Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بھیڑیوں اور بکریوں میں صلح:

بھیڑیوں اور بکریوں میں صلح:

حضرت سیِّدُنا عبدا لواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ” میں تین روزرات کے وقت اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں یہی التجا کرتا رہا کہ وہ مجھے جنت میں میرا رفیق دکھادے تو میں نے دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے:” اے عبدا لواحد! جنت میں تیری رفیق میمونہ سوداء ہو گی۔”میں نے دریافت کیا :”وہ کہاں رہتی ہے؟” تومجھے بتایاگیاکہ وہ کوفہ کے فلاں قبیلے میں رہتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ پھر میں کوفہ چل پڑا۔ اس کے متعلق لوگوں سے دریافت کرنے پرانہوں نے مجھے بتایا کہ ”وہ تو دیوانی ہے اور ہماری بکریاں چراتی ہے۔” میں نے ان سے کہا:”میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔” تولوگو ں نے کہا: ”آپ پہاڑکی طرف جائیں۔’ ‘ میں نے وہاں جاکر دیکھا کہ وہ اپنے سامنے ڈنڈا نصب کئے نماز میں کھڑی ہے ، اس پر اُون کا جبہ لٹک رہا تھا جس پر لکھا تھا: ”یہ خرید وفروخت کے لئے نہیں۔” اور یہ بھی دیکھا کہ بکریاں بھیڑیوں کے ساتھ مل کرچر رہی ہیں۔ نہ توبھیڑیئے ان کو کھاتے ہیں اور نہ ہی یہ بھیڑیوں سے ڈرتی ہیں۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو نمازمختصرکرکے کہا :”لوٹ جائیں، اے ابن زید! آپ واپس چلے جائیں، وعدے کی جگہ یہاں نہیں بلکہ وعدے کی جگہ توجنت ہے۔” میں نے کہا: ”اللہ عزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آپ کو کس نے بتایا کہ میں ابن زیدہوں ؟” تو اس نے جواب دیتے ہوئے کہا: ”آپ کو معلوم نہیں کہ روحیں ایک اکٹھالشکرتھیں جوایک دوسرے سے متعارف ہوگئیں وہ باہم محبت کرتی ہیں اورجنہوں نے ایک دوسرے کونہ پہچانا وہ الگ رہتی ہیں۔” پھر میں نے اس سے کہا:”مجھے نصیحت کرو؟”تواس نے کہا:”تعجب ہے! نصیحت کرنے والے کوبھی بھلا نصیحت کی جائے گی۔ بہرحال اے ابن

زید!اگر تم اپنے اعضاء پر عدل کی کَسَوٹی نافذکر لو تو میں تمہیں اپنے اعضاء میں چھپے ہوئے ایک راز سے آگاہ کرتی ہوں، اے ابن زید! مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جس بندے کو دنیا کی کوئی شئے عطا کی گئی پھر اس کو دوسری مرتبہ اس نے طلب کیا تو اللہ عزَّوَجَلَّ اِس کے ساتھ ہی خلوت کی محبت اس سے سلَب کر لیتا ہے اور اس کو قرب کے بدلے جدائی اور اُنس کے بدلے وحشت دے دیتا ہے۔” پھر اس نے چند اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے:
”اے واعظ! تو خود نافرمان ہے اور لوگوں کو گناہوں سے روکتا اور ڈانٹتا ہے۔ حقیقت میں تو ہی بیمار و کمزور ہے کہ گناہوں کو ناپسند کرنے والے سے ان کاوقوع بڑا ہی عجیب ہے۔ اے میرے رفیق! اگرتو نے جلد ہی اپنے ان عیوب سے داغدار ہونے سے پہلے پہلے توبہ کرلی اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے صلح کر لی تو جان لے کہ تو جو بھی کہے گااس کا مقام ومرتبہ دلوں میں سچا ہو گا۔ لیکن اس وقت تیری حالت یہ ہے کہ تو دوسروں کو توگمراہی وسرکشی سے منع کرتاہے اور خود منع کرنے میں شک میں مبتلا ہے۔”
اشعار کہنے کے بعدجب وہ خاموش ہوئی تومیں نے اس سے استفسار کیا: ”میں ان بھیڑیوں کو بکریوں کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ نہ بکریاں بھیڑیوں سے ڈرتی ہیں اور نہ ہی بھیڑیئے بکریوں کوکھاتے ہیں۔”تو اس نے کہا:”میں نے اپنے اور اپنے مالک کے درمیان رکاوٹ کو دور کرکے اس سے صلح کر لی تو اس نے بھی بھیڑیوں اور بکریوں کے درمیان رکاوٹ دور کرکے ان کی صلح کروا دی۔”
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ صادقین کی علامات،مؤمنین کے فضائل وعادات،متقین کے آثار اوربزرگوں کے لگائے ہوئے باغات ہیں۔اے وہ شخص جو نافرمانیوں کی راہ میں حیران کھڑا ہے! جان لے کہ نیکی کا راستہ بھی بہت قریب ہے اوراے وہ شخص جس کوگناہوں نے توبہ سے روک رکھاہے! جلدی سے ہمیشہ کے لئے توبہ کرلے۔ اے وہ شخص جو مسلسل نافرمانیوں میں غرق ہوتا جا رہا ہے! لوٹ آاورجس نے تجھے اپنی طرف بلایا ہے وہ تیری پکارسن کرتجھے جواب سے نوازے گا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گویا تم امیدوں کے کاٹنے والی موت کے بہت قریب ہو،وہ آئے گی توتم کیڑوں اور تاریکی کے گھروں کی طرف منتقل ہو جاؤ گے،وہ تمہیں دوستوں کی محفل سے اُچک لے گی پھرنافرمان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گالیکن افسوس! اس وقت اسے اعمال سے خالی عمر ضائع کرنے پر ندامت نفع نہ دے گی۔

(1) یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوۡنَ لَا تَخْفٰی مِنۡکُمْ خَافِیَۃٌ ﴿18﴾

ترجمۂ کنزالایمان :اُ س دن تم سب پیش ہو گے کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی ۔(پ29،الحاقۃ: 18)
اے انسا ن! تجھ پر افسوس ہے،کیا تجھے وعیدوں سے نہ ڈرایا گیالیکن توپھر بھی خوف نہیں کرتا۔کیا تو اس ذات سے حیا نہیں کرتاجس نے تجھے وجود بخشااور تیری خوبصورت شکل بنائی،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تجھے تیرے چاہنے والے بھلادیں گے اور تنگ قبر میں ڈال کر اکیلا چھوڑدیں گے ۔

error: Content is protected !!