ایک دن میں سال کا سفر کا طے کرلیا:

ایک دن میں سال کا سفر کا طے کرلیا:

حضرتِ سیِّدُنا جُنیدبغدادی علیہ رحمۃاللہ الہادی فرماتے ہیں: ”میں اپنے دوستوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا اور ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ

کے نیک بندوں کا تذکرہ کررہے تھے توحضرتِ سیِّدُنا سَرِّی سَقَطِی علیہ رحمۃاللہ القوی نے بتایا کہ”ایک دفعہ میں بیت المقدس میں ایک چٹان کے پاس بیٹھا ہوا تھااور اس سا ل حج کی سعادت نہ ملنے پر افسوس کر رہا تھاکیونکہ حج میں صرف دس دن باقی رہ گئے تھے، جب میں نے اپنے دل میں سوچا کہ لوگوں کا رُخ بیت اللہ شریف کی طرف ہے اور دن بھی بہت تھوڑے ہیں جبکہ میں یہاں ٹھہرا ہوا ہوں۔ پس میں پیچھے رہ جانے پر رونے لگا۔ اچانک میں نے ایک غیبی آواز سنی، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا: ” اے سَرِّی سَقَطِی! مت رو! بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایسے لوگوں کو تمہارے لئے مقرَّر کر دیا ہے جو تمہیں مقا مِ حج تک پہنچا دیں گے۔” میں نے سوچا: ”یہ کیسے ہو گا حالانکہ میں بیت المقدَّس میں ہوں اوردن بھی تھوڑے رہ گئے ہیں۔” تو اس غیبی آواز نے کہا: ” غمگین نہ ہو، اللہ عزَّوَجَلَّ تم پرمشکل کا م کو آسان فرما دے گا۔” میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ شکر اداکیا اور اس غیبی آواز کی سچائی جاننے کے لئے انتظار میں بیٹھ گیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ مسجدکے دروازے سے چارنوجوان دا خل ہوئے (ان کے چہرے اتنے نورانی تھے)گویا سورج ان کے چہروں سے طلوع ہو رہا تھااور نور ان کی پیشانیوں سے چمک رہا تھا۔ ان میں ایک بارُعب اورباجلال نوجوان آگے بڑھا اورباقی اس کے پیچھے ہو گئے، ان سب نے بالوں کا لباس اور پاؤں میں کھجورکے پتوں کے جوتے پہنے ہوئے تھے، وہ چٹان کے قریب ہوئے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعاکی تو ان کے انوار سے مسجد بھر گئی۔ میں بھی ان کے ساتھ جاکر کھڑا ہوگیا اورعرض کی: ”اے رب عَزَّوَجَلَّ ! شا ید یہ وہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے تو مجھ پر رحم فرمائے گا اور جن کی صحبت مجھے عنایت کریگا۔”
وہ گنبد میں داخل ہوئے نوجوان ان کے آگے آگے تھا اور وہ اس کے پیچھے تھے،ہرایک نے دو دورکعتیں ادا کیں، پھروہ نوجوان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے مناجات کر نے لگا، میں اس کی مناجات سننے کی خاطراس کے قریب ہو گیا پھر اس نے گریہ و زاری کی اور تکبیر کہی اورایسی نما ز پڑھی جس نے میر ا دل اوردماغ سلب کرلیا، جب وہ فارغ ہوا تو بیٹھ گیا ،باقی تین اس کے سامنے بیٹھ گئے تو میں نے ان کے قریب جا کرسلام پیش کیا، نوجوان نے کہا: ”وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ،،اے سَرِّی سَقَطِی! اے وہ شخص جسے آج غیبی آوازکے ذریعے خوشخبری دی گئی کہ اس کا حج اس سا ل فوت نہیں ہو گا۔” اس کی یہ بات سن کر میں بے ہوش ہونے کے قریب پہنچ گیا، میرا دل خوشی سے بھرگیا، میں نے عرض کی: ”اے میرے آقا! جی ہاں!آپ کی آمد سے کچھ دیرپہلے مجھے غیب سے بتایاگیاہے۔” تو اس نے کہا: ”اے سَرِّی سَقَطِی! آپ کو ہاتف ِ غیبی کے آواز دینے سے ایک لمحہ پہلے ہم خراسان شہرسے بغداد کی طرف جا رہے تھے، وہاں ہم نے اپنی ضروریات پوری کیں اور بیت اللہ شریف جا نے کا ارادہ ہوا پھرخواہش ہوئی کہ شام میں انبیاء کرام علیہم السلا م کے مزارات کی زیارت کر لیں۔ پھرمکہ مکرمہ حاضری دیں گے، ہم مزارات کی زیارت کرنے کے بعد اب یہاں بیت المقدس کی زیارت کے لئے آئے ہیں۔” میں نے عرض کی: ”اے میرے سردار! آپ

خراسان میں کیا کر رہے تھے؟” اس نوجوان نے بتایا: ”ہم اپنے دینی بھائیوں حضرتِ سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم اور حضرتِ سیدنا معروف کَرْخی علیہ رحمۃاللہ الجلی کے سا تھ اکٹھے بیت الحرا م کے ارادے سے بغداد آئے، میں بیت المقدس کی زیارت کرنے آگیا اوروہ دونوں دیہات کے را ستے سے چلے گئے۔” میں نے کہا: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، خراسان سے بیت المقدس تک ایک سال کی مسافت ہے۔” اس نے کہا:”اگرچہ ایک ہزار سال کی مسا فت ہو،بندہ اس کاہو، زمین بھی اس کی ہو، آسمان بھی اس کا ہو، زیارت بھی اس کے گھر کی ہو اورارادہ بھی اسی کی بارگاہ میں حاضری کاہوتوپھر پہنچانا اور قوت وقدرت مہیا کرنا بھی اسی کے ذمۂ کَرَم پرہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ سورج کیسے مشرق سے مغرب تک کاسفر ایک دن میں طے کر لیتاہے؟ کیا وہ اپنی قوت سے اتنی مسافت طے کرتا ہے یا قادر عَزَّوَجَلَّ کی قوت وارادے سے؟ جب ایک بے جان جامد سورج جس پر نہ حساب ہے، نہ عذاب، ایک دن میں مشرق سے مغرب تک پہنچ جاتا ہے تویہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ اس کاایک بندہ ایک دن میں خراسان سے بیت المقدس پہنچ جائے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی قدرت وقوت کا مالک ہے، اور خلا ف ِ عادت کا م اسی سے صادر ہوتا ہے جو اس کا محبوب اور مختارہو، اے سَرِّی سَقَطِی! دنیا وآخرت کی عزت اختیار کر اوردنیا و آخرت کی ذلت تک پہنچنے سے بچ۔”
میں نے عرض کی :”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرما ئے!دنیا وآخرت کی عزت کی طرف میری رہنما ئی فرما دیجئے؟” تواس نے کہا: ”جو بغیرمال کے امیری، بغیر سیکھے علم، بغیر خا ندان کے عزت چاہتا ہو تو اسے چاہے کہ اپنے دل سے دنیا کی محبت نکال دے، اس کی طرف ما ئل نہ ہو، اور نہ اس سے مطمئن ہو، اس لئے کہ دنیا کی صفا ئی میں میل کی ملاوٹ، اور اس کے میٹھے پن میں کڑوا ہٹ ہے۔” میں نے پھرعرض کی: ”اے میرے سردار! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو اپنے انوارکے ساتھ خاص کیا اور اپنے اسرار سے آگا ہ فرمایا! اب کہا ں کا ارا دہ ہے؟” اس نے بتایا: ”اب حجِ بیتُ اللہ اور سیدالانام صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مزارِپُر اَنوار کی زیارت مقصود ہے۔”میں نے عرض کی: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں آپ سے جدانہیں ہوں گاکیونکہ آپ سے جدا ہونا، روح کے جسم سے جدا ہونے سے بھی زیا دہ سخت ہے۔” اس نے بِسْمِ اللہ شریف پڑھی اور میں بھی ان کے ہمراہ بیت المقدَّس سے بستی کی طرف چل پڑا، ہم چلتے رہے یہا ں تک کہ اس نے کہا: ” اے سَرِّی سَقَطِی! ظہرکا وقت ہو گیا ہے توکیا نماز نہ پڑھ لیں؟” میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔”میں نے مِٹی سے تیمم کا ارادہ کیاتو اس نے کہا: ”یہا ں پانی کا ایک چشمہ ہے۔” پھر وہ راستے سے کچھ ہٹا اور ایسے چشمے پر لے گیا جس کا پانی شہد سے بھی زیا دہ میٹھا تھا۔ میں نے وضو کیا اورپانی پی کر کہا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اس را ستے سے کئی مرتبہ گزرا لیکن پانی کا چشمہ یہاں کبھی نہیں پایا۔”
اس نے کہا: ”سب تعریفیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندوں پرکرم فرمایا۔ہم نے نمازِظہر ادا کی، پھر عصر تک چلتے رہے۔ پھر اچانک حجا زکے پہاڑ اور دیواریں ہمارے سامنے ظاہرہو گئے، میں نے کہا: ”یہ توحجازِ مقدس کی زمین ہے۔”

اس نے مجھ سے کہا: ”آپ مکہ مکرمہ میں پہنچ چکے ہیں۔” میں گریہ وزاری کرنے لگا، پھراس نے مجھ سے پوچھا: ”اے سَرِّی سَقَطِی! کیا تم ہما رے ساتھ داخل ہو گے؟” میں نے کہا۔”جی ہاں۔” جب ہم بابُ النَدْوَہْ سے دا خل ہوئے تومیں نے دو شخص دیکھے، ان میں سے ایک بوڑھا اور دوسرا جوان تھا۔ جب انہوں نے اس کو دیکھا تو مسکرائے اورکھڑے ہوکر معانقہ کیا، اورکہا: ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلَی السَّلَامَۃِ۔” میں نے اپنے رفیق نوجوان سے پوچھا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پررحم فرمائے! یہ کون ہیں؟” اس نے جواب دیا: ”عمررسیدہ بزرگ حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم اور جوان حضرتِ سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الجلی ہیں۔”پھرہم نے مغرب وعشاء کی نمازپڑھی، ہم سب اپنی طاقت کے مطابق نما زکے لئے کھڑے ہوئے، میں ان کے سا تھ نما زپڑھتارہا یہاں تک کہ حالتِ سجدہ میں مجھے نیندآگئی۔ جب میں بیدارہوا تووہاں کوئی نہ تھا،میں غمزدہ شخص کی طرح تنہارہ گیا،ان کو مسجد ِ حرام، مکہ مکرمہ اور مِنٰی شریف میں بہت تلاش کیا لیکن کہیں نہ ملے۔ میں ان سے بِچھڑنے کی وجہ سے روتا ہوا واپس آگیا۔”
پیارے اسلامی بھائیو! ان لو گوں کی صفات سنو جنہوں نے عشق کوچھپایااورہمیشہ عشق کرتے بھی رہے، سلام عام کیا، کھانا خیرات کیا، ہمیشہ روزے رکھے، راتوں میں نما ز پڑھتے رہے جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوتے، گناہوں سے اجتناب کرتے رہے، مخلوق سے کنارا کَش رہے اورمولیٰ عَزَّوَجَلَّ سے مناجات کے لئے خلوت اختیار کی اورخلوت وتنہائی میں بھی اطاعت کرتے رہے۔لہٰذا اللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کی خطائیں معاف فرما دیں، ان کے درجا ت بلندکئے۔جب وہ ندامت کے سمندرپر سوار ہوئے، اور ملامت کی ہواسے بچتے ہوئے سلامتی کی سرزمین میں پہنچے تواللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کے دلوں کوپاک کردیااوران کے عیبوں پرپردہ ڈال دیا، ان کے گناہ بخش دئيے اورانہیں ان کے مطلوب تک پہنچادیاتو انہوں نے اس کو پہچان لیا اور اس کو عبادت کے لائق سمجھا تو اس کی عبادت کرنے لگے، اورانہوں نے اس سے معاملہ کرنے میں نفع پایا تو اس سے معاملہ کیا،اورصدق ووفا پراس کی بیعت کی ، انہوں نے قتل کرنے والے اورقیدی کے درمیان تقدیرکے فیصلے سے حیران ہوکر رُخساروں پر آنسو بہائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ندا دی: ”اے اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمانے اور برائیوں کو مٹانے والے! اے وہ ذات سمتیں جس کااحاطہ نہیں کرسکتیں اور جس پر آوازیں مختلف نہیں ہوتیں! ہمیں افات کی تاریکی سے نکال کرصفات کے ادراک کا نور عطا فرما۔(آمین)
اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”الشَّابُّ التَّائِبُ حَبِیْبُ اللہِ یعنی جوانی میں توبہ کرنے والا اللہ عزَّوَجَلَّ کا حبیب ہے۔”

