Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

دل ہوش میں نہ رہا:

دل ہوش میں نہ رہا:

حضرتِ سیِّدُناابراہیم سائح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے طوافِ بیت اللہ شریف کے دوران ایک لڑکی کو کعبہ کے پردوں سے لپٹے ہوئے یہ کہتے سنا :”ہائے! محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے بعد میں تنہا ہو گئی،ہائے! عزت پانے کے بعد میں ذلیل ہو گئی، ہائے!امیری کے بعد فقیری میں مبتلا ہو گئی،ہائے! اتنی بڑی مصیبت نازل ہو گئی ۔”میں نے پوچھا:”اے لڑکی!تجھ پر کون سی مصیبت
نازل ہوئی؟” اس نے کہا :”میرادل ہوش میں نہیں رہا۔” میں نے کہا:” یہ تو معمولی مصیبت ہے۔” کہنے لگی: ”بھلا دل کی بے ہوشی اور محبوب کی جدائی سے بڑھ کربھی کوئی مصیبت ہوسکتی ہے؟”میں نے پوچھا:”تم اپنی آواز پست کیوں نہیں کرتی؟” تو وہ جواباً پوچھنے لگی: ”بتایئے! یہ گھر کس کا ہے، آپ کا یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا؟”میں نے کہا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ۔” کہنے لگی:”یہ حرم آپ کاہے یا خدا عَزَّوَجَلَّ کا؟” میں نے کہا: ”اُسی کا ہے۔”اس نے پھر پوچھا:”اچھا! یہ بتایئے کہ کون ہمیں اِس کی زیارت کی توفیق عطا فرماتا ہے؟” میں نے کہا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ۔” تو وہ کہنے لگی:” پھر مجھے چھو ڑدو کہ میں اس کی بارگاہ میں عاجزی وانکساری کروں جیسا کہ اس نے ہمیں اپنے حرم شریف میں حاضری کی توفیق عطا فرمائی اور اِس کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔” پھر اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر لئے اور یوں دعاکی:”یااللہ عَزَّوَجَلَّ!تیری میرے ساتھ محبت کا واسطہ ! میرے دل کو ہوش عطا فرما دے۔” میں نے اسے کہا:”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے؟” اس نے جواب دیا:”وہ اس طرح کہ اس کی خاص عنایت نے ہمیشہ میری طرف سبقت کی کیونکہ اس نے میری تلاش میں لشکروں کو بھیجا،اس نے مال خرچ کئے اور اس کے بندوں نے جہاد کیا یہاں تک کہ مجھے شرک کے شہر سے نکال کر توحید کے شہر میں لا کھڑا کیا۔اور پھراس نے مجھے اپنے راستے کی معرفت عطا کی اورحسنِ توفیق کے ساتھ اپنی بارگاہ کی طرف رہنمائی کی، مجھے اس کا شعور بھی نہ تھا مگر اب میں اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔”

error: Content is protected !!