دائرے سے پانی رواں ہوگیا:

دائرے سے پانی رواں ہوگیا:

ایک قافلہ حضرت سیِّدُناایوب سختیانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ سفر پر تھا۔جب قافلے والے پیدل چلنے سے عاجزآگئے تو

شدتِ پیاس کی وجہ سے پانی طلب کیا ۔حضرت سیِّدُنا ایوب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ا ن سے پوچھا:”کیا تم میری زندگی میں اس رازکو پوشیدہ رکھو گے؟” انہوں نے کہا:”جی ہاں!رکھیں گے۔”توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ایک گول دائرہ کھینچا تو اس سے پانی جاری ہو گیا۔ ان سب نے جی بھر کر پانی پیا۔جب قافلہ بصرہ پہنچا اورحضرت سیِّدُنا حماد بن زیدرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ بات بتائی تو حضرت سیِّدُنا عبد الواحد بن زیدرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”اس دن میں بھی ان کے ساتھ موجود تھا۔”

درندہ بھی تابع ہوگیا :

حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃاللہ القوی اور حضرت سیِّدُنا شیبان راعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ دونوں حج کے ارادے سے نکلے تو ان کے سامنے ایک درندہ آگیا۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃاللہ القوی نے حضرت سیِّدُنا شیبان راعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے فرمایا: ”کیاآپ اس درندے کو نہیں دیکھ رہے؟”تو انہوں نے فرمایا:”ڈریئے مت ۔” پھرحضرت سیِّدُناشیبان راعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس کا کان پکڑکر دبا یا تو وہ دُم ہِلانے لگا، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس کی دُم پکڑی توحضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”کیایہ شہرت نہیں ؟” توانہوں نے جواب دیا: ”اگر مجھے شہرت کا خوف نہ ہوتا تو میں اپنازادِراہ اس کی پیٹھ پر رکھ دیتا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ جاتا۔”

فقراء پر صدقہ نہ کرنے کی سزا:

حضرت سیِّدُنا جعفربن ترکان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”میں فقراء کی صحبت میں بیٹھا کرتاتھا۔ایک دفعہ مجھے ایک دینار ملا تو میں نے ارادہ کیا کہ یہ دینار ان فقراء کو دے دوں پھر میرے دل میں یہ خیال آیاکہ شاید مجھے اس کی ان سے زیادہ حاجت ہے ۔تواچانک مجھے دانت کا دردمحسوس ہوا میں نے اپنے دانت کو جڑسے اُکھیڑ دیا پھر دوسرا درد کرنے لگا۔ اس کو بھی جڑسے اکھیڑ دیا تو ہاتف ِ غیبی سے آواز آئی: ”اگر تم ان فقراء کو وہ دینار نہ دوگے توتمہارے منہ میں ایک دانت بھی باقی نہ رہے گا۔”

میت نے ہاتھ پکڑ لیا:

حضرت سیِّدُنا احمد بن منصور رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ” میرے استاذحضرت سیِّدُناابویعقوب سوسی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرما یا: ”میں نے اپنے ایک مرید کو غسل دیاتو اس نے تختۂ غسل پر میراہاتھ پکڑ لیا۔میں نے اس سے کہا:”اے میرے بیٹے! میراہاتھ چھوڑ دے،میں جانتاہوں کہ تو مردہ نہیں تُوتوصرف ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہواہے۔”تواس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!