دیانتداری کی اعلیٰ مثال

دیانتداری کی اعلیٰ مثال

مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا یونس بن عُبَیْد بَصْری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ ِ الْقَوِی کے پاس مختلف اقسام اور مختلف قیمتوں کے حُلّے(چادریں،جبے)تھے۔ ان میں سے ایک قسم ایسی تھی کہ ہر حُلّے کی قیمت 400درہم تھی اور ایک قسم ایسی تھی کہ ہر حُلّہ 200 درہم کا تھا۔نمازکا وقت ہوا تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھتیجے کو دکان پرچھوڑ کر خود نماز کے لئے تشریف لے گئے۔اسی اثنا میں ایک اَعرابی(دیہاتی)آیا اور اس نے 400 درہم کا حُلّہ طلب کیا،بھتیجے نے اس کے سامنے200درہم والا حُلّہ پیش کیا، اسے وہ اچھا لگا اور اس نے400درہم پر راضی ہو کر اسے خرید لیا۔اَعرابی حُلّہ ہاتھ میں لئے واپس جا رہا تھا کہ حضرت سیِّدُنا یونس بن عُبَیْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس کا سامنا ہو گیا۔انہوں نے اپنے حُلّے کو پہچان کر اُس سے پوچھا:یہ حُلّہ کتنے میں خریدا ہے؟اس نے جواب دیا:400درہم میں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: یہ200درہم سے زیادہ کا نہیں ہے،تم جاکر اسے واپس کر دو۔ اس نے کہا:ہمارے شہر میں یہ حُلّہ500 درہم کا ہے نیز مجھے یہ پسند بھی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے فرمایا:واپس پلٹ
جاؤ کہ دین میں خیر خواہی دنیا و مافیہا(یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس)سے بہتر ہے۔ چنانچہ آپ اسے واپس دکان پر لائے اور 200درہم واپس کر دئیے۔پھر اپنے بھتیجے کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا:تمہیں شرم نہیں آئی!کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے نہیں ڈرتے کہ چیز کی قیمت کے برابر نفع لیتے ہواورمسلمان کی خیر خواہی کو ترک کرتے ہو؟بھتیجے نے جواب دیا:میں نے اس کے راضی ہونے پر ہی اتنا زیادہ نفع لیا تھا۔آپ نے فرمایا: کیا تم نے اس کے حق میں وہی پسند کیا جو اپنے لئے پسند کرتے ہو؟ (1)

 

لمحۂ فکریہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ حکایت خیر خواہی اور احسان کی ایک عظیم مثال پیش کر رہی ہے ۔ اے کاش کہ معیشت کا رونا رونے والے لوگ پیارے آقا مدینے والے مُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے اس ارشاد کو پڑھ کر اس پر عمل کرلیں تو یہ معیشت کا بحران ختم ہوجائے کہ محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: لا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ یعنی تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔(2) بھلا وہ کون سا شخص ہے جواپنے لئے یہ پسند کرے گا کہ مجھے ملاوٹ والا مال ملے، مجھے دھوکہ دے کر یا جھوٹ بول
کر مال دیا جائے،مجھ سے سُود لیا جائے ،مجھ سے رشوت لی جائے، میرے بھولے پن کا فائدہ اُٹھا کر میری جیب خالی کردی جائے؟ یقیناً کوئی شخص اپنے لئے یہ باتیں پسند نہیں کرتا تو پھر اپنے مُسلمان بھائیوں کے لئے ایسا کیوں سوچا جاتا ہے…؟ بیان کردہ حکایت میں حضرت سیِّدُنا یونس بن عُبَیْد بَصْری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ ِ الْقَوِی نے اپنے بھتیجے کی کوتاہی پر فوراً اسے سرزنش کی کہ تجھے شرم نہیں آتی ؟تجھے اللہ کا خوف نہیں کہ اتنا زیادہ نفع لے رہا ہے۔یقیناً یہ تربیت کا ایک بہترین انداز تھاتاکہ وہ بچہ آئندہ اس قسم کی حرکتوں سے باز رہے مگر افسوس ! ہماری اَخلاقی حالت تو اس قدر گر چکی ہے کہ اگر ہمارا بچہ جھوٹ بول کر یادھوکہ دے کر کسی کو لُوٹنے میں کامیاب ہوجائے توہم اسے ایک شاندار کارنامہ سمجھتے ہیں،اس پر بچے کو شاباشی دیتے ہیں،اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور دادِ تحسین دیتے ہوئے اس قسم کے جملے کہتے ہیں کہ بیٹا اب تم بھی سیکھ گئے ہو،تمہیں کاروبار کرنا آگیا ہے،تم سمجھدار ہوگئے ہو وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ایسے موقعے پر تو ہمیں اپنے بچے کی تربیت کرنی چاہئے کہ بیٹا جھوٹ بول کر اور دھوکہ دے کر کاروبار نہیں کرنا چاہئے ورنہ اس کے وبال سے ہمارے کاروبار ومال میں زوال آجائے گا اور ہم تباہ و برباد ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!