Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

خارجی گروہ تائب ہوگیا:

خارجی گروہ تائب ہوگیا:

منقول ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں تشریف فرماتھے کہ خوارج کے کچھ سرغُنِّے اپنی تلواریں لہراتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے :”اے ابوحنیفہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )! ہم تم سے دو مسئلے پوچھتے ہیں، اگرتم نے جواب دے دیاتو بچ جاؤ گے ورنہ تمہیں قتل کر دیں گے( معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ)۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اپنی تلواریں میان میں ڈال لو کیونکہ انہیں دیکھ کر میرا دل مشغول ہو جائے گا۔”وہ کہنے لگے :”ہم ان کوکیسے چھپا لیں حالانکہ ہم تمہاری گردن میں ڈال کربہت زیادہ اجر وثواب پائیں گے۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”چلو،جو پوچھناہے پوچھو۔” انہوں نے پوچھا: ”دروازے پر دو جنازے ہیں: ان میں ایک شرابی ہے، اس کو اُچُّھو(۱) لگا اور نشہ کی حالت میں مر گیااور دوسرا جنازہ زنا سے حاملہ عورت کا ہے جو توبہ سے قبل ہی بچے کی ولادت سے مر گئی تو کیا وہ دونوں کافر مرے یا مسلمان؟”ان سوال کرنے والے خارجیوں کا مذہب یہ تھا کہ اگر کوئی مسلمان ایک گناہ بھی کر لے تو وہ کافر ہو جاتا ہے ۔ اب اگر امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں کو مسلمان کہتے تو وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دیتے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے استفسار فرمایا:”ان کا تعلق کس فرقے سے تھا؟کیا یہودی تھے ؟”انہوں نے کہا،”نہیں۔”پھرپوچھا،”کیاعیسائی تھے ؟”توکہنے لگے،” نہیں”تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پوچھا:”کیا مجوسی یعنی آگ کی پوجا کرنے والے تھے؟”جواب ملا، ”نہیں”تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:”بت پرست تھے ؟”پھربھی جواب نفی میں پایا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پوچھا:”آخر وہ کون تھے ؟”انہوں نے کہا:”وہ مسلمان تھے۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”جواب تو تم نے خود ہی دے دیا ہے۔”کہنے لگے، ”وہ کیسے؟”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”تم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ مسلمان تھے۔لہٰذا تم کسی مسلمان کو کیسے کافر قرار دے سکتے ہو؟”انہو ں نے پھر پوچھا: ”کیا وہ جنتی ہیں یادوزخی؟”تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”میں ان کے متعلق وہی کہوں گاجوحضرت سیِّدُناابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی امت کے شریرو نافرمان لوگوں کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی تھی کہ ،

(1)فَمَنۡ تَبِعَنِیۡ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡ ۚ وَمَنْ عَصَانِیۡ فَاِنَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿36﴾

ترجمۂ کنز الایمان :تو جس نے میراساتھ دیاوہ تو میراہے اور جس نے میراکہا نہ مانا تو بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے۔(پ13،ابراھیم:36)

اور وہی کہوں گاجوحضرت سیِّدُناعیسیٰ علیہ الصلٰوۃوالسلام نے بارگاہِ خداوندی میں اپنے نافرمان اُمَّتِیُوْں کے متعلق عرض کی تھی:

(2) اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿118﴾

ترجمۂ کنز الایمان :اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔(پ7،المائدہ:118)
چنانچہ، وہ خوارج تائب ہوئے اور آپ سے معذرت کی۔

(مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالٰی للامام الموفق بن احمد المکی رحمۃ اللہ،ج۱،ص۴۲۱)

منقول ہے کہ ایک عورت حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مسجد میں حاضر ہوئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے رفقاء کے درمیان تشریف فرماتھے ۔اس نے ایک سیب نکالاجو ایک طرف سے سرخ اور دوسری جانب سے زرد تھا۔ اس نے بغیر کوئی بات کئے سیب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے دو ٹکڑے کر دیئے، عورت چلی گئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احباب اس ماجرے کو نہ سمجھ سکے۔چنانچہ، انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھاتو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اس عورت کو کبھی سیب کی ایک جانب کی طرح سرخ خون آتاہے اور کبھی دوسری جانب کی طرح زرد خون آتاہے گویا وہ پوچھ رہی تھی کہ وہ خون حیض کا ہے یا طہر کا۔تو میں نے سیب کو توڑ کر اس کا اندرونی حصہ دکھایاجس سے میری مراد یہ تھی کہ جب تک اس سیب کی اندرونی سفیدی کی طرح سفیدی دکھائی نہ دے، طُہر نہیں ہوگا تووہ چلی گئی۔”
سراج الا ُمَّہ، امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بصرہ میں داخل ہوا۔ سوچاتھاکہ جوبھی مجھ سے سوال کریگا میں اس کو جواب دوں گالیکن بصرہ والوں نے مجھ سے ایسے سوالات کئے کہ میرے پاس ان کا کوئی جواب نہ تھا۔پھر میں نے عزم کر لیا کہ آئندہ اپنے استاذحضرت سیِّدُناحماد علیہ رحمۃاللہ الرزّاق کی صحبت کبھی نہ چھوڑوں گا۔چنانچہ، بیس سال اُن کی صحبت میں رہا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”میں ہر نماز میں اپنے والدین، تمام اساتذہ اور بالخصوص حضرت سیِّدُناحماد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہوں۔

”(تاریخ بغداد، الرقم۷۲۹۷، النعمان بن ثابت ابوحنیفۃ التیمی، ذکر خبر ابتداء ابی حنیفۃ بالنظرفی العلم،ج۱۳،ص۳۳۴۔بتغیرٍ)

حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھاگویا میں سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار بِاذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قبرِ اَقدَس کھود کر ہڈیاں نکال رہا ہوں اور ان کو صاف کر رہا ہوں۔ اس سے مجھے بہت زیادہ ڈر محسوس ہوا۔ میں نے حضرت سیِّدُناامام ابنِ سِیرِین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے اپناخواب بیان کیاتو انہوں نے فرمایا: ”اگریہ خواب سچا ہے تو آپ رسولِ اَکرَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنت کو زندہ کریں گے۔”

(مناقب الامام الاعظم للموفق بن احمد المکی،الباب الخامس فی ابتداء جلوسہ للفتیا والتدریس،ج۱، ص۶۷،بتغیرٍ)

حضرت سیِّدُنا یوسف بن صباغ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی نے بتایاکہ میں نے خواب میں حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزَّت، محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قبرِ انور کو کھودتے ہوئے دیکھاتو کسی کو بتائے بغیر حضرت سیِّدُنا ابن سیرین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ شخص حضرت سیِّدُنا محمدِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنت کو زندہ کریگا۔

(تاریخ بغداد،الرقم۷۲۹۷النعمان بن ثابت ابو حنیفۃ التیمی،ذکرخبرابتداء ابی حنیفۃبالنظرفی العلم،ج۱۳،ص۳۳۵۔بتغیرٍ)

حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایاکرتے: ”ہمیں حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے جو بات پہنچے ہم اُسے سر آنکھوں پر قبول کریں گے اور جو صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے ملے اس میں سے اختیار کریں گے اور اُن کے قول سے باہر نہیں نکلیں گے اور جو بات تابعینِ عظام ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ملے تو وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں اور ان کے علاوہ کو بالکل نہیں سنیں گے۔”

(سیر اعلام النبلاء،الرقم۹۹۴۔ابوحنیفۃ النعمان بن ثابت،ج۶،ص۵۳۶۔بدون”عن التابعین”)

1۔۔۔۔۔۔ پانی پینے کے دوران بعض اوقات گلے میں پھندا سا لگتا ہے اور کھانسی اُٹھتی ہے اس کو ”اُچُّھو لگنا” کہتے ہیں ۔

error: Content is protected !!