توبہ کرنے والوں کے واقعات

توبہ کرنے والوں کے واقعات

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
بطورِ ترغیب توبہ کرنے والوں کے چند منتخب واقعات ملاحظہ ہوں کہ کس طرح رحمتِ الٰہی عزوجل نے تائبین (یعنی توبہ کرنے والوں )کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔

(1) ایک حبشی کی توبہ

ایک حبشی نے سرکارمدینہ ،سُرور قلب وسینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی ، ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے گناہ بے شمار ہیں ،کیا میری توبہ بارگاہِ الٰہی ل میں قبول ہو سکتی ہے ؟” آپ نے ارشاد فرمایا ،”کیوں نہیں ۔”اس نے عرض کی ،”کیا وہ مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھتا بھی رہا ہے ؟” ارشاد فرمایا ،”ہاں! وہ سب کچھ دیکھتا رہا ہے ۔”یہ سن کر حبشی نے ایک چیخ ماری اور زمین پر گرتے ہی دم توڑگیا ۔

(کیمیائے سعادت،رکن چھار م منحیات ،اصل ششم مقام دوم درمراقبت ، ج ۲ ،ص۸۸۶ )

(2) ایک زانیہ کی توبہ

حضرت سيدنا عمران بن حصين سے روايت ہے کہ ايک عورت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوئی ،اسے زنا کا حمل تھا ۔وہ عرض کرنے لگی: ”يارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ميں وہ کام (یعنی زنا)کر بيٹھی ہوں جس پر حد واجب ہوتی ہے ،آپ مجھ پر حد قائم فرما ديں ۔”رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلا کر ارشاد فرمايا :”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور جب وضع حمل ہو جائے تو اسے ميرے پاس لے آنا ۔”
پھر ايساہی ہوا (یعنی وضع حمل کے بعد ولی اسے لے کر حاضر خدمت ہو گيا )تو رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ديا کہ :”اسے اس کے کپڑوں کے ساتھ باندھ د ياجائے۔”پھراسے رجم کر ديا گيا ۔پھر سرور دو عالم ا نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو حضرت سيدنا عمر فاروق عرض گزار ہوئے:”يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھ دی حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کيا تھا ؟”اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا:”يقينا اس نے ايسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی يہ توبہ اہل مدينہ کے سترافراد پر تقسيم کر دی جائے تو انہيں کافی ہو جائے (یعنی ان کی مغفرت ہو جائے)اور کيا تم اس سے افضل کوئی عمل پاتے ہو کہ اس نے اپنی جان خود اللہ عزوجل کے ليے پيش کر دی۔”

(صحیح مسلم ،کتاب الحدو د ، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی ، رقم ۱۶۹۶ ، ص ۹۳۳)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!