Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سماعتِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم:

سماعتِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم:

حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ تھے،حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک گرَجدار آواز سنی تو ہم سے استفسار فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ آواز کیسی تھی ؟”ہم نے عرض کی: ”اَللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَم یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بہتر جانتے ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:” یہ ایک پتھرتھا جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا وہ اَب تک اس میں گر رہا تھا یہاں تک کہ اب اس کی تہہ میں پہنچ گیا ۔”

(صحیح مسلم ،کتاب الجنۃ ، باب جھنم اعا ذنا اللہ منھا ، الحدیث ۲۸۴۴، ص۱۱۷۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کیا تمہیں ان احوال سے عبرت حاصل نہیں ہوتی؟کیا تم جہنم کی آگ اور اس کی ہولناکیوں سے نہیں ڈرتے؟کیا اس کی زنجیروں اور طوقوں سے تمہیں خوف نہیں آ تا ؟تعجب ہے اس شخص پر جو جنت میں اپنے باپ حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ الصلٰوۃوالسلام کی پشتِ مبارک میں تھاپھر بھی وہ کیسے اس جہنم میں داخل ہو جائے گاجس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

error: Content is protected !!