Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ابوعلی جبائی کا رد:

ابوعلی جبائی کا کلام اس کی کم فہمی، تنگ نظری اور لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ دونوں مقامات پر سَیِّئَۃٌ اور حَسَنَۃٌسے بالترتیب اطاعت ومعصیت مراد نہیں بلکہ نعمت وآزمائش مراد ہیں اور یہ دونوں چیزیں بندوں کے افعال میں سے نہیں اور اَصَابَکَ کا لفظ ہماری اس بات پر دلیل ہے کیونکہ طاعت ومعصیت کے لئے اَصَابَنِیْ (مجھے گناہ یا نیکی پہنچی) نہیں بولا جاتا بلکہ اَصَبْتُہ، (یعنی میں نے گناہ یا نیکی کی) کہا جاتا ہے، جبکہ نعمت وآزمائش کے لئے بولا جاتا ہے کہ مجھے نعمت پہنچی اور سیاقِ عبارت بھی اسی کی صراحت کرتا ہے، کیونکہ اس آیتِ مبارکہ کا سببِ نزول یہ ہے کہ جب شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو منافقین اور یہودیوں نے کہا :”جب سے یہ شخص یعنی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور اس کے ساتھی آئے ہیں، ہمیں اپنے پھلوں اور کھیتیوں میں مسلسل نقصان ہو رہا ہے۔” اس طرح وہ نعمتوں کو تو اللہ عزوجل کی طرف منسوب کرتے تھے جبکہ آزمائش اور پریشانی کو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف منسوب کرتے تو اللہ عزوجل نے انہیں ان کی فاسد باتوں کی خبر دی اور پھر اس کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللہِ۔”
    پہلے افعال کا مصدرِ اصلی بیان فرمایا پھر ان کا سبب بتایا اور دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو مخاطب کیا جبکہ مراد دیگر لوگ تھے اور ارشاد فرمایا کہ مَااَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ یعنی تمہیں جو نعمت یعنی خوشی اور مدد وغیرہ ملی فَمِنَ اللہِ یعنی وہ محض اللہ عزوجل کے فضل سے ملی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل پر کسی کا کوئی حق نہیں وَمَااَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ یعنی تمہیں جو تنگدستی لاحق ہوئی وہ تمہارے نفس کی نافرمانی کی وجہ سے، حقیقتًايہ ہے تو اللہ عزوجل ہی کی طرف سے مگر نفس کے گناہ کے سبب اسے سزا دینے کے لئے ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ
ترجمۂ کنز الایمان:اورتمہیں جومصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جوتمہارے ہاتھوں نے کمایا۔(پ 25، الشورٰی:30)
    حضرت سیدنا مجاہد کی حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس آیتِ مبارکہ کو یوں پڑھا : ” وَمَآاَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ وَاَنَا کَتَبْتُھَا عَلَیْکَ”  یعنی تجھے جو مصیبت پہنچی وہ تیرے نفس کی وجہ سے ہے میں نے تو صرف اسے تیرے لئے لکھ دیا تھا۔ 
    حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ عزوجل و علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام کا حکایت کردہ قول قرآن کریم میں بیا ن فرمایاگیا:
وَ اِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیۡنِ ﴿۪ۙ80﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اورجب میں بیمارہوں تووہی مجھے شفا دیتا ہے۔(پ19، الشعرآء: 80)
    یعنی آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے مرض کی اضافت اپنی طرف کی اور شفا کو اللہ عزوجل کی طرف منسوب کیا اس سے اللہ عزوجل کے مرض کے خالق ہونے میں کوئی خرابی نہیں آتی بلکہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے تو ادب کی بناء پر دونوں میں فرق کیا کیونکہ اللہ عزوجل کی طرف اچھی خصوصیت ہی منسوب کی جاتی ہے گھٹیا نہیں ۱؎ ۔لہٰذا یہ تو کہا جاتا ہے :”اے مخلوق کے خالق!”
