حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی امن پسندی

اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قریش کے پاس قاصد بھیجا اور تین شرطیں پیش فرمائیں کہ ان میں سے کوئی ایک شرط قریش منظور کرلیں:
(۱)بنی خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہادیا جائے۔
(۲)قریش قبیلہ بنی بکر کی حمایت سے الگ ہوجائیں۔
(۳)اعلان کردیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔
جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قاصد نے ان شرطوں کو قریش کے سامنے رکھا تو قرطہ بن عبد عمرنے قریش کا نمائندہ بن کر جواب دیا کہ ”نہ ہم مقتولوں کے خون کا معاوضہ دیں گے نہ اپنے حلیف قبیلہ بنی بکر کی حمایت چھوڑیں گے۔ ہاں تیسری شرط
ہمیں منظور ہے اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔” لیکن قاصد کے چلے جانے کے بعد قریش کو اپنے اس جواب پر ندامت ہوئی۔ چنانچہ چند رؤسائے قریش ابوسفیان کے پاس گئے اور یہ کہا کہ اگر یہ معاملہ نہ سلجھا تو پھر سمجھ لو کہ یقینا محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہم پر حملہ کردیں گے۔ ابوسفیان نے کہا کہ میری بیوی ہندبنت عتبہ نے ایک خواب دیکھا ہے کہ مقام ” حجون ” سے مقام ”خندمہ” تک ایک خون کی نہر بہتی ہوئی آئی ہے، پھر ناگہاں وہ خون غائب ہوگیا۔ قریش نے اس خواب کو بہت ہی منحوس سمجھا اور خوف و دہشت سے سہم گئے اور ابوسفیان پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا کہ وہ فوراً مدینہ جاکر معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کرے۔ (1)(زرقانی ج۲ ص ۲۹۲)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *