سوال وجواب

سوال :۔  حضرت امام اعظم رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا ، اُتر کو اقولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو آپ مانتے ہیں یا نہیں ؟
جواب :۔  یہ قول امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے کس کتاب میں ہے ؟ اس قول کے مخاطب کون تھے ؟ آیا کہ وہ اس زمانے کے بے علم اہلِ حدیث یعنی وہابیہ کی طرح تھے یامجتہد فی المذہب تھے ، آپ جیسے بے علم اس قول کے مخاطب نہیں اس مقولے سے ثابت ہوتا ہے کہ امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے سب مسائل کے ماخذ حدیث صحیح تھے ، اسی واسطے آپ نے اپنے شاگردوں کو فرمایا ،اگر صرف میرا ہی قول رہے اس کو حدیث رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مقابلہ میں چھوڑ دو میرے اقوال کی اصل حدیث صحیح ہیں پھر اس کو چھوڑنے کا کیا معنیٰ؟
آپ قرآن و حدیث سے ثابت کر دیجئے ، غیر مجتہد کو مجتہد کے فتویٰ کو رد کرنا جائز ہے ۔
سوال :۔  مذہب اہل حدیث ( وہابیہ ) غیر ناجی ہونے پر حضرت امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کا حکم یا مستند فتویٰ پیش کریں ۔
جواب :۔  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا بڑی جماعت کی اتباع و تقلید کرو ، جس نے بڑی جماعت کو چھوڑ دیا وہ جہنم میں گر گیا ، بڑی جماعت سے مراد جس میں بڑے بڑے علماء ، بڑے بڑے فقہاء اور بڑے بڑے محدثین گذرے ہیں وہ سب انہی چار یعنی حنفی یا مالکی یا شافعی یا حنبلی مذہب کے مقلد اور پیروتھے ، اس بڑی جماعت کو اللہ پاک نے سبیل المومنین نام رکھا ہے ، نواب حسن بھوپالی کا جب مولیٰنا عبد الحی صاحب لکھنوی نے ناطقہ بند کردیا تو مجبور ہوکر ان کو
اقرار کرنا پڑا کہ اصحاب صحاح
ستہ انہی چار مذہب میںسے کسی نہ کسی مذہب کے مقلد و پیرو ضرور تھے ، اب اس زمانے کے اہل حدیث یعنی وہابیہ بڑی جماعت یعنی سنت جماعت سے خارج جہنمی ہیں ، ہم باربار سمجھا چکے ، غور سے پڑھو ، ضد کرنا چھوڑ دو کیونکہ یہ خصلت یہودیوں کی ہے ، ہم نے وہابیہ کو جہنمی نہیں بنایا بلکہ اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو جہنمی بنایا ہے ۔

ترمذی شریف :۔

  فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کہ سچا اور امانت دار سوداگر انبیا اور صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوں گے ۔
احیاء العلوم :۔  فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تجارت ضرور کرو کیونکہ اس میں رزق کا 9/10حصہ ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *