Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر197: نجش ۱؎ يعنی دھوکے سے قيمت ميں زيادتی کرنا کبيرہ نمبر198: دوسرے کی بيع پربيع کرنا کبيرہ نمبر199: دوسرے کی خريد پرخريد کرنا

کبيرہ نمبر197:    نجش ۱؎ يعنی دھوکے سے قيمت ميں زيادتی کرنا
کبيرہ نمبر198:    دوسرے کی بيع پربيع کرنا
کبيرہ نمبر199:    دوسرے کی خريد پرخريد کرنا
    ان تينوں کو بھی کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے کيونکہ ان ميں غير کوعظيم نقصان دينا پايا جاتا ہے اور ا س ميں کوئی شک نہيں کہ غير کا نقصان کرنا جس کا عادۃً احتمال نہيں ہوتاکبيرہ گناہ ہے، نیز يہ مکر اور دھوکے ميں سے ہے اور عنقريب آئے گا کہ يہ کبيرہ ہے ليکن الروضۃ ميں ہے:”ذخيرہ اندوزی کرنا، اپنے بھائی کی بيع پر بيع کرنا، سوم يعنی سودے پرسوداکرنا، اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پرپیغامِ نکاح دينا، شہری کا ديہاتی کے لئے بيع کرنا، باہرسے جو غلہ وغيرہ کے آنے والے قافلوں کو بستی سے باہرجا کر ملنا،کثرت کا وہم دلانے کے لئے دودھ نہ دوہنا، عيب والی شئے عيب بيان کئے بغير بيچنا، اس کتے کو رکھنا جس کی کمائی جائز نہ ہو، غیرحرام شراب کو روکنا، مسلمان غلام کافرکوبيچنا،اسی طرح قرآنِ پاک اور تمام علم شرعی کی کتابيں وغيرہ کافرکوبیچناصغیرہ گناہ ہیں ۔” اگرچہ ان ميں سے اکثرمحلِ نظرہیں بہرحال يہ سب اسی وقت کبیرہ ہو سکتے ہیں جبکہ کبيرہ کی تعريف يوں کی جائے کہ”جس ميں سزا ہو وہ کبيرہ ہے۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اور اس تعریف کی بناء پر جس ميں شديد وعيد ہو وہ کبيرہ نہيں ليکن چونکہ دھوکا،ایذائے مسلم اور ذخيرہ اندوزی وغيرہ ميں شديدوعيد ہے، لہٰذامناسب يہی تعريف ہے کہ”کبيرہ گناہ وہ ہے جس ميں شديد وعيد ہو۔”
    پھر ميں نے علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے کلام کو ديکھا کہ انہوں نے ارشاد فرمایا:” الروضۃ ميں بعض کومطلقاً صغيرہ قرار دينا محلِ نظر ہے۔”گویا میں نے جس بات کا تذکرہ کیا ہے اور علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بھی جس کی جانب اشارہ کیا ہے یہی وہ سبب ہے جس کی بناء پر میں نے اختصار سے کام لیتے ہوئے الروضۃ کی مذکورہ مثالوں میں سے بعض کو حذف کر دیا۔
    نجش سے مراد يہ ہے کہ کسی کاخودخریدنے کاارادہ نہ ہولیکن دوسرے گاہ ک کودھوکادينے کے لئے قيمت ميں اضافہ کرے . 
    بيع علی البيع يہ ہے کہ کوئی شخص خيار کے زمانے ميں خريدنے والے سے کہے:”يہ واپس کر دے اور ميں تجھے اس سے اچھی چيز اسی قيمت ميں يا اس جيسی اس سے کم قيمت ميں فروخت کرتاہوں۔”
    شراء علی الشراء يہ ہے کہ خيار کے زمانے ميں بيچنے والے سے کہے:”بيع فسخ کر دے تاکہ ميں يہ چيز زيادہ قيمت ميں تجھ سے خریدلوں۔” ۱؎
    ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:” دوسرے کے سودے پراس کی اجازت کے بغیر سودا کرنا حرام ہے يعنی قيمت طے ہو جانے کے بعد قيمت ميں اضافہ کرنا يا خريدنے والے کو اچھی چيز دکھانا۔ بيع طے ہونے کے بعد ایسا کرنا حرام ہے اور بیع لازم ہونے سے قبل ايسا کرنا اس سے بھی زیادہ حرام ہے، اور يہی دوسرے کی بيع پر بيع اوراُس کی شراء پر شراء کرنا ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ہاں اگردھوکے والا مال ہو تو سیدناابن کج رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک يہ بيع جائز ہے۔
    مناسب یہی ہے کہ ان کے اطلاق کے مطابق ہی ہو نیز حدیثِ پاک میں بھی کوئی فرق نہیں، نیز ایک شخص کا بیع کے لزوم سے قبل مشتری کو کوئی چیز بیچنا اسی طرح ہے کہ اس نے اس سے وہ چیز کم قیمت میں خریدی ہو جیسا کہ بیع علی البیع کی تعریف ہے اور مشتری سے بیع کے لزوم سے قبل زیادتی کا مطالبہ کرنا بھی شراء علی الشراء کی طرح ہے کیونکہ يہ دونوں صورتيں فسخ کی طرف لے جاتی ہيں اور نقصان حاصل ہوتا ہے۔
۱؎:صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”نجش مکروہ ہے حضوراقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا۔نجش یہ ہے کہ مبیع کی قیمت بڑھائے اورخودخریدنے کاارادہ نہ رکھتاہواس سے مقصودیہ ہوتاہے کہ دوسرے گاہ ک کورغبت پیداہواورقیمت سے زیادہ دے کرخریدلے اوریہ حقیقۃًخریدارکودھوکادیناہے جیساکہ بعض دکانداروں کے یہاں اس قسم کے آدمی لگے رہتے ہیں گاہ ک کودیکھ کرچیزکے خریداربن کردام بڑھادیاکرتے ہیں اوران کی اس حرکت سے گاہ ک دھوکاکھاجاتے ہیں۔گاہ ک کے سامنے مبیع کی تعریف کرنااوراس کے ایسے اوصاف بیان کرناجونہ ہوں تاکہ خریداردھوکا کھا جائے یہ بھی نجش ہے۔”        (بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۱،ص۷۳۔۷۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۱؎:صدر الشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمدامجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بیع علی البیع اور شراء علی الشراء کاحکم بیان کرتے ہوئے تحرير فرماتے ہيں :”ایک شخص کے دام چکالینے کے بعددوسرے کودام چکاناممنوع ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ بائع ومشتری ایک ثمن پرراضی ہوگئے صرف ایجاب وقبول ہی یامبیع کواٹھاکردام دے دیناہی باقی رہ گیاہے دوسراشخص دام بڑھاکرلیناچاہتاہے یادام اتناہی رہے گامگردکاندارسے اس کامیل ہے یایہ ذی وجاہت شخص ہے دکانداراسے چھوڑکرپہلے شخص کونہیں دے گا۔”
    مزید فرماتے ہيں :”جس طرح خریدارکے لئے یہ صورت ممنوع ہے بائع کے لئے بھی ممانعت ہے۔مثلاًایک دکاندارسے دام طے ہوگئے دوسرا کہتاہے میں اس سے کم میں دوں گایاوہ اس کاملاقاتی ہے کہتاہے میرے یہاں سے لو میں بھی اتنے ہی میں دوں گایااجارہ میں ایک مزدورسے اجرت طے ہونے کے بعددوسراکہتاہے میں کم مزدوری لوں گایامیں بھی اتنی ہی لوں گایہ سب ممنوع ہیں۔” (بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۱،ص۷۴)
error: Content is protected !!