تکبر

یہ شیطانی خصلت اتنی بری اور اس قدر تباہ کن عادت ہے کہ یہ بھوت بن کر جس انسان کے سر پر سوار ہو جائے سمجھ لو کہ اس کی دنیا و آخرت کی تباہی یقینی ہے
شیطان اپنی اس منحوس خصلت کی وجہ سے مردود بارگاہ الٰہی عزوجل ہوا۔ اور خداوند قہارو جبار نے لعنت کا طوق اس کے گلے میں پہنا کر اس کو جنت سے نکال دیا۔
    تکبر کے معنی یہ ہیں کہ آدمی دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھے۔ یہی جذبہ شیطان ملعون کے دل میں پیدا ہو گیا تھا کہ جب اﷲتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو فرشتے چونکہ تکبر کی نحوست سے پاک تھے سب فرشتوں نے سجدہ کرلیا لیکن شیطان کے سر میں تکبر کا سودا سمایا ہوا تھا اس نے اکڑ کر کہہ دیا کہ۔
قَالَ  اَنَا خَیۡرٌ مِّنْہُ ؕ خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ  مِنۡ طِیۡنٍ ﴿76﴾
    ”یعنی میں حضرت آدم سے اچھا ہوں۔ اے اﷲ! تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا”(پ۲۳،صۤ:۷۶)
    اس ملعون نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے سے حقیر سمجھا اور سجدہ نہیں کیا۔
یاد رکھو کہ جس آدمی میں تکبر کی شیطانی خصلت پیدا ہو جائے گی اس کا وہی انجام ہوگا جو شیطان کا ہوا کہ وہ دونوں جہان میں خداوند قہار و جبار کی پھٹکار سے مردود اور ذلیل و خوار ہوگیا۔ یاد رکھو کہ تکبر خدا کو بے حد ناپسند ہے اور یہ بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کے دل میں رائی برابر ایمان ہوگا وہ جہنم میں نہیں داخل ہوگا اور جس شخص کے دل میں رائی برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں داخل ہوگا۔
    (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب تحریم الکبر وبیانہ ، رقم ۹۱،ص۶۱)
    ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ میدان محشر میں تکبر کرنے والوں کو اس طرح لایا جائے گا کہ ان کی صورتیں انسانوں کی ہوں گی مگر ان کے قد چیونٹیوں کے برابر ہوں گے اور ذلت و رسوائی میں یہ گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ لوگ گھسیٹتے ہوئے جہنم کی طرف
لائے جائیں گے اور جہنم کے اس جیل خانہ میں قید کردیئے جائیں گے جس کا نام”بولس” (ناامیدی) ہے اور وہ ایسی آگ میں جلائے جائیں گے جو تمام آگوں کو جلادے گی جس کا نام ”نارالانیار” ہے اور ان لوگوں کو جہنمیوں کا پیپ پلایا جائے گا۔
(جامع الترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ت، ۱۱۲،رقم ۲۵۰۰،ج۴،ص۲۲۱)
    پیاری بہنو اور عزیز بھائیو! کان کھول کر سن لو کہ تم لوگ جو کھانے، کپڑے، چال چلن، مکان وسامان، تہذیب و تمدن، مال و دولت ہر چیز میں اپنے کو دوسروں سے اچھا اور دوسروں کو حقیر سمجھتے رہتے ہو۔ اسی طرح بعض علماء اور بعض عبادت گزار علم و عبادت میں اپنے کو دوسروں سے بہتر اور دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھ کر اکڑتے ہیں۔ یہی تکبر ہے خدا کے لئے اس شیطانی عادت کو چھوڑ دو اور تواضع و انکساری کی عادت ڈالو۔ یعنی دوسروں کو اپنے سے بہتر اور اپنے کو دوسروں سے کمتر سمجھو۔
    حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص اﷲعزوجلکے لئے تواضع و انکساری کریگا اﷲتعالیٰ اس کو بلند فرمادے گا۔ وہ خود کو چھوٹا سمجھے گا مگر اﷲتعالیٰ تمام انسانوں کی نگاہوں میں اس کو عظمت والا بنادے گا اور جو شخص گھمنڈ اور تکبر کریگا۔ اﷲتعالیٰ اس کو پست کردے گا وہ خود کو بڑا سمجھے گا مگر اﷲتعالیٰ اس کو تمام انسانوں کی نظر میں کتے اور خنزیر سے زیادہ ذلیل بنادے گا۔
(المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی سعید الخدری ، رقم ۱۱۷۲۴،ج۴،ص۱۵۲)
گھمنڈ کا علاج:۔گھمنڈ کا علاج یہ ہے کہ غریبوں اور مسکینوں کی صحبت میں رہنے لگے اور ان لوگوں کی خدمت کرے۔ تواضع و انکساری کا طریقہ اختیار کرے اور اپنے دل میں یہ ٹھان لے کہ میں ہر مسلمان کی تعظیم اور اس کا اعزاز و اکرام کروں گا۔ خواہ اس کے کپڑے کتنے ہی میلے کیوں نہ ہوں میں اس کو اپنے برابر بٹھاؤں گا اور ہر وقت اس کا
 دھیان رکھے کہ خداوند کریم کا شکر ہے کہ مجھ کو اس نے دوسروں سے اچھا بنایا ہے لیکن وہ جب چاہے مجھ کو سارے جہان سے بدتر بنا سکتا ہے اپنی کمتری اور کو تاہی کا خیال اگر دل میں جم گیا تو تکبر کا بھوت لاکھوں کوس دور بھاگ جائے گا۔ (واﷲاعلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!