جبکہ یہ نہیں کہاجاتاہے :”اے بندروں اور خنزیروں کے خالق!” یہ کہاجاتاہے :”اے زمین وآسماں کے مدبّر!” جبکہ یہ نہیں کہا جا تا : ”اے جوؤں اورگبریلوں کے مدبّر!” اسی طرح حضرت سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے مرض کو اپنی طرف منسوب کیا اور شِفاء کی نسبت اللہ عزوجل کی جانب فرمائی۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    جب آپ ہماری ثابت کردہ اس بات پر غور کریں گے تو آیتِ کریمہ کے الفاظ کو حشوو زوائديعنی کمی بيشی سے پاک اور فصاحت و بلاغت کی اِنتہا پر پائیں گے، جبکہ معتزلہ کا فاسد گمان الفا ظِ قرآنی میں خلل ڈالتا ہے اور اس کے اسلوب کو کسی موجب اور داعی کے بغیر تبدیل کر دیتا ہے، جبکہ قرآن کی جلالت اس تبدیلی کا انکار کرتی ہے کیونکہ ہم نے لفظ اِصَابَۃٌ کے استعمال کے مطابق جو تعبیر ابھی بیان کی ہے وہ ہمارے موقف پر صریح دلالت کرتی ہے، اوربالفرض اگر سیئۃٌاور حسنۃٌ کی مراد کے بارے میں ان کی بات مان بھی لیں تب بھی اس میں ان کے مؤقف پر کوئی دلیل نہیں بلکہ آیتِ مبارکہ تو ان کے خلاف دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ ایمان اللہ عزوجل کے تخلیق کرنے سے حاصل ہوا کیونکہ ایمان ایک نیکی ہے اور نیکی، برائی کی تمام صورتوں سے پاک ایک خوشی کا نام ہے اور ایمان بھی ایسا ہی ہے، لہٰذا اس کا نیکی ہونا ثابت ہوا، اسی لئے اس بات پرسب متفق ہیں کہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان سے کلمہ شہادت مراد ہے:
وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًامِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ
ترجمۂ کنز الایمان:اوراس سے زیادہ کس کی بات اچھی جواللہ کی طرف بلائے۔ (پ24، حٰمۤ السجدۃ:33)
    اور اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں احسا ن کی تعبیر بھی کلمۂ شہادت ہی سے کی ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِاْلعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ حکم فرماتاہے انصاف اور نیکی کا۔(پ14، النحل:90)
    جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ایمان ایک نیکی ہے تو اس آیت کے مطابق ہر نیکی اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اور معتزلہ کا گمان بھی یہی ہے تو پھر یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو گئی کہ ایمان بھی اللہ عزوجل کی طرف سے ہے جیسا کہ یہ آیتِ کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے، حالانکہ معتزلہ اس کے قائل نہیں، لہٰذا اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایمان کے حسن کی معرفت اور اس کی ضد یعنی کفر کی برائی کی وجہ سے اللہ عزوجل کے قول مِنَ اللہ سے مراد اللہ عزوجل کی تقدیر اور ہدایت ہے۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

سوال:ہم کہتے ہیں کہ تمہارے نزدیک ایمان وکفر کی طرف نسبت کرنے میں تمام شرائط مشترک ہیں تو بندہ اپنے اختیار سے اسے وجود میں لاتا ہے اوراس میں اللہ عزوجل کی قدرت اور اعانت کا کوئی دخل نہیں ہوتا، لہٰذا تمہارے نزدیک یہ اللہ عزوجل سے ہر صورت میں منقطع اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ” مَااَصَابَکَ مِنْ حَسَنَہٍ فَمِنَ اللہِ ” کے مخالف ہے۔
جواب:تم نے اس آیتِ مبارکہ سے جو رائے اختیار کی ہے اس کا بطلان ظاہر ہو چکا ہے اور تمہاری یہ رائے تمہیں کوئی نفع نہ دے گی، کیونکہ جب اس آیتِ کریمہ سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ایمان اللہ عزوجل کی طرف سے ہے تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کفر بھی اللہ عزوجل کی مشیّت سے ہے کیونکہ ہر وہ شخص جو اس بات کا قائل ہو کہ ایمان اللہ عزوجل کی جانب سے ہے وہ اس بات کا بھی قائل ہوتا ہے کہ کفر بھی اللہ عزوجل کی طرف سے ہی ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ ان میں سے ایک تو اللہ عزوجل کی جانب سے ہے مگر دوسرا نہیں تو یہ اجماعِ اُمت کے خلاف ہے۔
    اسی طرح اگر بندہ کفر ایجاد کرنے پر قادر ہو تو کفر ایجا د کرنے کی قدرت یا تو ایمان ایجاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو گی یا نہیں، اگر اسے ایجاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو یہ قول مردود ہو جائے گا کہ بندے کا ایمان اس کی اپنی جانب سے ہے، حالانکہ آیتِ مبارکہ سے اس کا بطلان ثابت ہو چکا ہے، اور اگر ایجاد کرنے کی صلاحیت نہ پائے تو اس سے یہ بات ثابت ہو گی کہ وہ ایک چیز پر قادر ہے اور اس کی ضد پر قادر نہیں، حالانکہ یہ بات معتزلہ کے نزدیک محال ہے، لہٰذا یہ بات ثابت ہو گئی کہ جب بندے سے ایمان ثابت نہ ہو تو ضروری ہو گاکہ کفر بھی ثابت نہ ہو۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    جب بندہ ایمان کو ایجاد نہیں کر سکتا تو کفر کو ایجاد کرنا بدرجۂ اَولیٰ اس کے بس میں نہیں ہونا چاہے کیونکہ کسی شے کا مستقل مُوجد وہی ہوتا ہے جو اپنی مراد کے حصول پر قادر ہو، دنیا میں کوئی ایسا عقل مند نہیں جو چاہتا ہوکہ اس کے دل میں موجود خیالات جہالت اور گمراہی پر مشتمل ہوں، لہٰذا جب بندہ اپنے افعا ل کا موجد ہو اس حال میں کہ وہ حقیقی علم حاصل کرنے کاقصد کرے تو اس کے دل میں لازماً حق ہی آئے گا، اور جب اس کا مقصود ومطلوب اور مراد ایمان ہو اور وہ اس کی ایجاد سے واقع نہ ہو تو جس جہالت کا نہ اس نے ارادہ کیااور نہ ہی اسے حاصل کرنے کا قصد کیا اور وہ اس سے شدید نفرت بھی کرتا ہے تو وہ بھی بدرجۂ اَولیٰ واقع نہ ہو گی۔

    علامہ جبائی نے استفہام کے ساتھ یعنی اَفَمِنْ نَفْسِکَ پڑھنے والوں کے بارے میں جو الزام تراشی کی ہے وہ محض اپنے پیروکاروں کی طرح اس کا بھی ایک افترأ ہے، کیونکہ اہلِ سنت اس قراء ت پر اعتماد نہیں کرتے اور نہ ہی اسے معتزلہ کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس معاملہ میں حق یہ ہے کہ اگر صحابہِ کرام یاتابعینِ عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی سے اس طریقے سے پڑھنا صحیح سند سے ثابت ہو جائے تو اسے قبول کرنا واجب ہے، اور اس وقت یہ قراء ت ان معتزلہ کے خلاف حجت ہو گی کیونکہ اگر قراء ت شاذہ کی صحیح سند مل جائے تو وہ صحیح قول کے مطابق حجیت میں صحیح حدیث کی طرح ہوتی ہے اور اگر اس کی سند درجۂ صحت تک نہ پہنچے تو اس کی جانب التفات درست نہیں ۔ اس آیتِ کریمہ کا معتزلہ کے خلاف حجت ہونا اس قراء ت شاذہ کا محتاج نہیں، کیونکہ قراء ت مشہورہ کو بھی استفہامِ انکاری پر محمول کرنا درست ہے جیسا کہ اگر اس کا حجت ہونا ثابت ہو جائے تو مشہور قراء ت میں اس کی نظیر اکثر مفسرينِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کاوہ قول ہے جو انہوں نے اللہ عزوجل کے اپنے خلیل حضرت سیدنا ابراھیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام سے حکایت کردہ قول میں ارشاد فرمایا:
فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ
ترجمۂ کنز الایمان:پھرجب چاند چمکتا دیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو۔(پ7، الانعام:77)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کیونکہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے یہ بات استفہامِ انکاری کے طور پر ہی کہی تھی۔ اسی طرح اس آیتِ مبارکہ میں بھی یہ کہنا درست ہے اگرچہ حجیت اسی پر موقوف نہیں جیسا کہ ہمارے ثابت کردہ بیان سے ظاہر ہے۔ اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ ایمان جو اس بندے کے قصد سے واقع ہوا وہ اللہ عزوجل کے اس قول”فَمِنَ اللہِ”سے ظاہر ہوا کہ وہ اس بندے سے واقع نہیں ہوا بلکہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہوا ہے، لہٰذا وہ کفر جس کا نہ اس بندے نے قصد کیا، نہ ارادہ اور نہ ہی کبھی اس پر راضی ہوا تو عقل میں یہ بات کیسے آ سکتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ کفر اس بندے سے واقع ہوا ہے، بلکہ یہ تو بدرجۂ اَولیٰ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جب وہ چیز جس میں نفس کی رغبت ہو، قصد ہواور ارادہ ومحبت بھی ہوتو وہ نفس سے نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی جانب سے ہوتی ہے۔ تو جس میں نہ نفس کا حصہ ہو، نہ محبت اور نہ ہی قصدوارادہ تووہ چیز تو بدرجۂ اَولیٰ اللہ عزوجل ہی کی جانب سے ہو گی، اوراللہ عزوجل نے آیتِ مبارکہ کے آخرمیں ارشاد فرمایا:

وَکَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًا ﴿166﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اوراللہ کی گواہی کافی۔(پ6، النسآء:166)
    یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس سے مراد تمام اُمورکا اللہ عزوجل کی طرف منسوب ہونا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر صرف رسالت اور تبلیغ ہی کی ذمہ داری تھی جو کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اچھی طرح نبھائی اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں برتی اور اس پر اللہ عزوجل کی گواہی ہی کافی ہے، نیز ہدایت کا حاصل ہونا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے، چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :
(1)لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ
ترجمۂ کنز الایمان:یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں۔(پ4، اٰل عمران:128)
(2)اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنْ اَحْبَبْتَ
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کر دو۔ (پ20، القصص:56 )
(3) کَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًۢا


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الایمان:اللہ گواہ کافی ہے۔(پ13، الرعد:43)
    یعنی اللہ عزوجل کی گواہی کافی ہے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سچائی اور رسالت پر یا اس بات پر کہ نیکی یابرائی اللہ عزوجل ہی کی جانب سے ہے۔ 
    اہلسنّت کے دلائل وہ مثالیں ہیں جو متعدد آیات میں بیان ہوئیں جیسے دل اور سماعت پر مہر لگنا، دل پر زنگ چڑھنا، کان بند ہو جانا، بصارت پر پردہ پڑ جانا وغیرہ ان مثالوں کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، اہلِ سنت اس بات کے قائل ہیں کہ بندوں کے افعال اللہ عزوجل کی مخلوق ہیں اور یہ سب باتیں ان کے مذہب میں بالکل ظاہر ہیں۔پھران کے بھی دوقول ہیں: (۱) یہ تمام مثالیں کافروں کے دل میں کفرپیدا کرنے سے کنایہ ہیں (۲)اللہ عزوجل نے کچھ ایسے دواعی پیدا فرمائے ہیں کہ جب قدرت ان کے ساتھ ملتی ہے تویہ دواعی اورقدرت کامجموعہ وقوعِ کفر کا سبب بن جاتا ہے۔ 
    معتزلہ ان الفاظ میں تاویل کر کے اپنی قاصر اور فاسد عقلوں سے نصوص شرعیہ میں تحریف کرتے ہوئے انہیں ان کے ظاہر سے نکال کر تَحَکُّمًا جیسے چاہتے ہیں پھیر دیتے ہیں، کبھی اسے رد کر دیتے ہیں اور کبھی اس میں تاویل کرتے ہیں۔ تو اللہ عزوجل نے انہیں رسوا کیا اور ہلاکت میں مبتلاکر دیا، یہ کتنے غبی وبے وقوف ہیں! کتنے بہرے اندھے ہیں! گمراہی سے بچنے کے معاملہ میں راہِ ہدایت سے کتنے دور ہیں! اللہ عزوجل کی واضح نشانیوں اور اس کے تمام حوادث کے خالق ہونے سے کتنے غافل ہیں! اور یہ بات ایک عاجز، ضعیف اور اللہ عزوجل کی عظمت ورفعت اور اس کے خاص علوم سے جاہل بندے کے لائق کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ عزوجل کا یہ فرمان بھلا دے:
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿23﴾


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الایمان:اس سے نہیں پوچھاجاتا جووہ کرے اوران سب سے سوال ہوگا۔(پ17، الانبیآء:23)
    پھرکہے :”اللہ عزوجل نے کفار میں جو صفات پیدا فرمائیں ان کی بناء پر وہ ا ن کی مذمت کیسے کر سکتا ہے؟ اس صورت میں ان کا کون سا گناہ ایسا ہے جس پر وہ انہیں عذاب دے گا؟” وغیرہ ایسے خرافات جو ان کے بندگی کے دائرے سے فرار ہونے اور اللہ عزوجل کے لئے عاجزی اور اس کی تقسیم پر رضامندی سے خارج ہونے کی خبر دیتے ہیں ان کی بربادی کے لئے یہی واہیات اُمور ہی کافی ہیں جن میں پڑ کر وہ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے لگے، سرکشی اختیار کی اور پھر اس پر ڈٹ بھی گئے، اگروہ اپنے نظریات پر غور کرتے تو خود کو کفار کے اس قول سے مربوط پاتے جسے قرآن پاک میں یوں بیان کیاگیاہے:
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمْ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنُطْعِمُ مَنۡ لَّوْ یَشَآءُ اللہُ اَطْعَمَہٗۤ ٭ۖ
ترجمۂ کنز الایمان:اورجب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دیئے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کروتوکافرمسلمانوں کے لئے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا توکھلادیتا۔(پ23،یٰس:47)
     تواللہ عزوجل نے ان کے جواب میں ارشاد فرمایا:
اِنْ اَنۡتُمْ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿47﴾
ترجمۂ کنز الایمان:تم تونہیں مگرکھلی گمراہی میں۔(پ 23، یٰس:47)
    اللہ عزوجل ہمیں گمراہ کن نظریات اور فتنوں کے غول سے اپنی پناہ میں رکھے اور ہمارے ظاہری وبا طنی احوال کی اصلاح فرمائے، بے شک وہ بڑا جواد وکریم اور رء ُوف ورحیم ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۱؎ :صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”بہار شریعت” میں فرماتے ہیں:” بُرا کا م کر کے تقدیر کی طرف نسبت کر نااور مشیّت الٰہی کے حوالہ کرنا بہت بُری بات ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ ”جو اچھا کام کرے اسے منجانب اللہ کہے اور جو بُرائی سرزد ہو اس کو شامت نفس تصور کرے ۔”     (بہار شریعت،حصہ ۱،ص۶)
error: Content is protected !!