تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا

حضرت سیدناشفیق بن ابراہیم بلخی علیہما رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:”ایک مرتبہ میں حج کے اِرادے سے سفر پر روانہ ہوا۔ مقام قادسیہ میں ہمارا قافلہ ٹھہرا ۔وہاں او ربھی بہت سے عا زمِینِ حرمینِ شریفین موجود تھے،بہت سہانا منظر تھا ،بہت سے حجاج کرام وہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا تھا کہ یہ خوش قسمت لوگ سفر وہجرکی صعو بتیں بر داشت کر کے اپنے رب عزوجل کی رضاکی خاطر حج کرنے جارہے ہیں ۔میں نے اللہ عزوجل کی بار گا ہ میں عرض کی :” اے میرے پروردگار عزوجل! یہ تیرے بندو ں کا لشکر ہے، انہیں ناکام نہ لوٹابلکہ حج قبول فرماتے ہوئے کامیابی کی دولت سے ہمکنار فرما۔”
دعا کے بعد میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جس کے گندمی رنگ میں ایسی نورانیت تھی کہ نظریں اس کے چہرے سے ہٹتی ہی نہ تھیں۔اس نے اُون کا لباس زیبِ تن کیاہوا تھا اورسر پر عمامہ سجایا ہوا تھا۔ وہ لوگوں سے الگ تھلگ ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ میرے دل میں شیطانی وسوسہ آیا کہ یہ اپنے آپ کو صوفی ظاہر کرنا چاہتاہے تا کہ لوگ اس کی تعظیم کریں اوراسے اپنے قافلے کے ساتھ حج کے لئے لے جائیں۔ یہ خیال آتے ہی میں نے دل میں کہا : ”اللہ عزوجل کی قسم!میں ضرور اس کی نگرانی کرو ں گا اور اسے ملامت کروں گا کہ اس طر ح کا بناوٹی اندازدرست نہیں۔” چنانچہ میں اس نوجوان کے قریب گیاجیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا،

اس نے میری طرف دیکھا اورمیرا نام لے کرکہا : ”اے شفیق (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!اوریہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرنے لگا:

اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ

ترجمہ کنز الایمان:بہت گمانوں سے بچو بےشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔(پ26،الحجرات: 12 )
اتنا کہنے کے بعد وہ پُر اسرار نوجوان مجھے وہیں چھوڑ کر رخصت ہوگیا ،میں نے اپنے دل میں کہا: ”یہ تو بہت حیران کن بات ہے کہ اس نوجوان نے میرے دل کی بات جان لی ا ور مجھے میرا نام لے کر پکارا حالانکہ میری کبھی بھی اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ ضرور اللہ عزوجل کا مقبول بندہ ہے میں نے خواہ مخواہ اس کے بارے میں بدگمانی کی ،میں ضرور اس نوجوان سے ملاقات کروں گا اور معذرت کروں گا ۔” چنانچہ میں اس نوجوان کے پیچھے ہولیا لیکن کافی تگ ودو کے بعد بھی میں اسے نہ ڈھونڈ سکا ۔
پھر ہمارے قافلے نے مقام ” واقصہ” میں قیام کیاوہاں میں نے اس نوجوان کوحالتِ نماز میں پایا۔اس کا سارا وجود کانپ رہا تھا اور آنکھوں سے سیلِ اشک رواں تھے۔ میں نے اسے پہچا ن لیا اور اس کے قریب گیا تا کہ اس سے معذرت کروں، وہ نوجوان نماز میں مشغول تھا ۔میں اس کے قریب ہی بیٹھ گیا نماز سے فراغت کے بعد وہ میری جانب متوجہ ہوا او رکہنے لگا:” اے شفیق! یہ آیت پڑھو:

وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی ﴿82﴾

ترجمہ کنزالایمان:اور بے شک میں بہت بخشنے والاہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایااور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔ (پ16 ،طہ: 82)
اِتنا کہنے کے بعد وہ نوجوان پھر وہاں سے رخصت ہوگیا۔ میں نے کہا :” یہ نوجوان ضرور اَبدالوں میں سے ہے۔” دومرتبہ اس نے میرے دل کی باتوں کو جان لیا اور مجھے میرے نام کے ساتھ مخاطب کیا ۔میں اس نوجوان سے بہت زیادہ متاثر ہو چکا تھا۔
پھر جب ہمارے قافلے نے مقام ”ربال” میں پڑاؤ کیا تووہی نوجوان مجھے ایک کنوئیں کے پاس نظر آیا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک تھیلا تھا اور وہ کنوئیں سے پانی نکالنا چاہتا تھا۔اچانک اس کے ہاتھ سے وہ تھیلا چھوٹ کر کنوئیں میں گرگیا ، اس نوجوان نے آسمان کی جانب نظر اٹھائی اور عرض کی:” اے میرے پروردگارعزوجل! ”جب مجھے پیاس ستا تی ہے تو تُو ہی میری پیاس بجھاتا ہے ، جب مجھے بھوک لگتی ہے تو تُو ہی مجھے کھانا عطا فرماتا ہے، میری اُمید گاہ بس تُو ہی تُو ہے، اے میرے پروردگار عزوجل ! میرے پاس اس تھیلے کے سوا اور کوئی شے نہیں ، مجھے میرا تھیلا واپس لوٹا دے ۔”
حضرت سیدنا شفیق بلخی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں :” اللہ عزوجل کی قسم! ابھی اس نوجوان کے یہ کلمات ختم ہی ہوئے تھے کہ کنوئیں کا پانی اُوپر آنا شرو ع ہوگیا۔ اس نوجوان نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، آسانی سے تھیلا نکا لااوراسے پانی سے بھرلیا کنوئیں کا پانی واپس نیچے چلا گیا ۔نوجوان نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگا۔ نماز سے فراغت کے بعد وہ ایک ریت کے ٹیلے کی طر ف گیا۔ میں بھی

چپکے سے اس کے پیچھے ہولیا ۔ وہاں جاکر اس نے ریت اٹھائی اور اس تھیلے میں ڈالنے لگا پھر تھیلے کو ہلایا او راس میں موجود ریت ملے ہوئے پانی کو پینے لگا ۔ میں اس کے قریب گیا اورسلام عرض کیا ۔اس نے جواب دیا ۔
پھرمیں نے کہا :”اے نیک سیرت نوجوان ! جو رزق اللہ عزوجل نے تجھے عطا کیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی عطا کر ۔” یہ سن کر اس نوجوان نے کہا:”اللہ عزوجل اپنے بندو ں پر ہر وقت فضل وکر م فرماتا رہتا ہے، کوئی آن ایسی نہیں گزرتی جس میں وہ پاک پر وردگار عزوجل اپنے بندوں پر نعمتیں نازل نہ فرماتا ہو، اے شفیق !اپنے رب عزوجل سے ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہے ۔” اِتنا کہنے کے بعد اس نوجوان نے وہ چمڑے کا تھیلا میری طر ف بڑھایا جیسے ہی میں نے اس میں سے پیا تو وہ شکر اور خالص ستو ملا ہوا بہترین پانی تھا۔ ایسا خوش ذائقہ پانی میں نے آج تک نہ پیا تھا، میں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا ۔
میں حیران تھا کہ ابھی میرے سامنے اس تھیلے میں ریت ڈالی گئی ہے لیکن اس نوجوان کی برکت سے وہ ریت ستو او رشکر میں بدل گئی ہے ،وہ پانی پینے کے بعد کئی دن تک مجھے پانی اور کھانے کی طلب نہ ہوئی۔
پھر ہمارا قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا وہاں میں نے اسی نوجوان کو ایک کونے میں آدھی رات کو نماز کی حالت میں دیکھا ۔وہ بڑے خشو ع و خضوع سے نماز پڑھ رہا تھا، آنکھوں سے سیلِ اَشک رواں تھا۔ اس نے اسی طر ح نماز کی حالت میں ساری رات گزاردی پھر جب فجر کا وقت ہوا تو وہ اپنے مصلّے پر ہی بیٹھ گیا اور اللہ عزوجل کی حمد وثنا کرنے لگا ، فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اس نے طواف کیااور ایک جانب چل دیا میں بھی اس کے پیچھے ہولیا ۔ اس مرتبہ میری نظروں کے سامنے ایک حیران کُن منظر تھا، اس نوجوان کے اِرد گر د کئی خُدام ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور لوگ جوق در جوق اس کی دست بوسی اور سلام کے لئے حاضرہو رہے تھے ۔میں یہ حالت دیکھ کر حیران وپریشان کھڑا تھا۔
پھر میں نے ایک شخص سے پوچھا :” یہ عظیم نوجوان کون ہے؟” اس نے جواب دیا: ”یہ حضرت سیدنا موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی رضوان اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔”میں نے کہا:” اتنی کرامات کا ظاہر ہونا اس سید زادے کی شان کے لائق ہے ،یہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں اللہ عزوجل اتنی کرامات سے نواز تا ہے ۔” (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)
؎ تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا تُو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!