ایک عاشقِ الٰہی

ایک عاشقِ الٰہی

    حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں :”میں نے ایک کمزور، زرد رنگ اور دُبلی ٹانگوں والانوجوان دیکھا جو زادِ راہ اور پانی کے بغیر سفر کر رہا تھا، نہ ہی اس نے جوتے پہن رکھے تھے ۔ میں نے اسے سلام کیا اور پوچھا:”کیا بات ہے میں تمہیں اس حال میں دیکھ رہا ہوں؟” تو وہ رونے لگ گیا۔پھر اُس نے چند اشعار پڑھے، جن کا مفہوم کچھ اس طرح ہے:
    ”میرے دل میں جو موجود تھااس سے میرا بدن پگھل گیااور میرے بدن میں جو کچھ تھا اس سے میرا دل پگھل گیا۔ اب چاہو تو میری رسی کاٹ دو اور چاہو تو جوڑدو۔ میری نظر میں تمہاری طرف سے ہر عمل اچھا ہے۔ لوگو ں کا مجھے ”دیوانہ” کہنا صحیح تو ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ میں کس کی محبت میں دیوانہ ہوں۔”
    حضرت سیِّدُناذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں :”پھر میں نہ جان سکا کہ وہ نوجوان کہا ں گیا۔”
    اے بھائی!دیکھ!ان ہستیوں کا معاملہ بہترین ہے، ان کی منزل کتنی عمدہ ہے!ان کا انجام کتنا اچھا ہے! ان کا میل کچیل بھی کتنا صاف شفاف ہے! بے شک لوگوں کی زندگی اس وقت تک بے غبار نہیں ہوتی جب تک انہیں ابتلا ء و آزمائش کے کنوئیں میں ڈال نہ دیا جائے۔ان کے دل غربت وافلاس میں مطمئن دکھائی دیتے ہیں اور یہ لمبی اُمیدیں نہیں رکھتے۔اور انہیں (بروزِ قیامت) تمام مخلوق کے سامنے شوق (یعنی دیدار الٰہی عَزَّوَجَلَّ )کے بازار میں پکاراجائے گا،”کیا تم آزمائش میں صبر کرتے رہے؟” تو یہ جواب دیں گے: ”جی ہاں!”پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں توفیق کی پاکیزہ شراب کے جام پلائے گا جن پر تصدیق کی مہر لگی ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے نفس کی مذمت کرتے ہیں اور تحقیق کے چٹیل میدانوں میں غائب رہتے ہیں۔ راہِ حق عَزَّوَجَلَّ میں فقر و فاقہ سے لذّت حاصل کرتے ہیں اور بیابانوں میں خلوَتوں سے اُنْس حاصل کرتے ہیں۔ محبوب ِ اکبرعَزَّوَجَلَّ کے ذکر ِ خیر پرٹوٹ کرگر جاتے ہیں اور جب پراگندہ حال فقراء کے لئے آخرت میں عظیم انعامات کا مژدۂ جاں فزا سنتے ہیں تو ان پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔
    حضرت سیِّدُنااویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب بھوک لگتی تو بستی کی طرف نکل جاتے۔ ایک دن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو ایک کتا بھونکنے لگا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”اے کتے! اسے تکلیف نہ دے جو تجھے تکلیف نہیں دیتا۔ تو وہی کھاتا ہے جو تجھے ملے اور میں بھی وہی کھاتا ہوں جو مجھے ملے۔ اگر میں جنت میں داخل ہو گیاتو میں تجھ سے بہتر ہوں اور اگر دوزخ میں داخل ہوا تو تُو مجھ سے بہتر ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *