اِستعاذہ اوربسملہ کا بیان

(اعوذباللہ اوربسم اللہ پڑھنے کا بیان)
اسکی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں ۔
(i)    تلاوت کی ابتداء اورسورت کی ابتداء : یہاں استعاذہ اوربسملہ پڑھنا دونوں سنّت مبارکہ ہیں ۔ 
Advertisement
(ii)    تلاوت کے درمیان اگر سورت آجائے : تو بسم اللہ پڑھنا سنت مبارکہ ہے ۔
(iii)    اگر سورت کے درمیان سے تلاوت شروع کی تواستعاذہ سنت مبارکہ ہے اوربسملہ مستحب ہے ۔
الحاصل : شروعِ تلاوت میں اعوذ باللہ پڑھنا سنت مبارکہ ہے اورابتدائے سورت میں بسملہ (بسم اللہ )پڑھنا سنت ورنہ مستحب ہے۔
نوٹ : سورۃ برآءَ ت سے اگرتلاوت شروع کی تو اعوذباللہ اوربسم اللہ پڑھ لیں اوراگرسورت برآء ت تلاوت کے درمیان میں آجائے تو بسم اللہ کی حاجت نہیں ۔ 
            (بہار شریعت حصّہ سوم ص۲۰۶ مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
وصل (ملانا)فصل (جُداکرنا)
1۔    اگر ابتدائے سورت اورابتدائے تلاوت ہوتو اسکی
چارصورتیں ہیں۔     ۱۔وصل کل : (سب کو ملانا) استعاذہ ، بسملہ اورسورۃ کو ملا کر ایک ہی سانس میں پڑھنا۔ جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ۔
۲۔فصلِ کل: استعاذہ، بسملہ اورسورۃ کو علیحدہ علیحدہ پڑھنا یعنی ہرایک پر وقف کرنا جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ o بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾
۳۔وصلِ اوّل فصلِ ثانی: (پہلے کوملانا اوردوسرے کو جدا کرنا)استعاذہ اوربسملہ کو ایک ہی سانس میں پڑھنا اورسورۃ کو دوسرے سانس سے پڑھنا جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾
۴۔فصل اوّل وصلِ ثانی: (پہلے کو جدا کرنا اوردوسرے کو ملانا)استعاذہ کو جدا کرنا اوربسملہ اورسورت کو ایک ہی سانس میں ملا کر پڑھنا ۔جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾
نوٹ : ابتدائے سورت اورابتدائے تلاوت میں مندرجہ بالا چاروں صورتیں جائز ہیں لیکن فصل اوّل وصل ثانی بالثالث بہتر ہے ۔
2۔اگردرمیان تلاوت اورابتدائے سورت ہو تو اسکی بھی چارصورتیں ہیں ان میں سے تین جائز اورایک ناجائز ہے ۔
جائز صورتیں : 
۱۔وصلِ کل: پہلی سورت کے آخر ، بسملہ اوردوسری سورت کی پہلی آیت ان تینوں کو ملا کر ایک سانس میں پڑھنا جیسے وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾
۲۔فصلِ کل : پہلی سورت کے آخر ، بسملہ اوردوسری سورت کی پہلی آیت ان تینوں کو علیحدہ علیحدہ سانس سے پڑھناجیسے وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَoبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾
۳۔فصلِ اوّل وصلِ ثانی : پہلی سورت کے آخر کو جدا کرناا وربسملہ اوردوسری سورت کی پہلی آیت کو ملا کر ایک سانس میں پڑھنا جیسے وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَoبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo یہی بہتر ہے ۔
ناجا ئز صورت : 
۴۔وصلِ اوّل فصلِ ثانی: پہلی سورت کا آخر اوربسملہ کو ملا کر ایک ہی سانس میں پڑھنا اوردوسری سورت کی پہلی آیت کو جُدا کرنا یعنی الگ سانس سے پڑھنا جیسے وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo     یہ صورت ناجائز ہے کیونکہ بسملہ کا تعلق دوسری سورت کے آغاز سے ہے پہلی سورت کے اختتام سے ملا کر پڑھا تو بظاہر معلوم ہوگا کہ بسملہ کا تعلق پچھلی سورت سے ہے حالانکہ بسملہ کا تعلق ابتدائے سورت سے ہوتاہے ۔ ناجائز ہونے کا معنٰی یہ کہ اہلِ فن کے نزدیک ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔
3۔اگردرمیان سورت اورابتدائے تلاوت ہو: 
    اگردرمیان سورت اورابتدائے تلاوت ہو تو استعاذہ یعنی تعوذ پڑھناسنت مبارکہ ہے بسملہ پڑھنا مستحب ہے لازمی نہیں اگربسملہ پڑھا جائے تو اس کی چارصورتیں ہیں جن میں سے دو جائز اوردوناجائز ہیں ۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
جائز صورتیں : 
۱۔ فصل کل : استعاذہ ، بسملہ اورآیت کو جداجدا کر لے تین سانسوں میں پڑھنا جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمoاِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ یہی بہترہے ۔
(۲)وصل اول فصل ثانی : استعاذہ اوربسملہ کو ملا دینا جبکہ آیت کو جُدا کر دینا 
جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمoاِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔
ناجائز صورتیں: 
(۳) وصلِ کل : استعاذہ ،بسملہ اورآیت کو ملادینا۔
جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔
۴۔ فصلِ اوّل و وصلِ ثانی : استعاذہ کو علیٰحدہ کرنا اوربسملہ اورآیت کو ملا کر ایک ہی سانس میں پڑھنا جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الشَّیْطٰنُ یَعِدُ کُمُ الْفَقْرَo
نوٹ: ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملانے سے کہیں معنوی خرابی لازم نہ آئے جیسے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الشَّیْطٰنُ یَعِدُ کُمُ الْفَقْرَo اور اگر معنوی خرابی لازم نہ آئے تو یہ صورتیں بھی جائز ہیں۔
اگربسملہ تلاوت کے دوران پڑھی نہ جائے تواسکی دوصورتیں بنیں گی۔
(i)وصل : استعاذہ اورآیت ملا کر ایک ہی سانس میں پڑھنا 
    جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔
(ii)فصل : یعنی استعاذہ اورآیت کو جدا کر کے پڑھنا 
جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِoاِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ یہی بہتر ہے ۔
نوٹ : فصل بہتر ہے کیونکہ استعاذہ قرآء ت کا حصہ ہے ۔جہاں استعاذہ کو آیت سے ملانے میں معنٰی کے اعتبارسے خرابی لازم نہ آتی ہو وہاں وصل جائز ہے اورفصل بہتر ہے اورجہاں خرابی لازم آتی ہو وہاں فصل ضروری ہے ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب 
ضروری وضاحت : معنٰی کے اعتبار سے خرابی کا مطلب یہ ہے کہ استعاذہ کے ساتھ وصل کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس آیت کے شروع میں اللہ عزوجل کے ذاتی وصفاتی ناموں میں سے کوئی نہ ہو مثلاً
    (1) اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی
(2) اَللہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!