تدبروایا اولی الالباب

تدبروایا اولی الالباب

( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )

عقل سلیم اور ذہن مستقیم رکھنے والے حضرات ذیل کے مضامین پر غور و غوض فرمائیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم چند وقت کی نمازیں چند اماموں کی اقتدا میں ادا فرمائی ہیں ، چنانچہ کتب اصول و فروع کے واقفوں پر پوشیدہ نہیں ، اگر کوئی جاہل مرفوع القلم اس کو انکار کرے گا وہ قابل گرفت نہ کریگا ، بحالت اقتدا سینے پر ہاتھ باندھنا اور آمین پکارنا ، رکوع جاتے وقت رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا کہیں ثابت نہیں ، نہ ان اماموں سے بحالتِ امامت افعالِ مذکور کا کرنا ثابت ہے ، اگر افعال مذکور جزو ایمان ہوتے جیسے یہ فرقے سمجھ رہے ہیں ،
حضور ان اپنے اماموں سے افعال مذکور کرنے کے لئے نہ اللہ عزوجل کا حکم ہے نہ اللہ کے رسول کاحکم ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے حالت اقتدا میں ان افعال کو کیا ہے ، نہ کسی صحابہ نے مقتدی ہو کر افعال مذکور کیا ہو ، اور حضور نے دیکھ کر خاموشی فرمائی ہو ، نی رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے ان افعال مذکور سنت کرکے نام رکھا ہے اگر آپ لوگ افعال مذکور کو سنت کہتے ہو نام رکھنے میں سنیوں کی تقلید کرتے ہو ،
یہ تمہارے ہاں کفر و شرک ہے ، پس تم لوگ افعالِ مذکور کسی کے حکم سے کرتے ہو ؟ پتہ چلتا ہے کہ شاید محمد بن عبد الوہاب صاحب نجدی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب شیخ محی الدین لاہوری سابق نام ہری چند بن دویوان چند کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب ابو سعید بنارسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ؟
اغلب یہ ہے کہ مدیر معزز محمد صاحب جوناگڈھی کی اتباع و تقلید واقتدار کرتے ہو ، اس لئے تم لوگ محمدی بھی کہلاتے ہو ، جس میں نسبت محمد صاحب جو نا گذگی کی طرف ہے ، اس نے بھی تم کو محمدی بھائیو یعنی میرے بھائیو کر کے خطاب کیاہے ، یا محمد بن عبدالوہاب کی طرف نسبت ہوگی ، بنگلور اور لشکر میں ایک انجمن احمدی غلام احمد قادیانی کے پیروؤں کی تھی ، دوسری انجمن محمدی محمد صاحب جو ناگڈھی کے پیروؤں کی تھی ، ا ب معلوم نہیں ہے یا نہیں ، اللہ عزوجل نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے علماء مجتہدین و محققین کی اتباع اور تقلیدہ اقتدا کا حکم دیا ہے ، سب وہ صحابہ رضی اللہ عنہ ، سب وہ تابعین اور سب وہ تبع تابعین اور بے شمار فقہاء اور

محدثین جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچے تھے اور کروڑوں عوام اس حکم کی تعمیل کرچکے ہیں ، اللہ عزوجل نے تقلید کا اطلاق اپنے نبی علیہ السلام کے اوپر کہیں نہیں فرمایا ، نہ علماء کی اصطلاع میں مجتہدین کے واسطے اس لفظ کا اطلاق کہیں آیا ہو ،
ہم اس لفظ کا اطلاق پر نہیں کرتے ، اور ہم ہر ایک کے مرتبے کا لحاظ کرتے ہیں ، گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی ست اور ہزاروں علماء و فقہا ومحدثین و بے حساب عوام الناس اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں ، اور کرتے رہیں گے ، تم تو اس کو کفر و شرک کہتے ہو ، جو لوگ کم درجہ کے طالب علموں کی صف میں ہیں ،
جیسے ہم نے تمہارے چند بزرگوں کے نام اوپر گنوائے ہیں ، ان کی اتباع تقلید واقتدا تمہارے نزدیک بطریق اولیٰ کفر و شرک ہوگی خیر تم تو آزاد ، خود مختار و خود روہو ، جدھر جانا چاہتے ہو چلے جا سکتے ہو ، جس کوئیں میں کودنا چاہتے ہو کود سکتے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم سے ان چند نمازوں میںجو بحالتِ اقتدا ادا فرمائی ہیں ، سورئہ فاتحہ کا پڑھنا خلف امام ہرگز کہیں ثابت نہیں ، تم تو کہتے ہو جس نے امام کے پیچھے سورئہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز صحیح نہیں ، یہ بتلاؤ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی یہ نمازیں تمہارے نزدیک صحیح ہوگئے یانہیں ؟ ذرا غور کرو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی نمازیں میں، تم تو دلبر و جرأت والے ہو، کوئی جرأت نہ کر بیٹھو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *