Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

صدقہ کی طاقت

    حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایاتو زمین ہلنے لگی تواللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدافرمایااور ان پہاڑوں سے زمین کاہلنابندہوگیا۔ توپہاڑوں کی مضبوطی اورطاقت سے تعجب کرتے ہوئے فرشتوں نے کہاکہ اے ہمار ے پروردگار !عزوجل کیا تیری مخلوق میں پہاڑوں سے بھی بڑھ کر کوئی طاقتور چیز ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں” لوہا”پہاڑوں سے بھی بڑھ کر طاقتور ہے۔ تو فرشتوں نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار!عزوجل کیا لوہے سے بھی بڑھ کر طاقتور کوئی چیز ہے؟ تو فرمایا کہ ہاں”آگ”لوہے سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ توفرشتوں نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار!عزوجل کیا آگ سے بھی زیادہ کوئی طاقتورچیز ہے؟توفرمایاکہ ہاں ”پانی ”آگ سے بھی زیادہ طاقتورہے۔تو پھر فرشتوں نے کہا کہ اے رب !عزوجل کیا تیری مخلو ق میں پانی سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟تو فرمایا کہ ہاں ”ہوا”پانی سے بھی زیادہ طاقتورہے۔تو پھر فرشتوں نے کہا کہ اے رب!عزوجل کیا تیری مخلوق میں ہوا سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟تو ارشا دفرمایاکہ ہاں ابنِ آدم اپنے داہنے ہاتھ سے اس طرح پوشیدہ کرکے صدقہ دے کہ بائیں ہاتھ سے بھی چھپائے یہ ہوا سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔(1)(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۷۰)
    مطلب یہ ہے کہ صدقہ بہت بڑی طاقت والی چیز ہے کہ اس سے بڑی بڑی خطرناک بلائیں ٹل جاتی ہیں اوربڑی بڑی مشکل مرادیں صدقہ کی بدولت حاصل ہوجاتی ہیں اور بڑے بڑے اہم کام صدقہ کی برکت سے پورے ہوجاتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب التفسیر،بابت:۹۵،الحدیث:۳۳۸۰،ج۵، ص۲۴۲
error: Content is protected !!