Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۲۶) توبہ و استغفار

    اپنے گناہوں سے توبہ کرنا اوراپنے گناہوں کی مغفرت کی دعا مانگنا ۔ یہ بھی اعمالِ جنت میں سے ایک عمل ہے اور بندے کی توبہ سے اللہ عزوجل کو کتنی خوشی ہوتی ہے اس کو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے۔
حدیث:۱
    عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَلّٰہُ اَشَدُّ فَرْحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ یَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَ رَاحِلَتُہٗ بِاَرْضٍ فَلَاۃٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْھَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہٗ فَاَیِسَ مِنْھَا فَاَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّھَا قَدْ اَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ فَبَیْنَمَا ھُوَکَذٰلِکَ اِذْ ھُوَ بِھَا قَائِمَۃً عِنْدَہٗ فَاَخَذَ بِخِطَا مِھَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرْحِ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ اَخْطَاَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرْحِ۔رواہ مسلم(1)
                      (مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۳)
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے توبہ کرنے سے جب بندہ توبہ کرتا ہے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اس کی خوشی اس آدمی کی خوشی سے بھی زیادہ ہوتی ہے جو کہ ایک بے آب و گیاہ زمین میں تھا۔ ناگہاں اس کی سواری بدک کر بھاگ گئی اور اسی سواری پر اُس کا کھانا پانی بھی تھاجب وہ اس سواری سے ناامید ہوگیا تو ایک درخت کے پاس آکر اس کے سائے میں لیٹ گیااوروہ اپنی سواری سے مایوس ہوچکاتھاگویامرنے کے لیے لیٹ گیا۔ پس اسی درمیان میں کہ وہ اسی مایوسی کے عالم میں تھا کہ اچانک کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہے تو اس نے اس کی مہار پکڑلی پھر اس کو اس قدر خوشی ہوئی کہ وہ بجائے اس کے کہ یہ کہتا کہ یا اللہ!عزوجل تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں یہ کہنے لگا کہ یا اللہ!عزوجل تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں مارے خوشی کے اس سے غلطی ہوگئی توجتنی اس شخص کوخوشی ہوئی اللہ عزوجل اس سے زیادہ خوش ہوجاتا ہے جب بندہ توبہ کرتا ہے۔
    اس سلسلے میں دوسری چند حدیثوں کے تراجم بھی مطالعہ کرلیجئے جو بہت زیادہ رقت خیز و عبرت انگیز ہیں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۲
    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا شخص تھا جس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا تھا پھر وہ یہ فتویٰ پوچھنے کے لیے نکلا کہ اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے یا نہیں؟چنانچہ ایک راہب کے پاس آکراس نے پوچھاکہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟اس نے کہہ دیاکہ نہیں۔ یہ سن کر اس نے اس راہب کو قتل کردیا اور پھر لوگوں سے یہی سوال کرتا رہا کہ میری توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟ تو ایک شخص نے اس کو یہ بتایا کہ فلاں فلاں گاؤں میں جاؤ وہاں نیک لوگ رہتے ہیں وہاں تمہاری توبہ مقبول ہوجائے گی یہ شخص اس گاؤں کے اِرادہ سے چلا مگر راستے ہی میں اس کی موت آگئی ۔تو یہ شخص منہ کے بل آگے کو گرا۔ اور مشقت کرکے کچھ اپنے سینے کو اس گاؤں کی طرف بڑھادیا۔فوراًہی رحمت اورعذاب کے دونوں فرشتے آگئے۔عذاب کے فرشتے اس کودوزخ کی طرف لے جاناچاہتے تھے کہ یہ بہت سے انسانوں کاقاتل ہے اوررحمت کے فرشتے اس کوجنت کی طرف لے جاناچاہتے تھے کیونکہ یہ توبہ کی نیت سے اس گاؤں کی طرف چل پڑا تھا اگرچہ ابھی وہاں تک پہنچا نہ تھا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمادیا کہ وہ گاؤں جہاں یہ جارہا تھا قریب ہوجائے اور وہ گاؤں جہاں سے چلا تھا دور ہوجائے چنانچہ ایسا ہوگیاکہ جب اللہ تعالیٰ نے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت یہ قاتل اس گاؤں کی طرف آگے بڑھ چکا تھالہٰذااللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔(1)یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے۔(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۳)
حدیث:۳
    حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے خدا سے یہ کہا کہ اے میرے رب !تیری عزت کی قسم!جب تک انسانوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں میں ہمیشہ ان انسانوں کوبہکاتااورگمراہ کرتارہوں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مجھ کو میری عزت وجلال اوربلندی رتبہ کی قسم ہے کہ جب تک وہ انسان مجھ سے استغفارکرتے رہیں گے میں ان کو ہمیشہ بخشتارہوں گا۔(2)
                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۴)
حدیث:۴
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے کہ بندہ جب گناہ کر کے خداکے حضور اپنی خطاؤں کااقرارکرکے توبہ کرلیتاہے تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ کوقبول فرمالیتاہے۔(3)
                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۵
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بندہ جب گناہ کر کے یہ کہہ دیتاہے کہ اے میرے رب ! میں نے گناہ کرلیا تو مجھے بخش دے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ کیا میرا بندہ اس بات کو جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اورگناہوں پر مواخذہ بھی فرماتاہے،میں نے اپنے بندے کوبخش دیا۔پھرجب تک اللہ چاہتاہے وہ بندہ گناہوں سے رکا رہتاہے پھر کوئی گناہ کر لیتاہے تو کہتاہے کہ اے میرے پروردگار! میں نے ایک گناہ کرلیاہے تو اس کو بخش دے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ کیا میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اوراس پر مواخذہ بھی فرماتاہے ۔ میں نے اپنے بندے کوبخشدیا۔پھرجب تک اللہ چاہتاہے بندہ گناہوں سے رکارہتاہے۔ پھر کوئی گناہ کرلیتاہے توکہتاہے کہ اے میرے رب ! میں نے ایک دوسرا گناہ کرلیاہے تو اس کو بخش دے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ کیا میرا بندہ یہ جانتاہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو بخشتابھی ہے اوراس پر گرفت بھی کرتاہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ،میرا بندہ جو چاہے کرے ۔ اس حدیث کو بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے ۔(1)
                      (مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۳)
حدیث:۶
    حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص ہمیشہ استغفار کرتا رہے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنادے گا اور ہر فکر و غم سے اس کو خلاصی دے گا اور اس کو ایسی جگہ سے روزی دے گا جہاں سے اس کو روزی ملنے کا گمان بھی نہیں تھا۔(2)
                      (مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۷
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ میرے بارے میں جو بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ میں گناہ بخش دینے کی قدرت رکھتاہوں تو میں اس بندے کو بخش دیتاہوں اورمیں کوئی پرواہ نہیں کرتا ہوں جب تک کہ وہ میرے ساتھ شرک نہ کرے۔(1)(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۴)
حدیث:۸
    حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے گناہ کر کے خدا سے استغفار کر لیا تو وہ گناہ پر اڑ جانے والا نہیں کہلائے گا اگرچہ دن بھر میں وہ اس گناہ کو ستر مرتبہ کرڈالے۔(2) اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۴)
حدیث:۹
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں دو دوست تھے ایک عبادت کرنے میں بڑی محنت کرتاتھااوردوسرایہی کہتارہتاتھاکہ میں گنہگار ہوں۔توعبادت گزار اس سے کہنے لگا کہ تو گناہ چھوڑدے تو وہ بولاکہ تم میرا معاملہ میرے رب پر چھوڑ دو ۔ ایک دن ایساہواکہ عبادت گزارنے اپنے گنہگاردوست کوایک بہت بڑاگناہ کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے کہا کہ تو گناہ کر نا چھوڑدے ۔ اس پر جواب میں گنہگار نے یہ کہہ دیا کہ تم میرا معاملہ میرے رب پر چھوڑدوکیا تم میرے نگراں اورنگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو ؟یہ سن کر عبادت گزاردوست نے کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو کبھی نہیں بخشے گا اورنہ تجھ کو جنت میں داخل کریگا۔اس کے بعداللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے پاس اپنے فرشتے ملک الموت کو بھیج دیا اورانہوں نے دونوں کی روح کو قبض کرلیا ۔ جب دونوں دوست خدا کے دربار میں اکٹھے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے گناہگار سے فرمایا کہ تو میری رحمت سے جنت میں داخل ہوجااورعبادت گزارسے فرمایاکہ کیاتومیرے بندے کومیری رحمت سے محروم کرسکتاہے ؟پھر خدا نے فرمایا کہ اے میرے فرشتو!تم اس کو دوزخ میں لے جاؤ۔(1)
اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۱۰
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قبر میں مردے کی مثال اس غرق ہونے والے کی ہے جولوگوں سے مددکے لئے فریادکر رہاہو،مردہ انتظارکرتارہتاہے کہ باپ، ماں،بھائی یادوست کی طرف سے اس کو دعا پہنچے اورجب کسی کی طرف سے کوئی دعا اس کو پہونچتی ہے تو وہ اس کے نزدیک دنیا اوردنیا کے تمام سامانوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے اوراللہ تعالیٰ زمین والوں کی طرف سے دعاؤں کا ثواب پہاڑوں کے مثل قبر والوں کی قبروں میں پہنچاتاہے اوربلاشبہ زندوں کا تحفہ مردوں کی طرف یہی ہے کہ جو لوگ زندہ ہیں وہ مردوں کے لیے استغفاراوران کی مغفرت کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔(2)
                      (مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۶)
حدیث:۱۱
    حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا مثل اس شخص کے گناہوں سے پاک ہوجاتاہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔(1)(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۷)
حدیث:۱۲
    حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے نامہ اعمال میں زیادہ سے زیادہ استغفار ہو اس کے لیے مبارک بادی ہے۔(2)
                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۶)

تشریحات و فوائد

    اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے بہت ناراض ہوتا ہے لیکن اگر بندہ خداعزوجل کے حضوراپنے گناہوں کااقرارکرکے توبہ واستغفارکرلے تووہ ایسا ارحم الراحمین ہے کہ نہ صرف اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے بلکہ وہ اپنے فضل و کرم کا اس درجہ اظہار فرماتا ہے کہ
فَاُولٰئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰ تِھِمْ حَسَنٰتٍ(3)
کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرتے ہی بندوں کے گناہوں کو نیکی بنادیتا ہے۔
مثلاً کسی بندے نے ایک لاکھ گناہ کرکے توبہ کرلیاتواللہ تعالیٰ ایساکریم ورحیم ہے کہ بندے کے ایک لاکھ گناہوں کوایک لاکھ نیکی بنادیتاہے مگرشرط یہ ہے کہ صدق دل سے سچی توبہ کرے۔ 

توبہ کا طریقہ

    توبہ کابہترین طریقہ یہ ہے کہ گناہ کے بعدوضوکرے اوردو رکعت نماز صلوۃ التوبہ کی نیت سے پڑھے پھر اپنے گناہوں پرشرمندہ ہوکرخداسے یہ عہدکرے کہ میں اب کبھی بھی یہ گناہ نہ کروں گاپھر اس توبہ پر قائم رہے اور اس گناہ کے قریب نہ جائے اور خدا عزوجل سے اپنے گناہ کی بخشش اور معافی مانگے۔
error: Content is protected !!