Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

تائبین کے لئے بخشش کی نوید:

تائبین کے لئے بخشش کی نوید:

ایک بزرگ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ماہِ رمضا ن کے آخری جمعہ حضرتِ منصوربن عمار واعِظ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی محفل میں حاضر ہوا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے روزوں کی فضیلت، راتوں کی عبادت اور مخلصین کے لئے جواجر تیار کیا گیا ہے اس کے متعلق بیان فرمایا توایسے لگ رہاتھاگویا آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بیان کے اثر سے ٹھوس پتھروں سے آگ ظا ہر ہو رہی ہے۔ بلاشبہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! (ایسا ہوسکتا ہے ) کیونکہ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(1) وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یتَفَجَّرُ مِنْہُ الۡاَنْہٰرُ ؕ

ترجمۂ کنزالایمان :اورپتھروں میں توکچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں۔(پ1،البقرہ:74)
لیکن آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی محفل میں نہ کسی نے حرکت کی ، نہ ہی کسی نے اپنے گناہوں کی شکایت کی جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے محفل کی خاموشی کو ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! کیا اپنے عیوب سے آگاہ ہو کرکوئی بھی رونے والا نہیں؟ کیایہ مہینہ توبہ و بخشش کا نہیں؟ کیا یہ مہینہ عفوورضا کا سرچشمہ نہیں؟ کیا اس میں جنت کے دروازے نہیں کھولے جا تے؟ کیا اس میں جہنم کے دروازے بند نہیں کئے جاتے؟ کیا اس میں شیاطین کو جکڑا نہیں جاتا؟ کیا اس میں انعام و اکرام کی بارش نہیں ہوتی؟ کیااس میں اللہ عزَّوَجَلَّ تجلی نہیں فرماتا؟ کیا اس میں ہر رات افطاری کے وقت دس لاکھ جہنمی جہنم سے آزادنہیں کئے جاتے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اس ثواب سے محروم ہوتے ہو؟ اورمخالفت کے لبادے میں تکبرکرتے ہو۔
ارشادِ ربّانی ہے:

(2) اَفَسِحْرٌ ہٰذَاۤ اَمْ اَنۡتُمْ لَا تُبْصِرُوۡنَ ﴿15﴾

ترجمۂ کنزالایمان :توکیایہ جادوہے یاتمہیں سوجھتانہیں ۔(پ27،الطور :15)
(اس کے بعد آپ نے فرمایا:)سب اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوکرتوبہ کرو، تو سب اہلِ مجلس بلند آواز سے گریہ

وزاری کرنے لگے اورایک نوجوان اپنے گناہوں کی وجہ سے روتا ہوا غم کی حالت میں کھڑاہو گیا اور عرض کی:”یاسیدی! بتائیے کہ کیامیرے روزے مقبول ہیں؟ کیا میرا راتوں کا قیام دوسرے قیام کرنے والوں کے ساتھ لکھا جا ئے گا؟ حالانکہ مجھ سے بہت گناہ سرزدہوئے، میں نے اپنی عمر نافرمانیوں میں برباد کردی، عذاب کے دن سے غافل رہا۔”توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:”اے لڑکے! اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرو، کیونکہ اس نے قرآنِ مجید میں ارشادفرمایاہے:

(3) وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ

ترجمۂ کنزالایمان :اوربےشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے تو بہ کی ۔ (پ16،طٰہٰ:82)
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے قرآن پڑھنے والے کو یہ آیتِ مبارکہ پڑھنے کاحکم فرمایا:

(4) وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَ یَعْفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ

ترجمۂ کنزالایمان :اوروہی ہے جواپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گنا ہوں سے درگزرفرماتاہے۔(۱)(پ25،الشوریٰ:25)
اس نوجوان نے ایک زور دار چیخ ماری اور کہا: ”میری خوش نصیبی ہے کہ اس کا احسان مجھ تک پہنچتا رہا لیکن اس کے باوجود میں نافرمانیوں میں اضافہ کرتا رہا اور گمراہی کے راستے سے نہ لوٹا۔ کیا گزرے ہوئے وقت کی جگہ کو ئی اور وقت ہو گاکہ جس میں اللہ تعالیٰ درگزر فرمائے گا۔” پھر اس نے دوبارہ چیخ ماری اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔
پیارے اسلامی بھائیو! ماہِ رمضان کے فراق پر کیوں نہ رویاجائے؟ اورعفوومغفرت کے مہینے پر کیوں نہ افسوس کیا جائے؟ اس مہینے کی جدائی پر کیوں نہ غم کیاجائے جس میں جہنم سے آزادی نصیب ہوتی ہے؟

………………………………………………

1۔۔۔۔۔۔مفسِّر شہیر، خلیفۂ اعلیٰحضرت، صدرالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ” مسئلہ : توبہ ہر ایک گناہ سے واجب ہے اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی و معصیت سے باز آئے اور جو گناہ اس سے صادر ہوا اس پر نادِم ہو اور ہمیشہ گناہ سے مجتنِب رہنے کا پختہ ارادہ کرے اور اگر گناہ میں کسی بندے کی حق تلفی بھی تھی تو اس حق سے بطریقِ شرعی عہدہ برآہو۔”

error: Content is protected !!