اجمالی بیان ،دوزخ

اجمالی بیان ،دوزخ

حصہ اول
ایک مکان ہے اس قہار وجبار کے جلال وقہر کا مظہر ہے جس طرح اس کی رحمت ونعمت کی انتہا نہیں کہ انسانی خیالات و تصورات جہاں تک پہنچے وہ ایک تھوڑا ساحصہ ہے اس کی بے شمار نعمتوں سے اسی طرح اس کے غضب وقہر کی کوئی حد نہیں کہ ہر وہ ہر تکلیف وہ اذیت اور ایک کی جائے ایک ادنیٰ حصہ ہے
،اس کے بے انتہا عذاب کا قرآن مجید اور احادیث میں جو سختیاں مذکور ہیں ان میں سے کچھ اجمالاً بیان کرتا ہوں کہ مسلمان دیکھیں اور اس سے پناہ مانگیں اور ان اعمال سے بچیں جن کی جزا جہنم ہے۔
حدیث میں ہے جو بندہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے ،
جہنم کہتا ہے : اے رب !یہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو اس کو پناہ دے ،
قرآن مجید میں بکثرت ارشاد ہواکہ جہنم سے بچو ! دوزخ سے ڈرو،ہمارے آقا ومولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو سکھانے کے لئے کثرت کے ساتھ اس سے پناہ مانگتے ،جہنم کے شرارے یعنی
چنگاریں اورنچے اونچے محلوں کے برابر اڑیں گے ،گویا کہ زرد اونٹوں کے قطارے پے درپے آتے رہیں گے آدمی اور پتھر اس کے ایندھن ہیں،یہ جو دنیا کی آگ ہے اس آگ سے ستر (70) جز میں سے ایک جز ہے ،جس کو سب سے کم درجہ کا عذاب ہوگا اس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائینگی ، جس سے اس کا دماغ کھولے گا ،جیسے تانبے کی پتیلی کھولتی ہے وہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ عذاب مجھ پر ہو رہا ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا ہے ،
سب سے ہلکے درجہ کا جس پر عذاب ہوگا ،اس سے اللہ عزوجل پوچھے گا: کہ اگر ساری زمین تیری ہوجائے تو کیا اس عذاب سے بچنے کے لئے تو فدیہ میں دے گا؟عرض کرے گا: ہاں ، فرمائے گا جب تو پشت آدم میں تھا تو ہم نے اس سے بہت آسان چیز کا حکم دیا تھا کہ کفر نہ کر ،مگر تونے نہ مانا،جہنم کی آگ ہزار برس تک دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی ،
پھر ہزار برس یہاں تک کہ سفید ہوگئی، پھر ہزار برس یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی، تو اب وہ نری سیاہ ہے جس میں روشنی کا نام نہیں۔
جبرئیل علیہ السلام نے قسم کھا کر عرض کی کہ اگر جہنم سوئی کے ناکے کے برابر کھول دی جائے تو تمام زمین والے اس کی گرمی سے مرجائیں گے اور قسم کھاکر کہا کہ اگر جہنم کا کوئی داروغہ اہل دنیا پر ظاہر ہوتو زمین کے رہنے والے کل کے کل اس کی ہیبت سے مرجائیں گے اور قسم کھاکرفرمایا:اگر جہنمیوں کی زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دی جائے تو کانپنے لگیں گے اور انہیں قرار نہ ہوگا ،یہاں تک کہ نیچے کی زمین میں دھنس جائیں گے یہ دنیا کی آگ جس کی گرمی اور تیزی سے کون واقف نہیں ؟کہ بعض موسم میں اس کے قریب جانا تو شاق گذرتا ہے ،پھر بھی یہ آگ خدا سے دعا کرتی ہے کہ اسے جہنم میں پھر نہ لے جا ؛مگر تعجب ہے انسان سے کہ جہنم میں جانے کا کام کرتا ہے اور اس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی ڈرتی ہے اور پناہ مانگتی ہے ،دوزخ کی گہرائی کو خدا ہی جانے کہ کتنی گہری ہے ،حدیث میں آیا ہے کہ اگر پتھروں کی چٹان جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکی جائے تو ستر (70) برس میں بھی اس کی تہ تک نہ پہنچیں گی اور اگر انسان کے سر برابر سیسے کا گولہ آسمان سے زمین کو پھینکا جائے تو رات آنے سے پہلے زمین تک پہنچے گا ؛حالانکہ یہ پانچ سو (500 ) برس کی راہ ہے ،پھر اس جہنم میں مختلف طبقات ،وادی اور کوئیں ہیں،بعض وادی ایسے ہیں کہ جہنم بھی ہر روز ستر مرتبہ یا زیادہ ان سے پناہ مانگتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *