احکام اللہ و سول ﷺ

احکام اللہ و سول ﷺ
تم کہدو مجھے تو اس بات کا حکم ہوا ہے کہ خالص اللہ ہی کی عباد ت کروں اور اس بات کا بھی میں تابعداروں میں اول رہوں ۔ ، قرآن:پ23۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ انسان کا پرکلام اس کے لئے وبال ہے ( اور) اس کے نفع کی چیز نہیں ہے مگر (نفع کی یہ چیزیں ہیں ) کسی بھلائی کا حکم کرنا ، یابرائی سے روکنا یا اللہ کو یاد کرنا۔ ( ترمذی )
رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ذکر اللہ کے سوا  زیادہ نہ بولا کرو ، کیونکہ ذکر اللہ کے سوا زیادہ کلام کرنے سے دل میں قساوت ( سختی ) پیدا ہوجاتی ہے اور بے شک سب لوگوں میں خدا سے زیادہ دور سخت دل ہی والا ہے ۔ ( مشکوۃ )
رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت کی کنجیاں لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے۔( ترغیب )
تم کہدو کہ عالم اور غیر عالم برابر نہیں ہوسکتے اور نصیحت بھی وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے اور دانا ہیں ۔قرآن پ23)
( ابو سعید و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما) فرمایا حضور انور صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے مرنے والوں کو کلمہ تلقین کرو، ( ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا ) ، فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے اگر تم مریض یا قریب مرگ کے پاس جاؤ تو دعا کرو کیونکہ فرشتے تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں ۔ ( مسلم )
( معاذ بن ابن جبل ) آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کسی کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ( محمد رسول اللہ ) ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ( ابوداؤد )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *