تلک عشرۃ کاملۃ لطائفۃٍ حادثۃٍ کاذبۃٍ خادعۃ

اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری

ہمارا سابق اشتہار معززین کی نظروں سے گذرا ہوگا ، جس میں تین سوال فرقہ حادثہ پر کئے تھے ، ان کا جواب ہندوستان و پنجاب کے لکھے پڑھے آدمیوں سے نہ بنا اور نہ بنے گا، ادھر کے بے علموں سے کیا بنتا ، پھر ناظرین کی دلچسپی کے لئے اس فرقہ کے دعویٰ کے مطابق دس سوال کرتا ہوں ، تاکہ سمجھدار آدمی ان سے طلب حدیث کر کے ناطقہ بند کرے ، اس فرقہ کا دعویٰ ہے جو چیز حدیث صحیحہ سے جائز نہیں وہ سب ناجائز ہے، حرام ، بدعت ہیں ۔
(1) س :۔  آپ لوگ قیام میں دونوں قدموں کے درمیان کتنا فاصلہ رکھتے ہو، اس فاصلہ رکھنے پر رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟
(3) س :۔  اگر دونوں قدموں کو ملا کر رکھتے ہو۔ پھر بھی ملا کر رکھنے کے لئے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(3) س :۔  جب تم قیام میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے کے اوپر بھی رسول  صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(4) س:۔  اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو بند کرنے میں بھی رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(5) س :۔  پھر جب رکوع کرتے ہو رکوع میں کدھر دیکھتے ہو ، اس دیکھنے پر بھی رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(6) س :۔  اگر آنکھوں کو کھلے رکھتے ہو تو پھر بھی کھلے رکھنے پر رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قول یا فعل پیش کرو ؟
( 7) س :۔  جب رکوع سے اٹھتے ہو اور قومہ میں رہتے ہو ، کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟
(8) س:۔  اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو پھر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟

(9) س:۔  جب سجدہ میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول و فعل پیش کرو ؟
( 10) س :۔  اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو اس بند کرنے کے واسطے بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
یہ دس سوال ہیں ، اس پر اگر حدیث صحیح پیش کرو تمہارے واسطے بہتر ہوگا ورنہ یاد رکھو حدیث صحیح سے ثابت ہے تمہاری نہ نماز مقبول نہ روزہ وغیرہ ، اور حدیث دار قطنی کے مصداق بلاریب بن جاؤ گے اور سینے کے اور ہاتھ باندھنا آمین پکار کر کہنا اور رفع یدین کرنا ان کو سنت کہتے ہیں یہ بتاؤ کس حدیث سے ان کی سنت ثابت ہے ؟ ورنہ افعال مذکور کو سنت کہنا تمہارے دعویٰ کے مطابق بدعت ہے ، اور افعال مذکور کو سنت کہنے والا بدعتی ہے ۔
اللہ عزوجل نے جھوٹوں پر لعنت بھیجا ہے ، مگر میسوری مشتہر نے لعنت کی کچھ پروانہ کی ، چامراج
نگر کے قصہ کے متعلق سب جھوٹ لکھ مارا ، قصہ یوں ہے ، چند سال پیشتر میں چامراج نگر میں تھا ، ایک روز مشتہر مغرب کی نماز میں شریک نماز ہوا، اور آمین بلند آواز سے پکاری اور میں نے بعد فراغ نماز کے پوچھا کہ یہ کس نے اس زور سے آمین کہی ، مشتہر نے کہا میں نے کہی ، میں نے ان کو کیا ادھر آیئے ، پھر وہ آکر میرے پاس بیٹھ گئے ،

میں نے مشتہر کو پوچھا کہ آمین کون صیغہ ہے ؟ اور آمین کس وزن پر ہے ؟ آمین میں کونسی مدہے ؟ اور آمین میں اجتماع ساکنیں کیوں جائز ہوا ، مشتہر نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں بے علم ہوں ، مجھے علم نہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ آمین کہنا جائز ہے یا ناجائز ؟ میں نے کہا کہ آپ کے سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بت علم ہیں اس لئے آمین کو کوئی مسلمان ناجائز نہیں کہہ سکتا ہر ایک مسلمان کے نزدیک جائز ہے ، صرف اختلاف ہے اس کے آہستہ کرنے میں اور بلند آواز سے کرنے میں ، آپ نے جو مقتدی ہو کر بلند آواز سے آمین کہی وہ کونسی حدیث سے ثابت ہے ، مشتہر نے اس کے متعلق کوئی جواب نہ دیا ، مشتہر کے یوں لکھدیا کہ میں نے مشکوٰۃؔ اور کنزؔ پیش کرکے قائل کروایا ہوں، کیا ! مشکوٰۃ میں مقتدی ہو کر آمین پکارنے کی حدیث ہے ؟ کیا کنزؔ میں آمین پکارنا سنت لکھا ہے ؟ کیا تمہارے فرقہ کے درمیان

کوئی سمجھدار آدمی نہیں ؟ وہ مشتہر سے نہ پوچھے کہ تم نے یہ کیا لکھ دیا؟ اس اشتہار کا اثر تمہارے فرقہ پر اُلٹا پڑے گیا، کیونکہ آپ کے پاس کوئی حدیث قولی یا فعلی افعال مذکور کے ثبوت کے لئے نہیں ، علاوہ اس کے مشتہر مشکوٰۃ کی ایک حدیث اور کنز کی ایک عبارت نہیں پڑھ سکتا ، اس لئے وہ عربی ہیں ، عربی پڑھنے کے لئے قانون کی ضرورت ہے مشتہر کو مشکوٰۃ کے ساتھ اور کنزؔ کے ساتھ کیا نسبت ہے۔
چہ نسبت خال را باعالم پاک
کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک
بھلاجو آدمی اپنی زبان سے اقرار کرے اپنی بے علمی کا وہ بے علم آدمی اپنے جاننے والے آدمی کو قائل کروانا جھوٹے آدمی سچے آدمی کو جھوٹ بات پر قائل کروانا ایسا ہے کہ ’’ تف بسوئے آسماں بروئے خود است ‘‘ مشتہر کی بے علمی اس کے اشتہار سے ہی ظاہر ہے، خصوصاً اس کی سرخیٔ عنوان جو محض غلط ہے، مشتہر کی بے عنوانی سوال از آسماں جواب از کیسمان ، پنجاب اور ہندوستان کے پڑے لکھے جواب دینے سے حیران و پریشان ادھر کے بے علم نالاں و گریاں ہیں ، مگر آفریں ہے اس ٹکڑی پر جو جوانمرد اور بڑی ہمت والی ہے، جو حیا و شرم کی کچھ پروا نہیں کرتی ، گو حیا ایک جز ہے ایمان کا ، یہ جزوجائے تو جائے مگر اپنی ضد اور ہت نہ چھوڑے بے چارے غریب کو یہ معلوم نہیں ، اذافات الجزفات الکل ، اس ٹکڑی کا کوئی آدمی اگر سُنّیوں کی مسجد میں آجائے آمین پکار کر کہے اس پوچھتے ہیں اجی حدیث کے ٹھیکیدارو رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے حکم دیا ہے آمین پکار نے کی ، یا رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے

مقتدی ہو کر آمین پکار کہی ہے ؟ جواب دیتا ہے ، حدیث نہیں مگر سنت ہے ، پھر اس پوچھتے ہیں کہ اس کا سنت ہونا کس حدیث سے ثابت ہے ؟ پھر مسجد سے ایسا بھاگتا ہے جیسے شیطان اذان کے وقت میں انگلی کان میں رکھ کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے، اس کا بھاگنا مناسب ہے کیونکہ دعویٰ ہے حدیث کی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *