی ہیں ”بلکہ سنّت تو یہ ہے کہ بچّہ کو تھنیک کر دی جائے۔ تھنیک اسے کہتے ہیں کہ کوئی نیک آدمی اپنے منہ میں کھجور یا خرمہ چباکر اپنی زَبان سے بچّے کے پیٹ میں سب سے پہلے جو غذا پہنچے وہ خرمہ ہو اور کسی بزرگ کے منہ کا لعاب۔ 
صحابہ کرام علیہم الرضوان سرکارِ عالی وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اپنے بچّوں کو تھنیک کرایا کرتے تھے۔ دائی کی اُجرت مقرر ہونی چاہے جو اس کام کے بعد دی جائے اگر فرزند کی خوشی میں میلاد شریف یا فاتحہ بزرگانِ دین کردی جائے تو بہت اچھّا ہے اس کے سوا تمام رسومات بند کردی جائیں۔چھوچھک و بھات کو مٹانا سخت ضَروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!