(حلیۃ الاولیاء،عبد المالک بن عمر بن عبد العزیز، الحدیث۷۴۹۶،ج۵، ص۳۹۴،مفھوما)

اللہ عزَّوَجَلَّ کی بندے سے یہ محبت اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ جوانی میں توبہ کرنے والا ہو کیونکہ نوجوان تراورسرسبزٹہنی کی طرح ہوتاہے۔ جب وہ اپنی جوانی اور ہر طرف سے شہوات ولذات سے لطف اُٹھانے اوران کی رغبت پیدا ہونے کی عمرمیں توبہ

کرتاہے، اوریہ ایسا وقت ہوتاہے کہ دُنیا اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اس کے باوجود محض رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے وہ ان تمام چیزوں کوترک کردیتا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ کی محبت کامستحق بن جاتاہے اوراس کے مقبول بندوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے۔
منقول ہے کہ ”ایک نوجوان جب توبہ کرکے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرتاہے تواس کے لئے زمین وآسمان کے درمیان سترقندیلیں روشن کی جاتی ہیں اورملا ئکہ صف بستہ ہوکربلندآوازسے تسبیح تقدیس کرتے ہوئے اسے مبارک باد دیتے ہیں۔ جب ابلیسِ لعین اس کو سنتا ہے تو کہتا ہے: ”کیاخبرہے؟” آسمان سے ایک منادی ندا دیتا ہے: ”ایک بندے نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے صلح کرلی ہے۔” تو ابلیس ملعون اس طرح پگھلتا ہے جس طرح نمک پانی میں پگھلتاہے۔”
منقول ہے کہ جب بندے کا گناہوں سے بھراہوا نامۂ اعمال اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش ہوتا ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرماتا ہے :”میرے بندے کے نامۂ اعمال میں کیاہے؟”حالانکہ وہ سب سے زیادہ جانتاہے۔ توفرشتے عرض کرتے ہیں: ”اے ہمارے معبودعَزَّوَجَلَّ ! اس کانامۂ اعمال تیری بارگاہ میں پیش کرنے کے قابل نہیں۔”تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: ”اگر اس کانامۂ اعمال میری بارگاہ میں پیش کئے جانے کے لا ئق نہیں(تو کیا ہوا) میری رحمت تواس کے لائق ہے،اے فرشتو! گواہ ہوجاؤ!بے شک میں نے اس کوبخش دیااور معاف فرما دیا اورمیں توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہوں۔”

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَاوَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *